تین طلاق، حکومت، یکساں سول کوڈ اور مسلم پرسنل لا بورڈ

Oct 17, 2016 12:15 PM IST | Updated on: Oct 17, 2016 12:15 PM IST

جب 80  کی دہائی میں شاہ بانو کیس منظر عام پر آیا تھا اور سپریم کورٹ کے ایک فیصلے سے مسلمانوں میں اضطراب پیدا ہوا تھا تو اس کے خلاف ایک زبردست تحریک چلائی گئی تھی۔ وہ تحریک گاوں گاوں  اور شہروں شہروں چلی تھی اور مسلمانوں میں بے مثال اتحاد دیکھنے کو ملا تھا۔ مسلکی اختلافات کے باوجود تمام مسلمان ایک پلیٹ فارم پر آگئے تھے اور ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئے تھے۔ بالآخر حکومت کو جھکنا اور ایک قانون وضع کرنا پڑا تھا۔ یہ بات الگ ہے کہ حکومت نے جو قانون بنایا وہ انتہائی لولا لنگڑا تھا اور اس کی آڑ میں آج بھی عدالتوں میں شریعت مخالف فیصلے ہو رہے ہیں۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ اس وقت کی حکومت نے مسلمانوں کو وہ لولا لنگڑا قانون دینے کے عوض ان سے بابری مسجد چھین لی تھی جس کی بہر حال اسے قیمت بھی چکانی پڑی۔ خیر یہ الگ قضیہ ہے۔ آج ایک بار پھر مسلمان اُسی درد اور کرب میں مبتلا ہیں جس میں اُس وقت تھے۔ آج ایک بار پھر ان کے مذہب پر تلوار لٹکا دی گئی ہے۔ ایک نشست میں تین طلاق کا مسئلہ عدالت عظمیٰ میں ہے اور حکومت نے اس کے خلاف ایک حلف نامہ داخل کر دیا ہے۔ تین طلاق کا مسئلہ بھی اختلافی ہے۔ بعض کے نزدیک ایک مجلس کی تین طلاقیں ایک ہی سمجھی جائیں گی جبکہ بعض کے نزدیک وہ تین مانی جا ئیں گی۔

اس فقہی اختلاف کے باوجود آج ایک بار پھر مسلمانوں میں ایک مثالی اتحاد ابھرتا ہوا نظر آرہا ہے۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ویسی ہی تحریک جو شاہ بانو معاملے میں اٹھی تھی ایک بار پھر کروٹیں لے رہی ہے اور اگر حکومت کی ضد اور ا س کی ہٹ دھرمی اسی طرح قائم رہی تو کوئی تعجب نہیں کہ اسی طرح یا اس سے بھی بڑھ کر ایک تحریک کھڑی ہو جائے اور پورے ملک کے مسلمان خود کو ایک لڑی میں پرو لیں۔ قائدین ملت کی سطح پر ا س اتحاد کا مظاہرہ ۳۱ اکتوبر کو پریس کلب آف انڈیا میں دیکھنے کو ملا جب آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے زیر اہتمام ایک پریس کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ اس میں تمام مسلکوں اور جماعتوں کے اعلیٰ نمائندے شامل رہے۔ جو موجود نہیں تھے وہ کسی ناگزیر وجہ سے وہاں تک کوشش کے باوجود پہنچ نہیں سکے تھے۔

تین طلاق، حکومت، یکساں سول کوڈ اور مسلم پرسنل لا بورڈ

ابھی تک ہوتا یہ آیا ہے کہ حکومت یا کوئی جماعت کوئی شوشہ چھوڑتی ہے اور مسلمان اس کے رد عمل میں دوڑ پڑتے ہیں۔ لیکن شائد یہ پہلی مرتبہ ہوا کہ مسلم پرسنل لا بورڈ کی اس پریس کانفرنس نے سیاست کے خاموش سمندر میں ایک زوردار پتھر اچھال دیا جس سے ایک تموج پیدا ہوا اور حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے بھی الگ الگ انداز میں رد عمل ظاہر کیا جا رہا ہے۔ بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا ولی رحمانی کے اس جملے نے میڈیا میں بھی ہلچل پیدا کر دی کہ وزیر اعظم نریندر مودی اپنی ڈھائی سالہ حکومت کی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے اندورن ملک مسلمانوں کے خلاف ایک دوسرا محاذ کھول رہے ہیں۔ حکومت سے سرحد کا تحفظ تو ہو نہیں رہا ہے وہ مسلمانوں کے خلاف جنگ کا محاذ کھول رہی ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ اس سے قبل مسلمانوں کی کسی پریس کانفرنس کو اس قدر کوریج ملا ہو، خاص طور پر مسلم پرسنل لا بورڈ کی پریس کانفرنس کو۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ اس کانفرنس نے حکومت کو بوکھلاہٹ میں مبتلا کر دیا ہے۔ کسی نہ کسی کو سامنے آکر بورڈ کو جواب دینا تھا سو مرکزی وزیر وینکیا نائڈو سامنے آگئے۔ انھوں نے جو بیان دیا اس سے لگتا ہے کہ وہ بڑے غصے میں ہیں۔ ان کو اور پوری حکومت کو بورڈ کا لب و لہجہ اور انداز گفتگو بہت ناگوار گزرا ہے۔ جبھی تو انھوں نے جلال میں آکر کہا کہ تین طلاق کا معاملہ عدالت میں ہے، وزیر اعظم کا نام اس قضیے میں مت گھسیٹئے، سیاسی بیان بازی مت کیجیے اور اگر کرنی ہی ہے تو کسی سیاسی جماعت میں شامل ہو جائیے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ تین طلاق اور یکساں سول کوڈ دونوں الگ الگ معاملے ہیں۔ دونوں کو خلط ملط مت کیجیے۔

ایک دوسرے وزیر روی شنکر بھی میدان میں آگئے۔ انھوں نے بھی یکساں سول کوڈ کی پرزور انداز میں حمایت کی۔ صرف حزب اقتدار نہیں بلکہ حزب اختلاف نے بھی بورڈ کی پریس کانفرنس کے بعد بیانات کا سلسلہ شروع کر دیا۔ کانگریس کے کئی لیڈر میدان میں آگئے۔ بعض نے مصلحت آمیز بیان دیا تو بعض کھل گئے۔ مثال کے طور پر کانگریس کی ترجمان شوبھا اوجھا نے تین طلاق کے معاملے پر دامن بچاتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں ہے اور جو بھی فیصلہ ہوگا ہم اس کا احترام کریں گے۔ اس بیان کو اتر پردیش میں ہونے والے انتخاب کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے اور سیاسی مبصرین کے مطابق کانگریس تین طلاق کے خلاف کوئی بیان دے کر اتر پردیش کے مسلمانوں کی ناراضگی مول لینا نہیں چاہتی۔ جبکہ سابق وزیر قانون ویرپا موئلی نے کھل کر تین طلاق کی مخالفت کی اور کہا کہ مسلمانوں کو اس معاملے میں اصلاح کرنی چاہیے اور اپنے رویے میں تبدیلی لانی چاہیے۔ بعض دوسری جماعتوں نے بھی اس معاملے پر حکومت کی حمایت کی ہے۔ یعنی وہ بھی یہ سمجھتی ہیں کہ مسلمان آئے دن اپنی بیویوں کو تین تین طلاقیں دے کر گھروں سے نکال رہے ہیں اور یہ کہ مسلم خواتین پر بہت زیادہ ظلم ہو رہا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے بار بار یہ بات کہی جا رہی ہے کہ بہت سے مسلم ملکوں میں تین طلاق پر پابندی لگ چکی ہے۔

3

یہاں یہ بات بحث برائے بحث کہی جا سکتی ہے کہ کئی مسلم ملکوں میں تعدد ازدواج کا بھی چلن ہے اس کو بطور مثال کیوں نہیں پیش کیا جاتا۔ مسلم مخالفین کی جانب سے یہ دعویٰ کرکے عوام کو گمراہ کرنے کی بار بار کوشش کی جا رہی ہے کہ مسلمان جہا ں تین بار طلاق کہہ کر اپنی بیویوں کو چھوڑ دیتے ہیں وہیں ایک سے زائد شادیاں کرتے ہیں۔ حالانکہ سچائی یہ ہے اور یہ سچائی حکومت کی مردم شماری رپورٹ بیان کرتی ہے کہ عورتوں کو چھوڑنے اور ایک سے زائد شادیاں کرنے کا چلن مسلمانوں میں کم ہندووں میں زیادہ ہے۔ لیکن اس کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے اور گمراہ کن پروپیگنڈہ کرکے مسلمانوں کو بدنام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ سیاست دانوں میں بھی ایسے بہت سے لوگ ہیں جن کی ایک سے زائد بیویاں ہیں لیکن ان سے کوئی نہیں پوچھتا کہ تمھارے منہ میں کتنے دانت ہیں۔ جہاں تک یکساں سول قانون کا معاملہ ہے تو یہ بات تو مسلمان بھی کہتے ہیں اور غیر مسلم بھی، سیاست داں بھی اور سماجی مشاہدین بھی کہ یکساں سول قانون اس ملک میں نافذ ہو ہی نہیں سکتا۔ یہ ملک کثیر النسل، کثیر التہذیب اور کثیر المذاہب ملک ہے۔ سب کی اپنی اپنی تہذیبیں اور ثقافتیں ہیں، اپنے اپنے رسوم و رواج ہیں۔ اور یہ رنگا رنگی ہی ہندوستان کی خوبصورتی ہے۔ بھلا سب کو ایک ہی رنگ میں کیسے رنگا جا سکتا ہے۔ حکومت کے ذمہ داران بھی اس حقیقت کو سمجھتے ہیں۔ اس کے باوجود لاءکمیشن کے ذریعے ایک سوالنامہ عوام کے سامنے رکھ دیا گیا ہے اور ان سے پوچھا جا رہا ہے کہ کیا اس ملک میں یکساں سول کوڈ نافذ کر دیا جائے۔

پہلی بات تو یہ کہ مذکورہ سوالنامہ کو جن لوگوں نے دیکھا ہے وہ یہ بات تسلیم کریں گے کہ وہ انتہائی گمراہ کن ہے اور انتہائی مشکل بھی ہے۔ جو آبجکٹیو ٹائپ کے سوالات قائم کیے گئے ہیں ان کے جوابات سے وہی نتیجہ نکلے گا جو حکومت چاہتی ہے۔ یہاں ایک اور گمراہ کن بات کی جانب اشارہ ضروری ہے کہ حکومت کہتی ہے کہ تین طلاق اور یکساں سول کوڈ کے معاملے الگ الگ ہیں، دونوں کو ایک میں نہ ملائیے۔ لیکن لاءکمیشن کے سوالنامہ میں بھی تین طلاق موجود ہے اور عوام سے پوچھا گیا ہے کہ تین طلاق کو ختم کر دیا جائے یا یوں ہی رہنے دیا جائے یا مناسب ترمیم کے ساتھ رکھا جائے۔ یعنی حکومت اس معاملے میں گمراہ کن رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ جب حکومت بھی جانتی ہے کہ اس ملک میں یکساں قانون نافذ نہیں ہو سکتا تو اس نے یہ شوشہ کیوں چھوڑا۔ اس کا جواب سیاست داں بھی وہی دے رہے ہیں جو سیاسی مشاہدین دے رہے ہیں۔ یعنی یہ شوشہ محض اتر پردیش اور دوسری ریاستوں میں ہونے والے انتخابات کی وجہ سے چھوڑا گیا ہے تاکہ اس بنیاد پر رائے دہندگان کو الگ الگ خیموں میں بانٹا جائے اور سیاسی فائدہ اٹھایا جائے۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ مسلمان یکساں سول قانون کی اتنی شدت سے مخالفت کیوں کر رہے ہیں۔ وہ اس وجہ سے کر رہے ہیں کہ وہ اس ملک کی سب سے بڑی اقلیت ہیں اور ان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اقلیتوں کے خلاف کی جانے والی کسی بھی سازش کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور اسے ناکام بنا دیں۔

نوٹ : مضمون نگار ایک معروف صحافی اور تجزیہ کار ہیں۔

 sanjumdelhi@gmail.com

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز