میڈیا بائیکاٹ کی اپیل اور حقیقت حال

Apr 16, 2017 08:45 PM IST | Updated on: Apr 16, 2017 08:46 PM IST

وہ اپیل تو تمام اخبار بیں حضرات نے پڑھ لی ہوگی جو مہتمم دارالعلوم دیوبند مولانا و مفتی ابوالقاسم نعمانی کی طرف سے جاری کی گئی ہے اور جس میں عائلی مسائل پر نیوز چینلوں میں ہونے والے مباحثوں کے بائیکاٹ کی اپیل کی گئی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ’مسلمانوں کے عائلی مسائل سے متعلق بعض اہم مسائل طلاق ثلاثہ، حلالہ، نفقہ مطلقہ اور تعدد ازدواج جیسے خالص علمی و دینی مسائل کو آج کل پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا نے اپنی دلچسپی کا موضوع بنا لیا ہے ....ان عناوین پر متعدد ٹی وی چینل بحث و مباحثہ کراتے ہیں اور اسلام کی غلط تشریح پیش کرتے ہیں۔ اس بحث و مباحثہ میں ماہر اور محتاط علما شریک نہیں ہوتے ہیں او ران کا شریک نہ ہونا بہتر ہے۔ لیکن جو شریک ہوتے ہیں انھیں بھی اپنے موقف کی وضاحت نہیں کرنے دی جاتی ہے.... اس لیے دارالعلوم دیوبند کی اپیل ہے کہ مسلم علما اور دانشور اس طرح کے ڈبیٹ کا مکمل بائیکاٹ کریں‘۔ (بحوالہ انقلاب ۲۱ اپریل)۔ راقم بزرگوں کے تعلق سے تمام تر آداب و لحاظ کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اس سلسلے میں چند گزارشات پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت نیوز چینلوں پر ہونے والے مباحثے اسلام کی غلط تصویر پیش کر رہے ہیں۔ بیشتر مباحثے اسلام کو بدنام کرنے والے ہوتے ہیں۔ اس میں جہاں ان چینلوں کا تعصب کارفرما ہے وہیں ملک کے موجودہ حالات کا بھی دخل ہے۔

چینلوں کے ذمہ داران کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ کسی نہ کسی بہانے سے اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کریں۔ اسی لیے وہ متنازعہ ایشوز اٹھاتے ہیں اور ان پر ہندووں، مسلمانوں اور نام نہاد دانشوروں کو مدعو کرتے ہیں۔ لیکن وہ نہ تو حقیقی اسلامی اسکالروں کو مباحثے میں شرکت کی دعوت دیتے ہیں اور نہ ہی ایسے افراد کو بلاتے ہیں جو اسلامی قوانین سے کما حقہ واقف ہوں اور اسلام اور مسلمانوں کا دفاع کر سکیں۔ وہ جان بوجھ کر ایسے لوگوں کی خدمات حاصل کرتے ہیں جو سوالوں کے جواب نہ دے سکیں اور مخالفین کے حملوں میں الجھ کر رہ جائیں۔ یہ بات بھی درست ہے کہ اگر کوئی پینلسٹ اسلام اور مسلمانوں کی صحیح تصویر پیش کرنے اور معاملات کو صحیح تناظر میں رکھنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کو ٹوک دیا جاتا ہے، اس کی بات پوری نہیں ہونے دی جاتی اور بحث کو دوسری طرف موڑ دیا جاتا ہے۔ لیکن اس کے لیے ہم چینلوں کے ذمہ داروں کو کیوں مورد الزام ٹھہرائیں۔ کیا مسلم تنظیموں نے کبھی اس کی کوشش کی کہ وہ میڈیا کے ذمہ داروں سے رابطہ قائم کریں اور انھیں صحیح صورت حال بتائیں۔ کیا ان تنظیموں کے پاس ماہرین کا ایسا پینل ہے جو مختلف امور و مسائل پر علمی اور مدلل انداز میں بات رکھ سکے اور اسلام مخالف سازشوں کی قلعی کھول سکے۔ مجھے معاف فرمائیں مگر میں یہ کہنے کی جسارت کر رہا ہوں کہ اس صورت حال کے قصوروار ہم بھی ہیں۔ ہم بھی اس کی ذمہ داری سے بچ نہیں سکتے۔ اب آئیے ان ’مسلم ماہرین‘ پر گفتگو کر لیں جو ان مباحثوں میں شریک ہوتے ہیں اور جن کے نام کے آگے ’دھرم گرو‘ لکھا ہوتا ہے۔ کیا ان لوگوں میں واقعی سب دھرم گرو ہی ہوتے ہیں۔ کیا وہ تمام لوگ اسلامی تاریخ، اسلامی مسائل، قرآن و حدیث اور فقہ پر گہری نظر رکھتے ہیں اور اپنی بات قائل کن انداز میں پیش کرنے کی صلاحیت کے حامل ہیں۔ چند ایک کو چھوڑ کر بیشتر اس صلاحیت سے عاری ہیں۔ اس کے باوجود وہ بڑے کروفر کے ساتھ چینلوں کے مباحثوں میں حصہ لیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سنگھی نمائندوں کے مقابلے میں ان کی کوئی حیثیت نہیں۔ ان کے سوالوں کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں۔ بعض نیوز چینل تو پینلسٹ کو بریف بھی کرتے ہیں کہ آپ کو یہ کہنا ہے اور یہ لائن لینی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بعض نام نہاد اسلامی ماہرین ٹی وی پر اپنا چہرہ دکھانے کے جوش میں چلے جاتے ہیں اور اسلام اور مسلمانوں کی بدنامی کا سبب بن رہے ہیں۔ بعض اوقات تو انھیں بد تمیز اور مسلمانوں کی بات کرنے کو غنڈہ گردی تک کہہ دیا جاتا ہے اور وہ اس گستاخی کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت کر لیتے ہیں۔

میڈیا بائیکاٹ کی اپیل اور حقیقت حال

اب آئیے دارالعلوم دیوبند کی اپیل کا جائزہ لے لیا جائے۔ گستاخی معاف! مگر یہ اپیل موجودہ حالات سے بالکل مطابقت نہیں رکھتی۔ یہ تو شترمرغ والا کردار ہوا کہ طوفان آرہا ہے تو اپنی گردن ریت میں دبا دو طوفان گزر جائے گا۔ جی نہیں ایسے طوفان نہیں گزرتا۔ ہاں طوفان تو گزر جاتا ہے لیکن وہیں ریت میں شتر مرغ کی قبر بھی بن جاتی ہے۔ میری بات کو اس مثال سے سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ ایک شخص انتہائی موذی مرض میں مبتلا ہے۔ لیکن مقامی طور پر اس کا شافی علاج نہیں ہو پا رہا ہے۔ نہ تو اس مرض کے ماہر ڈاکٹر موجود ہیں اور نہ ہی دوائیں دستیاب ہیں۔ ایسی صورت میں اگر کوئی یہ کہے کہ اسے کسی اچھے اسپتال میں لے جا کر اچھے ڈاکٹر سے علاج کرانے کے بجائے یوں ہی چھوڑ دیا جائے، کیونکہ ہم کچھ نہیں کر سکتے تو کیا اسے مان لیا جائے گا۔ ہر عقل مند شخص اس تجویز کو مسترد کر دے گا اور یہی کہے گا کہ اس طرح تو مریض کی جان چلی جائے گی۔ کیوں نہ اسے اچھے ڈاکٹروں کی خدمات مہیا کرائی جائیں۔ یہی معاملہ نیوز چینلوں پر ہونے والے مباحثوں اور مذکورہ اپیل کا ہے۔ اس وقت ملت اسلامیہ جس موذی مرض میں مبتلا ہے اس کا علاج یہ نہیں ہے کہ ہم مریض کو اسپتال سے گھر لے آئیں اور اپنی موت آپ مرنے دیں۔ اس کا علاج یہ ہے کہ آر ایس ایس کے گھاگھ ماہرین کا مقابلہ کرنے والے افراد پیدا کیے جائیں۔ ایسے لوگوں کو ٹریننگ دی جائے جو ان کو انھی کی زبان میں جواب دے سکیں۔ پوری طرح سے تیار کرکے ان کو چینلوں پر بھیجا جائے۔ ہاں جب تک اس کی تیاری نہیں ہو جاتی اس وقت تک عارضی طور پر نام نہاد اسلامی ماہرین اپنی خدمات سے دست کش ہو سکتے ہیں۔ لیکن یہ بھی یاد رہے کہ کنویں سے ایک گھڑا پانی نکالا جائے گا تو اسے پُر کرنے کے لیے دوسری طرف سے پانی آجائے گا۔

میں نے تقریباً ڈیڑھ سال قبل انھی کالموں میں ملت کے ذمہ داروں سے گزارش کی تھی کہ آج نیوز چینلوں کے اسٹوڈیو مناظروں کے میدان بن گئے ہیں۔ ہمیں ’میڈیا مناظرین‘ پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ سنگھ پریوار کی جانب سے اپنے ایجنڈے کی تبلیغ کے لیے بے شمار ماہرین پیدا کر دیے گئے ہیں۔ یہ ماہرین آر ایس ایس میں تو ہیں ہی، حکومت میں بھی ہیں، بی جے پی میں بھی ہیں، انتظامیہ میں بھی ہیں، میڈیا میں بھی ہیں اور دوسری سیاسی جماعتوں میں بھی ہیں۔ جب دس برسوں تک یو پی اے برسر اقتدار اور بی جے پی بیرونِ اقتدار تھی تو آر ایس ایس نے جن محاذوں پر بہت زیادہ محنت کی ان میں ایک محاذ اپنے ایجنڈے کی تبلیغ کرنے والے ماہرین پیدا کرنا بھی تھا۔ آج صورت حال یہ ہے کہ پورے ملک میں کئی سو نیوز چینل ہیں اور تقریباً تمام چینلوں پر پرائم ٹائم میں کسی نہ کسی اہم مسئلے پر پینل ڈسکشن یا اجتماعی مباحثہ ہوتا ہے۔ ان مباحثوں میں اگر کوئی فریق بہت زیادہ تیاریوں کے ساتھ آتا ہے تو وہ سنگھ پریوار سے وابستہ فریق ہے۔ آر ایس ایس کے ترجمانوں کو اس طرح تیار کر دیا گیا ہے کہ ان کے دلائل کو رد کرنے والے موجود ہی نہیں ہیں۔ بعض اوقات وہ اپنی بات کو باوزن بنانے کے لیے انتہائی فراٹے کے ساتھ جھوٹ بھی بولتے ہیں اور خود ساختہ بیانات کو کسی بڑی شخصیت کے نام سے منسوب بھی کر دیتے ہیں۔ آر ایس ایس اور بی جے پی کے ترجمانوں کے مقابلے میں دوسرے ماہرین پھسپھسے نظر آتے ہیں۔ ان حالات میں ٹی وی مباحثوں کے بائیکاٹ کی اپیل بالکل سامنے نظر آنے والے طوفان سے چشم پوشی کرنا ہے۔ کیا ہم اسے دانشمندانہ قدم قرار دے سکتے ہیں اور کیا محض دارالعلوم کی اپیل سے نام نہاد ماہرین وہاں جانا ترک کر دیں گے۔

پس نوشت: شکر ہے کہ ابھی تک میڈیا کی توجہ اس اپیل پر نہیں گئی ورنہ ہر اپیل کی مانند وہ اسے بھی فتویٰ قرار دے دیتا اور کہتا کہ میڈیا کے بائیکاٹ کا فتویٰ صادر کر دیا گیا ہے۔ اس طرح وہ مسلمانوں کو ذہنی پسماندہ اور رجعت پسند ہونے کا طعنہ دیتا۔ دوسری بات یہ کہ کیا مسلمانوں کا کوئی میڈیا ہاوس ہونا چاہیے اور کیسا ہونا چاہیے اس پر پھر کبھی اظہار خیال کیا جائے گا۔

نوٹ : مضمون نگار ایک معروف صحافی اور سیاسی تجزیہ کار ہیں۔

sanjumdelhi@gmail.com

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز