کیا بی جے پی نے یوپی میں اپنی ہار کی اسکرپٹ خود ہی لکھ ڈالی ہے ...؟

Jul 21, 2016 12:28 PM IST | Updated on: Jul 21, 2016 12:28 PM IST

آسام میں جیت کے بعد بی جے پی جس نئی توانائی کے ساتھ یوپی انتخابات میں اتری تھی اب لگ رہا ہے کہ یہ توانائی کچھ بی جے پی لیڈروں اور کچھ دیگر حالات کے مدنظر کمزور پڑتی نظر آ رہی ہے۔ یوپی جیت کا خواب دیکھ رہی بی جے پی اب بیک فٹ پر ہے اور اس کے سپہ سالار کو پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر معافی مانگنا پڑ رہا ہے۔

معلوم ہو کہ گزشتہ کچھ دنوں سے گجرات میں دلتوں کے ساتھ مار پیٹ کا معاملہ کافی گرم ہے۔ بدھ کو بی جے پی دونوں ایوانوں میں اسے لے کر کافی لاچار نظر آئی۔ اس پر بی جے پی کے یوپی اکائی کے نائب صدر کا بی ایس پی سپریمو مایاوتی کو لے کر دیا گیا انتہائی قابل اعتراض بیان آگ میں گھی ڈالنے والا رہا۔ اس بیان کے چلتے خود جیٹلی کو راجیہ سبھا میں افسوس جتانا پڑا۔ دوسری طرف ایک طویل عرصہ سے کوئی بڑی دلت مہم چھیڑنے کو لے کر تذبذب میں چل رہیں مایاوتی کو دلتوں کو متحرک  اور پرجوش کرنے کا ایک مضبوط ہتھیار مل گیا۔

کیا بی جے پی نے یوپی میں اپنی ہار کی اسکرپٹ خود ہی لکھ ڈالی ہے ...؟

نتیجہ آج ہم سب کے سامنے ہے۔ سالوں بعد بی ایس پی ایک نئی توانائی کے ساتھ یوپی میں سڑکوں پر اتر آئی ہے۔ اس کے کارکنان گلی گلی جاکر مہم چھیڑنے کا اعلان کر رہے ہیں۔ لکھنؤ نیلے رنگ میں پٹ گیا ہے۔ جانکار مانتے ہیں کہ بی جے پی لیڈر کی یہ غلطی پارٹی کو یوپی میں انتہائی بھاری پڑنے والی ہے۔

دراصل یوپی کے اقتدار کی کنجی دلت ہیں یہ بی جے پی بخوبی جانتی ہے۔ اسی لئے امت شاہ گزشتہ دنوں کنبھ میں دلتوں کے ساتھ نظر آئے۔ انہوں نے دلتوں کے یہاں جاکر کھانا بھی کھایا اور پی ایم مودی ایک نہیں کئی بار دلتوں کے معاملے پر بول چکے ہیں۔ یاد کیجئے وہ گزشتہ سال اکتوبر میں ممبئی میں امبیڈکر کی مورتی کے سنگ بنیاد کے لئے بھی گئے تھے۔ یوپی کی راہ آسان ہو اس کے لئے کابینہ کی توسیع میں کئی دلتوں - رام داس اٹھاولے اور کرشنا راج کو بھی لیا۔ ساتھ ہی بی جے پی کا یوپی ریاستی صدر ایک او بی سی کو بنایا گیا ہے۔

لیکن بی جے پی کی یہ کوششیں اب بیکار سی ہوتی نظر آ رہی ہیں۔ 2014 کے عام انتخابات میں جو دلت ان سے چھٹک کر بی جے پی کی جھولی میں چلا گیا ہے وہ اب واپس اپنے پرانے گھر لوٹتا سا نظر آ رہا ہے۔ مایا کو لوک سبھا انتخابات میں ایک بھی نشست نہیں ملی تھی۔ یہ تکلیف ان کے لئے اس وجہ سے انتہائی بھاری تھی کیونکہ یوپی میں ان کا مضبوط دلت ووٹ بینک سمجھا جاتا رہا ہے۔ انتخابی شطرنج میں بی جے پی کی یہ غلطی اسے کتنا نقصان پہنچائے گی یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن مایا کو اس کا ایک بڑا فائدہ تو یقینی طور پر مل ہی چکا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز