بلقیس ! میری بہن! میں تم سے شرمندہ ہوں

May 04, 2017 04:03 PM IST | Updated on: May 04, 2017 04:03 PM IST

بلقیس ! میری بہن! میں تم سے شرمندہ ہوں

واضح رہے کہ 2002 میں گجرات فسادات کے دوران 19 سال کی بلقیس بانو کی اجتماعی عصمت دری کی گئی، اس وقت وہ 5 ماہ کی حاملہ تھیں۔ مجرموں نے بلقیس بانو کے خاندان کے 14 افراد کوقتل کیا تھا اور فسادات کے دوران وہ نیم کھیڑا میں رہتی تھیں۔۔

بلقیس ! میری بہن! میں تم سے شرمندہ ہوں۔ میں نے مارچ ۲۰۰۲ کے آخری ہفتے میں گودھرا کیمپ میں تمہاری درد بھری داستان خود تمہارے منہ سے سنی تھی اور پھر اسی دن شام کو ہزاروں کے مجمع عام میں ولولہ انگیز تقریر کرتے ہوے تم کو انصاف دلانے کے لئے آخری سانس تک جد و جہد کرنے کے عزم کا اظہار بھی کیا تھا۔ مگر دلی واپس آنے کے بعد بس ایک پریس ریلیز جاری کر دینے کے سوا کچھ نہیں کیا اور تم مسلسل پندرہ سال اسی درد اور کرب کو اپنے سینے میں لئے ٹیسٹا کے ساتھ مل کر انصاف کی جنگ لڑتی رہیں۔

میں تمہارا دینی بھائی خاموش ہو گیا مگر ٹیسٹا جس کا رشتہ تم سے محض شہریت کی بنیاد پرہے وہ نہیں تھکی اور آج آخر کار تم کو انصاف دلوا کے دم لیا۔ میں اسے سلام کرتا ہوں۔ ہم تمہارے مجرم ہیں کہ ہماری تنظیمیں جن میں سے ایک کی نمائندگی میں گودھرا میں کر رہا تھا انہوں نے تم پر ہونے والے ظلم کے نام اور تمہارے جیسے ہزاروں مظلومین کے نام پر ملک کے اندر اور باہر سے سینکڑوں کروڑ روپے جمع کیے ان میں سے کچھ کی پروجیکٹ رپورٹ خود میں نے تیار کی تھی مگر انہوں نے بس ملت نگر، اسلام نگر، مجاہد نگر جیسے جانے کتنے سلم آباد کر کے جانے کتنے لوگوں کو عذاب بھری زندگی کے جہنم میں جیتے جی ڈھکیل کے اپنی پیٹھ تھپتھپائی مگر کسی مجرم کے خلاف انصاف کی دیر پا لڑائی نہ لڑ سکے اور اور باقی کروڑں روپے ہضم کر کے ڈکار بھی نہ لی۔ پیسے ٹیسٹا نے بھی جمع کئے مگر مظلومین کی دادرسی پر خرچ بھی کئے اور اس جرم میں آج تک ظالموں کے نشانے پر بھی ہے۔

کسی نے ٹھیک کہا کہ اللہ کو جس سے کام لینا ہوتا ہے لے لیتا ہے۔ لے بھی لیا۔ مگر اللہ کے نام پر ہم اپنی ذمے داریوں ، جواب دہی اور محاسبے سے فرار اختیار نہیں کر سکتے۔ ہم بے ایمان ہو جایئں گے تو دوسروں سے کام لے لینا اللہ کی سنت ہے۔ مگر مجھے اس اعتراف میں کوئی جھجک نہیں کہ ان معاملات میں ہمارا طرز عمل مجرمانہ ہے۔ یہاں شاید کوئی عدالت یا ادارہ ہمارا محاسبہ نہ کرے مگر اللہ کے یہاں تو بالاخر حساب دینا ہی ہوگا۔ خوش رہو بلقیس میری بہن، میں ندامت کے چند آنسووں کے سوا تمہیں کچھ نہیں دے سکتا۔

نوٹ : مضمون نگار مسلم پولیٹیکل کونسل کے صدر ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز