جمہوریت کو درپیش خطرات

Dec 23, 2016 04:17 PM IST | Updated on: Dec 23, 2016 08:29 PM IST

یوں تو دنیا میں ہمیشہ ہی سے کئی طرح کے طرزِحکومت موجود رہے ہیں ،مگر موجودہ دور میں زیادہ تر ملکوں میں جمہوری نظامِ حکومت ہی رائج ہے اور نہ صرف یہ کہ رائج ہے ، بلکہ کئی صدیاں گزرنے کے بعد بھی حکومت کرنے کے سب سے بہتر اورآخری متبادل کے طور پر اپنی شناخت اور بنیاد آج تک قائم کئے ہوئے ہے۔ اس پر طرّہ یہ ہے کہ اس نظام حکومت کو ’عوام کی حکومت ‘کا قابل فخر ٹیگ بھی ملا ہوا ہے۔

مگرافسوس !اس عوامی طرزِ حکومت کے سامنے کبھی فاشزم اپنی لنگوٹ باندھ کے سیاسی اکھاڑے میں آ دھمکتا ہے، تو کبھی مٹھی بھراشرافیہ ،کچھ منھ پھٹ اور گھاگھ قسم کے جوشیلے لفّاظ اور ڈیموگاگ اسے اورٹیک کرنے کی مختلف ہتھکنڈے آزماتے ہیں۔ کچھ اسی قسم کی حکمرانی کی سیاسی چونچلے بازیاں پانچ سو قبلِ مسیح بھی رہی ہونگی جب آمرانہ طرزِ حکومت اور اسکے تحت ہونے والی مختلف طرح کی ظلم وزیادتی سے لوگ بہت زیادہ دلبرداشتہ ہوگئے تھے تو قدیم یونانی شہرایتھنز کے ایک باشندےکلائیس تھنیز نے اس جابرانہ نظامِ حکومت کو تبدیل کر کے پہلی بار جمہوری نظامِ حکومت کی داغ بیل ڈالی تھی جو صحیح معنوں میں جنتا اور عوام کی پہلی حکومت تھی ، جس میں عام جنتا کے تمام فیصلے کسی ایک شخص کی آمرانہ حکم فرمائیوں کے مرہونِ منت نہ تھے بلکہ عوام کی طرف سے منتخب عوامی نمائندے ہی یہ فیصلے کررہے تھے۔ عوام اور سماج کے دبے کچلے لوگوں کو یہ نیا نظامِ حکومت بہت پسند آیا۔بعد میں اس جمہوری طرزِ حکومت کو یونان کی دیگر مملکتوں نے اپنایا اور پھر دنیا کے کئی ملکوں اورریاستوں میں یہ مقبولِ عام ہوگیا۔ اور ہم دور کیوں جائیں خودقدیم ہندوستان میں جب مگدھ کےدھننجے، تکشلا کے آمبھی اورکیکئی کے پورس جیسےجن ورودھی اور عوام مخالف تاناشاہوں نے بھارتی عوام پر قہر برپا کررکھا تھا تو مگدہ کا ایک باشندہ اورتکشلا یونیورسٹی کے آچاریہ چانکیہ نے اپنے شاگرد چندرگپت موریہ کو ساتھ لےکربڑی دانشمندی اور چالاکی سے سارے تاناشاہوں کے تختے یکے بعد دیگرے الٹ کرموریہ سلطنت کی بنیاد رکھی تھی اور پہلے سےکئی ریاستوں اورمملکتوں میں بٹے بھارت کو پہلی بار ایک لڑی میں پروکرمہان اوراکھنڈ بھارت کا سپنا ساکار کیا تھا۔ عوام کی بھلائی، ترقی اور ان کےحقوق کی حفاظت ہی اس سلطنت کا واحدمقصد تھا جسے چندر گپت، بندوسار اور اشوک جیسےعظیم بھارتی سمراٹھوں نے کئی پشتوں تک بخوبی پورا کیا۔ ہندوستان کے معروف مؤرخ کے ۔پی۔جیسوال نے اپنی کتاب ہسٹری آف انڈیا میں لکھا ہے کہ ہندوستان کے شمال مشرقی علاقوں میں چھ سو قبلِ مسیح سے لےکر چار سو قبلِ مسیح تک ، یہاں تک کہ افلاطون کے (دی ریپبلک) لکھے جانے سے کئی سال پہلے، چند جمہوری ریاستیں قائم تھیں جن کی راجدھانی ویشالی تھی، ایسے ہی نظامِ حکومت کو سنسکرت میں (مہاجنپد) کہا گیا ہے۔

جمہوریت کو درپیش خطرات

علامتی تصویر

جدید دنیا میں سب سے پہلےمغرب کی کئی حکومتوں نے اس جمہوری اور پارلیمانی نظام کو اپنے یہاں نافذ کیا لیکن یہی حکومتیں دنیا کے مختلف خطوں میں صدیوں تک سامراجیت جیسی بد ترین وبا کو فروغ دیتی رہیں۔ البتہ وہاں کے باشندے سامراجی طاقتوں کے ظلم وستم سے تنگ آکرجب اپنی اپنی سرزمین پہ ان کے وجود اور بقاکےلئے خطرہ بن گئے توان طاقتوں نے وہاں سے راہِ فرار اختیار کرنے میں ہی عافیت سمجھی، لیکن جاتے جاتے یہ جمہوری نظامِ حکومت انہیں سوغات کے طور پردے گئیں۔ ان میں سے کچھ نے اس کی شکل بگاڑ کر بڑی ہوشیاری سے عوامی اورجمہوری حکومت کے بجائے اسے خالص اشرافیہ کی حکومت میں تبدیل کردیا جسے انگریزی میں (اولیگارکی) کہتے ہیں یعنی حکومت اور سیاسی طاقت ہمیشہ مٹھی بھر لوگوں کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی بن کررہ جائے۔عرب ایسی ناقص جمہوری حکومتوں کو جھوٹی ڈیموکریسی (دیموقراطیہکاذبہ)کےنام سےیاد کرتے ہیں۔ ایشیا اور افریقہ میں کئی عرب حکومتیں ایک زمانے تک اسی طرزِ حکومت کا نمونہ بنی ر ہیں جہاں ایک ہی شخص تیس تیس، چالیس چالیس سال تک سیاسی طاقت کی باگ ڈور پکڑے بیٹھا رہا۔ ایسی ساری حکومتوں سے اوب کروہاں کی عرب عوام نے پچھلے کئی سالوں میں ان کے خلاف انقلابی مہم چلائی جسے آج دنیا عرب اسپرنگ کہتی ہے، لیکن اس کے باوجود بھی ان کی حالتِ ذار میں ذرا بھی سدھار نہیں آیا بلکہ اور الٹاان کی حالت اور بھی بد تر اور ناگفتہ بہ ہوگئی۔ جبکہ کچھ دوسری ریاستوں میں سامراجیت ختم ہونے کے بعد جمہوریت قائم تو ہوئی لیکن فوج کے جرنیلوں نےوقفے وقفے سے ان کا گلا گھوٹ کر خود مختار اورمالکِ کل بن بیٹھے۔ چاہے وہ عراق کے صدام حسین رہے ہوں یا لیبیا کے معمر قذافی، مصر کے حسنی مبارک ہوں یا پاکستان کے جنرل ضیاء الحق اور پرویز مشرف، یوگنڈا کے عیدی امین ہوں یا کمبوڈیا کے پول پاٹ, سبھی نے تاناشاہی کی ایسی مثالیں قائم کیں جسے سن کر انسانیت بھی سہم جائے۔

دنیا کی اور ریاستوں میں بھی جمہوریت قائم ہے جہاں انتخاب کی حد تک عوامی شراکت تو موجود ہے لیکن ووٹوں کی حصولیابی کے بعد کا ساراسیاسی کھیل چند لوگوں تک محدود ہوکر رہ جاتا ہے۔ جو لوگ عوام کی نمائندگی کرتے ہیں پانچ سالہ سیاسی اٹھا پٹخ اورہلچل میں دور دور تک اور کہیں سے کہیں تک ان کی آواز سنائی نہیں دیتی۔ عوام روزمرہ کی استعمال کی چیزوں اوراشیائے خوردونوش کی بے تحاشہ بڑہتی ہوئی قیمتوں سے نڈھال انتہائی لا چارگی کی حالت میں زندگی بسر کرتی ہے لیکن مجال ہے کہ کوئی منتخب نمائندہ اس پانچ سال کے طویل عرصے میں انکی خبر گیری کرسکے اور انکا پرسانِ حال ہوسکے۔ ایسی تمام جمہوریتوں کی عوام کی یہ صورتِ حال بہت ہی دردناک اور بھیانک ہے۔

ہر دور میں جمہوریت کوجو سب سے بڑا مسئلہ در پیش رہا ہے وہ ہے سیاسی طاقت کا چند اشرافیہ تک محدود ہونا یعنی (اولیگارکی) ۔دورِ حاضر کے مشہور امریکی پولیٹکل سائنٹسٹ جیفری ونٹرس اپنی مایہ ناز کتاب (اولیگارکی)میں لکھتا ہے کہ افسوس! اولیگارکی اور جمہوریت دونوں ہی ایک ہی نظام اورسسٹم کے تحت کام کرتے ہیں اورامریکا کی سیاست میں ان دونوں کا آپسی کھیل روز ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ جیفری ونٹرس آج کئی صدیوں کے بعد جسسیاسی کھیل پر افسوس ظاہر کر رہا ہے، امریکا کو جمہوری نظام عطا کرنے والے بنجمن فرینکلن نےاپنے ایک جواب سے بہت پہلے اس کی طرف واضح لفظوں میں اشارہ کر دیا تھا ۔ یہ بات ۱۷۸۷ کی ہے جب امریکی آئین کی کانفرس چل رہی تھی، اس کے خاتمے پر ایک امریکی خاتون نے بنجمن فرینکلن کو مخاطب کر کےبڑے ادب سے پوچھا تھا :سر! آپ نے ہمیں کیا عطا کیا ہے، جمہوریت یا بادشاہت؟ فرینکلن نے جواب میں کہا تھا : ریپبلک، میم! اگر آپ اسے برقرار رکھ سکیں! فرینکلن کا یہ معنی خیز جملہ مستقبل کی کوکھ میں پل رہے کئی اندیشوں کی طرف ایک صاف اشارہ تھا ۔ اسی زمانے کا ایک مشہور پولیٹکل فلسفی سموئل اڈمس نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ جمہوریت اپنے اصولوں پر کبھی بھی زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتی، یہ بہت جلد تھک ہار کر ضائع ، بیکار اور اپنے راستے سے بھٹک جائے گی۔ سموئل کی یہ پیشین گوئی آج کی سبھی موجودہ جمہوریتوں پر صادق آرہی ہے۔مٹھی بھر اشرافیہ آج سیاسی ناگوں کی شکل میں ہمیں دنیا کی مختلف ریاستوں اور مملکتوں میں ڈس رہے ہیں۔

جمہوری اصولوں کی بقا کو آج سب سے بڑا خطرہ جولاحق ہےوہ ہے قومیت اور علاقائیت کے نام پر عوام کو بیوقوف بنانا، نسلی بھید بھاؤ اورمذہبی منافرت کے ذریعے سماجی تانے بانے اور امن وشانتی اوربھائی چارے کو ختم کرنا۔ دنیا آج اسے ڈیموگاگری کے نام سے جانتی ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ جبیوروپ میں بادشاہت دم توڑ رہی تھی، وہاں کے سماج میں عوامی انقلاب رونما ہو رہا تھا اورجمہوریت کے قیام کی موہوم سی کوششیں فروغ پارہی تھیں ۔ یہ دور بیسویں صدی کے نصف اول کا دور تھا، اسی دور میں اٹلی میں مسولینی، جرمنی میں ہٹلر، روس میں لینن اور اسٹالین، ترکی میں کمال اتاترک، البانیا میں احمد زوغو، پرتگال میں انطونیو سالازار اور اسپین میں جنرل فرانسیسکو فرانکو جیسے لیڈر عوام کو سبز باغ دکھانے والے، جھوٹے نعروں پر تالیاں بٹورنے والے اورنسلی اور مذہبی منافرت پھیلا کر طاقت میں بنے رہنے والے لفّاظ اور بھاشن باز (ڈیموگاگ) پیدا ہوئے۔ اورآج اکیسویں صدی کے ربعِ اول میں ایک بار پھراسی طرح کی کوششیں جاری ہیں ۔ زمان ومکان گرچہ بدل گئے ہیں لیکن فلم کی پوری اسکرپٹ ہو بہو وہی ہے ، سارے مکالمے اور ڈائلاگ وہی ہیں ، بس اس بار نائک بدل گئے ہیں۔ہندوستان میں ۲۰۱۴ کے جنرل الیکشن میں جس طرح کے جوشیلے نعرے لگے، بھارتی عوام کو جس طرح کا سبز باغ دکھائے گیے ، ان سے جو وعدے کیے گئے اور جس قسم کی لفّاظیاں اور بھاشن بازیاں سامنے آئیں وہ سب کی سب جھوٹ کا پلندہ ،فریب اور پاکھنڈ کا پٹارا تھیں ۔حد تو تب ہوئی جب بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر نے ان پُرفریب وعدوں کو چناوی جملہ بازی کہہ کر پورے ہندوستانی عوام کے اعتبار کا ٹھٹھول اور مذاق بنایا۔ خود کو نیشنلیسٹ بتانے والی اس پارٹی نے جب سے اقتدار کی باگ ڈور سنبھالی ہے ایک خاص قسم کی زہریلی سیاست کے ذریعہ سماج میں نفرت کا بیج بو رہی ہے ۔ اچھے دنوں کا نعرہ لگانے، ترقیاور وکاس کا ڈھنڈھورا پیٹنے والی یہ پارٹی کچھ کرے یا نا کرے ، سماج میں نفرت اور بٹوارے کی ایسی کھائیاں کھودرہی ہے جوبہت لمبے عرصے تک بھی بھرنے والی نہیں ہیں۔

یہ صرف ہندوستان کا ہی مسئلہ نہی بلکہ خود کو ترقی یافتہ، تہذیب یافتہ، رواداری اور جمہوریت کا سچا پاسدار کہلانے والاامریکا بھی اپنے صدارتی انتخاب میں جمہوری نظام کو پوری دنیا کے سامنےشرمندہ کرتا ہوانظر آیا۔اس دفعہ امریکی صدارتی انتخاب میں جس قسم کی بڑ بولیاں سامنے آ ئیں، نسلی ،مذہبی اورعلاقائی منافرت پر مبنی ممیں چلائی گئیں، ان سے جمہوریت کی چولیں ہل گئیں ہیں۔ ٹرمپ جواب دنیا کی سب سےزیادہ طاقتور جمہوریت کی کرسیِ صدارت پرمتمکن ہونے کی سیاسی بساط پراپنی جیت درج کرواچکے ہیں، امریکی صدارتی انتخاب کے دوران دنیا کے سامنے اس دور کے سب سے بڑے ڈیموگاگاور لفّاظبنکر سامنے آئے ہیں ۔وہ کھلے عام میکسیکو کے مہاجرین کو ڈرگ اورجرائم کا سوداگر اور بلاتکاری اور زانی قرار دیتے ہیں ، فاکس نیوزکی خاتون اینکر میگن کیلی کو نشانہ بنا کر دنیا کی ساری خواتین کےماہواری جیسےفطری عمل کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اسلام کو نفرت پسند مذہب بتاتے ہیں اور امریکا میں مسلمانوں کی آمد پر پورے طور سے پابندی عائد کرنے کی بات کرتے ہیں۔

جمہوریت کی روزافزوں گرتی ہوئی ساکھ کے لیے صرف اور صرف سیاسی گلیاروں کے پنڈت اور بنئے ہی ذمہ دار نہیں ہیں ،بلکہاس کے لیے عوام بھی کسی نہ کسی حدتک ذمہ دار ضرورہے۔ہندوستان میں برسراقتدار پارٹی کے ذمہ دار اوروزیرِ اعظم مودی جی کے بھگت اپنے سوا سبھی کو غدار اور دیش دروہی قرار دیتے ہیں ، لو جہاد، گئو رکشا، اورگھر واپسی جیسے ہتھکنڈے اپنا کر اقلیتوں میں بے چینی اور خوف وہراس کا ماحول پیدا کرتے ہیں ، اختلافِ رائے رکھنے والوں کو سوشل میڈیا پر موٹی موٹی اور انتہائی غلیظ گالیاں دی جاتی ہیں۔ اور تو اور الیکٹرانک میڈیا جسے آج کے دور میں سچ کو سچ کہنے اور غلط کو غلط قراردینے کے لیے اپنا ایک مضبوط اور بے لچک کردار عوام کے سامنے رکھنا چاہیے،افسوس! اس کا ایک بڑا دھڑا مودی بھکتی میںمستومگن ہے۔ امریکا میں بھی صورتِ حال اس سے چنداںمختلف نہیں۔ منتخب امریکی صدرٹرمپ کی بڑبولیوں، زہر افشانیوں اورٹھٹھول بازیوںکے باوجود بھی وہاں کی عوام نے اسے اپنے ووٹوں کے ذریعہ صدارت کی کرسی پہ براجمان کرکے ہی دم لیا۔اور اس طرح جمہوریت کی روزافزوں گرتی ہوئی ساکھ کے لئےعوام بھی کسی نہ کسی قدر ضرور ذمہ دار ہے۔

دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے پاسداروں اور اس سے سچی محبت کرنے والوں کے لیے ایک اور بڑا مسئلہ یہ بھی ہمیشہ سے درپیش رہتا ہے کہ سوا سو کروڑ کی ایک بڑی آبادی والے ملک میں صرف اکتیس فیصد ووٹ حاصل کرنے والا بھی بہت بڑی فتح حاصل کرلیتا ہے اورباوجود اس کے کہ باقی انہتّر فیصد آبادی اس کے خلاف ہوتی ہے اور وہ پھر بھی پوری آن بان اورشان کے ساتھ ان پر مسلط ہو جاتا ہے۔ جمہوریت کے حوالے سے یہ اپنے آپ میں ایک طرح سے کوئی ایسی پہیلی نظر آتی ہے،جس پر جمہوریت کے ٹھیکیدار چڑھتے سورج کی طرح یقین رکھتے ہیں اور یہ جانتے ہوئے بھی رکھتے ہیں کہ یہ صریح طور پر غلط ہے ۔کیونکہ اکتیس فیصد لوگوں کی مرضی انہتر فیصد لوگوں پر مسلط کردی جاتی ہے جبکہ اسی جمہوریت میں کثرت رائے کو بڑی مضبوط بنیاد حاصل ہے۔ یہاں تک کہ پارلیمنٹ میں اور پارلیمنٹ کے باہر بھی جمہوری حکومت کا کوئی نمائندہ صرف ایک ووٹ کی کمی سے ہارجاتا ہے۔ اس مسئلے پر سیاسی پنڈتوں کے درمیان الیکٹرانک میڈیا پر ہزارہا بارتجزیاتی مباحثے ہو چکے ہیں لیکن یہ بڑی عجیب سی پہیلی ہے کہ اسے جتنابوجھو وہ اتنی ہی الجھتی جائے۔

سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ جمہوریت کو درپیش ان خطرات سے اسے کیسے بچا یاجائے۔ کیا جو کچھ ہورہا ہے اور جس طرح سے ہورہا ہے اسے اسی طرح ہونے دیا جائے یا پھر یہ کہ ان خطرات سےنپٹنے کے لیے کوئی نہ کوئی لائحہ عمل طے کرنا ضروری ہے۔ اس کے لیے ہمیں ان اسباب پہ غور کرنا بے حد ضروری ہوگا جن کی وجہ سے جمہوریت اِس دوراہے پہ آ کھڑی ہوئی ہے اور یہ دیکھنا ہوگا کہ سیاست سے لے کر سماج تک آخر وہ کون سے عناصر ہیں جو اس پوری صورتِ حال کےلئے ذمہ دار ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ کوئی چیز یونہی بے سبب پیدا نہیں ہوتی ۔ کوئی صورتِ حال کتنی ہی پریشان کن کیوں نہ ہو، کوئی واقعہ کتنا ہی خوف ناک کیوں نہ ہو، کسی کا رویّہ کتنا ہی غیر مناسب کیوں نہ ہو ، ہر صورتِ حال، ہر واقعہ اور ہر رویّہ کسی نا کسی سبب کے تحت وقوع پزیر ہوتا ہے۔ کیا ایسا نہیں ہے کہ جو صورتِ حال آج جمہوریت کو درپیش ہے وہ ان لوگوں کے کالے کرتوتوں، بد عنوانیوں، لا پروائیوں اوربد نظمیوں کے نتیجے میں رونما ہوئی ہے جو کل تک جمہوریت کے مختارِ کل بنے بیٹھے تھے اور راج گدّیوں پہ براجمان تھے۔ چاہے ہندوستان میں کانگریس پارٹی رہی ہو یا امریکا میں ڈیموکریٹک پارٹی، دونوں ملکوں میں دونوں پارٹیاں اپنی عوام کی توقعات پر کھری نہیں اتر سکیں، انکی مانگوں اور ضرورتوں کو پورا کرنے میں ناکام ثابت ہوئیں ۔ مزید یہ کہ عوام کے پیسوں پر پلنے والے یہ سیاسی رہنما پبلک پراپرٹی کو مسلسل نقصان پہونچاتے رہے۔دونوں ملکوں میں کچھ اسی قسم کے اسباب کار فرما تھے۔ بات اگر یہی اور ایسی ہی ہے تو جمہوریت کے اصولوں میں کوئی تبدیلی لانے یا کسی قسم کا کوئی ردوبدل کرنے کے بجائے ان رہنماؤں کے غلط رویّوں میں سدھار کی ضرورت ہوگی جو اس کے لیے ذمہ دار ہیں۔ بیماری کی تشخیص ہو جانے کے بعد صحتیابی اسی صورت میں ممکن ہے جب اس کا صحیح ڈھنگ سے علاج کیا جائے۔ پھوڑا اگر پک چکا ہے تو اسے روئی کے پھاہے سے سہلا کر کبھی ٹھیک نہیں کیا جا سکتا ،اسے تو بس تیز دھار دار نشتر کی ضرورت ہے جس سے پھاڑ کر اس کے اندر جمع سارے فاسد مادے کو باہر لانا ہوگا اور تبھی اس کا صحیح علاج ممکن ہو سکتا ہے ،تب ہی درد اور تکلیف سے راحت مل سکتی ہے اور ٹھیک ہونے کی امید کی جا سکتی ہے۔

مضمون نگار ، ریاض کی کنگ سعود یونیورسٹی میں ریسرچ اسکالر ہیں۔

نوٹ: یہ مضمون نگار کی اپنی رائے ہے، اس سے پردیش 18 اردو کا اتفاق ضروری نہیں۔

 

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز