کانگریس پرخطرات کے بادل ، بچاؤ کاطریقہ کارکیا ہو؟

Jul 31, 2017 09:48 PM IST | Updated on: Jul 31, 2017 09:48 PM IST

کانگریس پارٹی اپنی حریف بی جے پی سے خائف اوراسے غیرتسخیری معجزہ تصورکررہی ہے جس سے کانگریس کے اندر مزیدنامیدی اوربے اطمینانی پائی جارہی ہے۔یہ کانگریس کوطے کرناہے کہ اس دلدل سے نجات کاراستہ کیاہوسکتاہے۔کانگریس ان دنوں غیرمتحرک اورمنجمدہوچکی ہے جس میں صرف اورصرف باحوصلہ اوروقت سے ٹکرلینے والے سپہ سالارکی ضرورت ہے۔اسے ڈوب کرنکلنے کابہترہنرمعلوم ہے لیکن سیاسی داؤپیچ کااستعمال کرنے میںمسلسل تساہلی سے کام لیاجارہاہے نتیجتاً اس کی شرح مقبولیت میں غیرمعمولی کمی ہوگئی ہے۔درحقیقتکانگریس پارٹی کی حالت ان دنوںبھنورمیں پھنسی اس کشتی کے مانند ہے جس کے مسافرناخداکے عاجزانہ کلمات کو سنتے ہوئے بھی اپنی جان بچانے کے لیے طوفان میں چھلانگ لگالیتے ہیں،شایدکانگریس گزشتہ نصف صدی کے اندر اس قسم کے مشکلات سے دوچارنہیں ہوئی ہوگی ، اس پرخطرات کے بادل منڈلارہے ہیںاورخودکی بساط تنگ ہوتی نظرآرہی ہے ۔ مجاہدین آزادی کی قائم کردہ اس پارٹی پرملک کاایک احسان عظیم ہے باوجود اس کے اپنی بعض غیرمنصفانہ پالیسیوں اورغیرمعتمدرہنماؤں کے سبب اسے یہ دن دیکھنے کومل رہے ہیںکہ وہ اپنے تشخص اوربقاکی جنگ لڑرہی ہے۔ کانگریس پارٹی کی پورے ملک میں صرف ۴۶؍ارکان پارلیمنٹ اور۵۷؍راجیہ سبھاارکان ہیں جو عنقریب مزیدکم ہوسکتے ہیں۔ گجرات میں راجیہ سبھاانتخاب ہونے والے ہیں کانگریس کی طرف سے سونیاگاندھی کے سیاسی مشیر احمدپٹیل نے پرچہ نامزدگی داخل کیاہے لیکن درکارسیٹیں کم ہوکر بی جے پی کی جھولی میں چلی گئی ہیں جوان کی راہ میں بھاری رکاوٹ ثابت ہوسکتی ہیں۔گجرات میں کانگریس کے سینئر لیڈرشنکرسنگھ واگھیلہ نے انتخاب سے عین قبل اپنے حامیوں سمیت کانگریس سے دامن چھڑالیاجس سے اس کی شاخ مزیدکمزورہوگئی ہے۔راہل گاندھی نے اپنے ایک بیان میں مرکزمیں حکمرا ں جماعت پرالزام عایدکرتے ہوئے کہاکہ یہ لوگ لیڈروں کاپیسوںکے عوض خریدوفروخت کررہے ہیں۔مجبوراً گجرات میں چھ ارکان اسمبلی کے مستعفی ٰہونے کے بعد بقیہ لیڈران کو بنگلورمنتقل کردیاگیاتاکہ کسی قسم کی دھاندھلی کاامکان باقی نہ رہے ،ان لیڈران کاالزام ہے کہ بی جے پی ان پردباؤبنارہی ہے انہیںلالچ دلاکراپناالوسیدھاکرناچاہتی ہے ۔ادھراترپردیش میں بھگواحکومت کے قیام کے بعدبھی سکون حاصل نہیں ہواسماجوادی پارٹی کے دواوربسپاکے ایک ایم ایل سی نے استعفیٰ دے دیاہے قیاس آرائیاں گشت کررہی ہیںکہ یہ لوگ بی جے پی میں شامل ہوسکتے ہیں۔جس سے سپااوربسپاخیمے میںغم وغصہ کی ملی جلی صورت دکھائی دے رہی ہے۔

کانگریس سمیت ملک کی سیکولرعوام اورجماعتوںمیں شدیدبے چینی پائی جارہی ہے ،بہارمیں قائم عظیم اتحادسے مستعفی ہوکراین ڈی اے میں شامل ہونے والے نتیش کمارنہیں مشکلات میں مزیداضافہ کردیاہے۔یوپی اے کی متحدہ فرنٹ میں وہ دم خم باقی نہ رہ گیا ہیکہ وہ مودی کی آندھی کا مقابلہ کرسکیں۔جدیو،راجد،کانگریس نے گزشتہ بہارالیکشن میں امیدکے جوت جگائے تھے لیکن ۲۰؍مہینہ کے اندراندرمودی فسطائیت وہاںبھی میں کامیاب ہوگئی جس سے رہی سہی کسرپوری ہوگئی۔ بہارکے وزیراعلیٰ نتیش کمارنے تیجسوی یادوکے خلاف بدعنوانی کامعمولی بہانہ بناکرگھرواپسی کرلی ہے جس کی چوطرفہ مذمت ہورہی ہے، کیونکہ انہوںنے مہاگٹھ بندھن کے کندھے پرسوارہوکر بی جے پی مخالفت ہی کے سبب دوبارہ کامیابی حاصل کی تھی لیکن بقول اعظم خاں ’نیتش کمارنے بی جے پی سے ہاتھ ملاکرمہاگٹھ بندھن کے کمرمیں چھراکھونپاہے‘۔راہل گاندھی نے کہا تھاکہ انہوں نے اچانک استعفیٰ دے کرمعاًبعد این ڈے اے میں شمولیت اختیارکرکے مہاگٹھ بندھن کودھوکادیاہے عوام انہیں معاف نہیں کریںگے۔ا ن دنوںہندوستانی سیاست میں ایک لرزہ خیززلزلہ جاری ہے بہارمیں سیکولررائے دہندگان خودکوٹھگاہوامحسوس کررہے ہیں،ٹویٹرپر بہارکے سابق نائب وزیراعلیٰ تیجسوی یادوکی حمایت میں ’’بہاروتھ تیجسوی‘‘ٹرول کررہاہے تاہم وقت نے اپناکھیل کھیل دیااورعوام ٹکٹکی لگاکریہ بھیانک منظردیکھتے رہ گئے کیونکہ کہاوت ہے سیاست میں جوجیتاوہی سکندرہوتا ہے ۔پارلیمانی انتخاب کے بعدسے لے کرملک کے کئی ریاستوں میں انتخابات ہوئے اکثریت میں زعفرانی پارٹی کوہی کامیابی حاصل ہوئی۔ملک کے تین چوتھائی یعنی تقریباً ۶۵؍فیصدحصے پربی جے پی اتحاد برسراقتدارہے ،اترپردیش بھی سیکولر جماعتوںکے ہاتھ نکل گیااورحاصل شدہ بہاربھی عیاری کے ذریعہ حاصل ہوگیا۔گوااوراتراکھنڈکاحال تو پورے ملک نے دیکھاگوا میں کانگریس کواکثریت حاصل ہوئی لیکن گورنرنے بی جے پی کوحکومت کااہل قراردیتے ہوئے اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے کاغیراخلاقی حکم نامہ جاری کردیااورپھردوبارہ بی جے پی حکومت قائم ہوگئی۔ کشمیرجہاں بی جے پی برسوںسے تاک لگائے بیٹھی تھی موقع ملتے ہی محبوبہ مفتی کی پارٹی سے مل کرحکومت بنالی ۔اسی طرح اب نظرہے جنوبی ہندکی ریاستوںپرجہاں بی جے پی ڈورے ڈالنے کے فراق میں ہے ۔جس کے چلتے سابق صدرجمہوریہ میزائل مین اے پی جے عبدالکلام کے یادگارکے طورپررامیشورم میںمیوزیم بنایا گیااورپھراس موقع سے تقریب کاانعقادکیاگیاجس میں وزیراعظم مودی نے خوب لبھاون تقریرکی جس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ دراصل یہ اگلے پارلیمانی الیکشن کی تیاری ہے۔دوسری اہم بات ہیکہ جنوبی ہندسے تعلق رکھنے ایم ونکیانائیڈوکونائب صدرجمہوریہ کاامیدواربناکرمزیدتقویت حاصل کرناچاہتی ہے۔غرضیکہ تمام جائزوناجائزاصول اختیارکرکے پورے ملک پرقابض ہونے کاخواب شرمندہ تعبیرکرنے میں لگی ہوئی ہے ۔کبھی جبراًصدرراج نافذکرکے اورکہیں ارکان کوبہکاپھسلاکرحالانکہ یہ جمہوریت کے شدیدمنافی ہے جس پرقدغن لگانے کی ضرورت ہے تاکہ جمہوریت کی روح مجروح نہ ہو ۔این ڈی اے کی کامیابی کاراز اس کی کفایت شعاری دوسرے لفظو ں میں اگرکہاجائے تواقتدارکی لالچ ہے کیونکہ جہاں بھی موقع ملازیرزبر ہوکرموقع ہاتھ سے گنواتی نہیں ہے ،اب طریقۂ کارچاہے جوکچھ بھی ہو۔

کانگریس پرخطرات کے بادل ، بچاؤ کاطریقہ کارکیا ہو؟

باوجودان تمام واقعات بشمول بہارمیں تازہ اتھل پتھل کے سیکولرجماعتیں اپنی دفلی اپناراگ الاپ رہی ہیں کانگریس الگ دھن میں مست ہے اوردیگرجماعتیں الگ اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجدتعمیرکئے ہوئے ہیں۔عظیم اتحاد بھی تقریباًمعدوم ہوچکاہے اب آگے کی حکمت عملی کیاہوسکتی ہے یہ سیکولرجماعتوں کو کرنا ہوگی ،کانگریس یادیگرغیربھگواجماعتوں میں بہت سے ایسے لیڈران ہیں جوکھوئی ہوئی طاقت حاصل کرنے کے قابل ہیں لالوپرسادیادویہ ثابت کرچکے ہیں۔کانگریس اوراس کے اتحادی ، سماج وادی پارٹی،بہوجن سماج پارٹی ،ترنمول کانگریس اورسیکولرنظریات رکھنے والی جماعتوں میں موجودتجربہ کارلیڈران سے حمایت کرکے اورانہیںمناسب مقام دے کر تعاون حاصل کیاجاسکتاہے ۔بی جے پی کوئی غیرتسخیری چٹان نہیں جس کرسرناکیاجاسکتاہو،بس نظریات کی جنگ میں وہ فتحیاب ہوتی چلی جارہی ہے ۔ابھی وقت ہے کہ شواہدوتجربات کی روشنی میں معقول اورمثبت لائحہ عمل تیارکیے جائیں اورمتحدہوکرمنظم اندازمیںپراعتمادی کے ساتھ سردگرم ہواؤں کامقابلہ کیاجائے تاکہ ہندوستان میں سیکولرزم باقی رہ سکے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز