ملک میں معاشی نابرابری پر گفتگو کیوں نہیں؟

Jan 25, 2017 05:37 PM IST | Updated on: Jan 25, 2017 05:37 PM IST

نوٹ بندی (جسے عرف عام میں اب نوٹ بدلی کہا جا رہا ہے )کے نتیجے میں جن ایک فیصد کو فائدہ ہوا ہے اس کا تذکرہ شاید کسی اور پیرائے میں ہمارے وزیر خزانہ ارون جیٹلی کرتے نظر آئے ہیں لیکن الفاظ و جملوں کی ساخت ایسی رہی ہے کہ عوام نے کم ہی سمجھا ہے۔ وہ اس بات کا تذکرہ تو کرتے ہیں کہ قومی خزانے میں اضافہ ہوا ہے لیکن عوام کی جیب پر حکومتی ڈاکے کا ذکر اب کھل کر کوئی نہیں کرتا ۔کیونکہ آکسفیم کی جس رپورٹ پر شد و مد کے ساتھ گفتگو ہونی چاہئے تھی اس پر گفتگو خال خال ہی ہوتی نظر آرہی ہے۔ اردو زبان میں آکسفیم کی رپورٹ خصوصاً ملک میں مسلمانوں کی معاشی صورتحال پر تو بالکل بھی کچھ نہیں کہا گیا شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ جب سچر سفارشات پر کوئی بات آگے نہیں بڑھی تو مذکورہ رپورٹ پرتوانائی صرف کرکے کیا فائدہ۔

خیر اگرہم مسلمانوں کا تذکرہ نا بھی کریں تو جو عمومی جائزہ ہے اس پر بھی کسی نے تشویش کا اظہار نہیں کیا کہ آخر کس طرح ملک کی ایک فیصد آبادی ۵۳فیصد کی معیشت پر قبضہ جمائے بیٹھی ہے۔ ملک میں معاشی ناہمواری اور نابرابری کا سلسلہ دراز سے دراز تر ہوتا جا رہا ہے ، دلچسپ بات تو یہ ہے کہ جس ایک فیصد کے پاس قومی خزانہ سمٹتا جا رہا ہے وہ ان کی محنت نہیں بلکہ ان کی ’’ٹِرک‘‘ کا نتیجہ ہے۔ جادوئی چھڑی کا قصہ ہم پرانی کہانیوں میں پڑھتے رہے ہیں ٹیکنالوجیکل ٹِرک کے قصے ابھی عام نہیں ہوئے ہیں۔’’ٹیکنالوجیکل ٹِرک‘‘ کے نتیجہ میں جودھاندلیاں عام ہوتی جا رہی ہیں اس پر ممکن ہے بہت سارے قوانین موجود ہوں لیکن ’’جب سیاں بھئیل کوتوال تو ڈر کا ہے کا‘‘کی مثل عام ہے۔

ملک میں معاشی نابرابری پر گفتگو کیوں نہیں؟

ارون جیٹلی، وزیر خزانہ: فائل فوٹو

کارپوریٹ کمپنیاں جس ڈیجیٹل سسٹم کے ذریعہ عوام کی جیب پر ڈاکہ ڈال رہی ہیں کیا کسی کو اس کا اندازہ ہے ۔ جس پے ٹی ایم کی آج ملک میں دھوم ہے وہ آپ کی محنت کی کمائی پر کیسے قبضہ جماتا جا رہا ہے کیا کسی نے سوچا ہے۔چلیے ہم ایک مثال سے ہی اسے سمجھتے ہیں۔عام لین دین میں اگر ہم ایک سو روپئے کا نوٹ کسی کو دیتے ہیں توایک سو لوگوں تک گھومنے کے بعد بھی اس کی قیمت سو روپیہ ہی رہتی ہے لیکن جب وہی رقم پے ٹی ایم کے ذریعہ سرکولیٹ ہو تو کیا سو لوگوں تک پہنچتے پہنچتے اس کی قیمت سو روپیہ ہی رہ جاتی ہے؟ کیا پے ٹی ایم کی طرف سے لگایا جانے والا ٹیکس آپ کی جیب پر ڈاکہ زنی نہیں ہے؟ آپ سو روپئے میں سو سرکولیشن کا سروس ٹیکس لگائیں اور ضرب تقسیم کے ذریعہ خود ہی جائزہ لے لیں،میں نے تو صرف مثال دی ہے۔ ہمارا ملک زرعی ملک کہلاتا ہے ،ساٹھ فیصد آبادی زراعت و باغبانی پر انحصار کرتی ہے ،کسان اور چھوٹے مزدوروں کے اس ملک میں ڈیجیٹل انڈیا کیسے کامیاب ہوگا اب تو ریزروبینک آف انڈیا کے موجودہ گورنر اُرجیت پٹیل کو بھی سمجھ میں آگیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نا چاہتے ہوئے بھی انہوں نے تسلیم کر لیا ہے کہ ملک ’’کیش لیس اکانومی‘‘کے لیے تیار نہیں ہے۔دراصل مسئلہ یہ ہے کہ اس ساٹھ فیصد آبادی پر بھی ایک فیصد کیسے قابض ہوجائے اس کی تیاری زور و شور سے کی جا رہی ہے۔ اور شاید اس تیاری کا نتیجہ ہی ہے کہ معاشی نا برابری میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

موجودہ حکومت بھلے ہی اپنی ناکامیوں کا ٹھیکرا سابقہ حکومتوں پر پھوڑکر گلو خلاصی کر لے لیکن سابقہ حکومتوں کو مورد الزام ٹھہرانا یقیناً درست بھی ہے۔دراصل معاشی نابرابری ایک دن کی بات نہیں ہے بلکہ مسلسل کئی دہائیوں سے اس پر کام چل رہا ہے۔غیر ملکی کمپنیاں جس تیزی کے ساتھ ملکی زرعی پیداوار پر اثرانداز ہو رہی ہیں اس کا بہتراندازہ ان لوگوں  کو ہے جو اس میدان میں کام کر رہے ہیں۔ معاشی نا برابری کا ہی معاملہ ہے کہ مہاراشٹر سمیت ملک کے بیشتر علاقوں کا کسان کسمپرسی کے عالم میں اپنی زندگی سے ناطہ توڑنے پر مجبور ہے۔ بڑی صنعتوں کے بالمقابل چھوٹی صنعتوں کی حالت مزید ابتر ہو رہی ہے،میڈیم اور اسمال اسکیل انڈسٹریز میں مالی اعانت نہ ہونے کی وجہ سے لوگ باگ اسے بند کرنے پر مجبور ہیں۔ کیونکہ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ملک کا ایک فیصد حصہ جس فراخدلی کے ساتھ قومی بینکوں کے ساتھ معاملات طے کر لے رہا ہے بیچارے چھوٹے صنعت کار اس میں بری طرح ناکام ثابت ہو رہے ہیں۔ معاشی نابرابری میں حکومت کے ساتھ بینکوں کا کردار بھی اہم ہے۔ قومی بینکوں کی بڑے صنعتی گھرانوں سے والہانہ محبت اور ان کے در پر حاضری کی مسلسل روایت دیکھنے کو ملتی ہے ۔جبکہ چھوٹے صنعت کاروں کی لمبی لائن بینکوں کے سامنے کھڑی نظر آتی ہے اور حسب روایت حیلے بہانوں کے ساتھ انہیں ٹال دیا جاتا ہے۔ کیونکہ چھوٹے صنعت کار یا تاجر فوری طور پر بہت زیادہ منافع دینے کی پوزیشن میں نہیں ہوتے اور نہ ہی وہ ’’بخشش‘‘کے طریقوں سے آگاہ ہوتے ہیں لہذااچھے پر پوزلس کے بعد بھی انہیں ناکامی ہی ہاتھ لگتی ہے۔ایس ایم ایز پر ہمارے یہاں وزارت تو قائم ہے لیکن وہ صنعتیں جو ختم ہورہی ہیں کیا کبھی اس پر توجہ دی گئی ہےیا اس وزارت کے ذریعہ قومی بینکوں کو کیا فرمان جاری کیا گیا ہے یہ سوال ہمیشہ ان لوگوں کو پریشان کئے رکھتا ہے جو مجموعی ترقی کی وکالت کرتے ہیں۔

allahabad-bank-atm 

قومی بینکوں کے بالمقابل پرائیویٹ یا کو آپریٹیو بینک کسی حد تک ضرور ان چھوٹے کاروباریوں کو مستفید کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن آر بی آئی کے قوانین اور خود مقامی اثر و رسوخ کبھی حقداروں کو محروم کرنے کا باعث بن جاتا ہے۔ بارہا ایسا دیکھنے کو ملا ہے کہ جو لوگ لائق ہیں اور اپنی صنعت و تجارت کو کسی بلندی پر پہنچانے کا ہنر بھی رکھتے ہیں اگر وہ کسی طرح پرائیویٹ بینکوں یا کو آپریٹیو بینکوں کو قائل کرنے میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں تو آر بی آئی کے ایسے قوانین ہاتھ جوڑے کھڑے ہوتے ہیں کہ بینک کا ذمہ دار تمام سہولتوں کو دینے کا وعدہ کرنے کے باوجود ہاتھ جوڑ لیتا ہے۔ بسااوقات تو یہ دیکھنے کو ملا ہے کہ کسی نے تمام معاملات طے بھی کر لیے ،آربی آئی کے ضابطوں کو بھی مکمل کرلیا لیکن ’’مقامی اثر و رسوخ ‘‘نے ایسا گیم کھیلا کہ اس کا بنا بنایا کام بگڑ جاتا ہے۔

ان تمام صورتحال میں جس معاشی نابرابری کا سامنا ملک کی کثیر تعداد کر رہی ہے وہ نہ صرف ملکی پیداوار میں اثر انداز ہو رہا ہے بلکہ ملکی معیشت کو شدید طور پر نقصان پہنچا رہا ہے۔ 

مضمون نگار ممبئی میں مقیم ایک معروف صحافی ہیں۔

نوٹ: یہ مضمون نگار کی ذاتی رائے ہے، اس سے نیوز 18 ، اردو کا اتفاق ضروری نہیں۔

 

  

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز