عید الاضحی ، مسلمان اور گئو رکشک

Sep 10, 2016 08:27 PM IST | Updated on: Sep 10, 2016 08:27 PM IST

عید الاضحی کا تہوار سر پر ہے اور بعض علاقوں میں مسلمان خوف زدہ ہیں۔ بالخصوص ان علاقوں میں جہاں ان کی تعداد کم اور گائے کو احترام کی نظروں سے دیکھنے والوں کی تعداد زیادہ ہے۔ ان علاقوں میں بھی مسلمان فکرمندی میں مبتلا ہیں جہاں نام نہاد گؤ رکشکوں کی جانب سے اور بالخصوص ان لوگوں کی جانب سے جن کو وزیر اعظم نریندر مودی نے دن میں گؤ رکشک اور رات میں جرائم پیشہ قرار دیا ہے، خطرات لاحق ہیں۔ بہت سے مسلم علاقوں میں بڑے جانور کی قربانی کی جاتی ہے۔ جن میں بھینسوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔ لیکن خطرہ یہ ہے کہ اگر مسلمان بھینس کا گوشت گاڑیوں میں رکھ کر اپنے گھرو ں کو لے جائیں تو ان پر حملہ ہو سکتا ہے۔ یہ الزام لگایا جا سکتا ہے کہ مسلمان بیف لے جا رہے ہیں۔ ہریانہ میں تو وہاں کی حکومت نے بیف بریانی کی جانچ کا بھی حکم دے دیا ہے۔ کئی ڈھابوں پر چھاپے مارے گئے ہیں اور بریانی میں بیف پائے جانے کے بعد لوگ ڈھابے چھوڑ چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں۔ وہاں عید کے موقع پر اس قسم کے مزید واقعات ہو سکتے ہیں۔ اس تعلق سے مہاراشٹر حکومت نے ایک سرکولر جاری کیا ہے جو بے حد اہم اور قابل ستائش ہے۔

اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ اس سرکولر میں مسلمانوں کے جذبات کا خیال رکھا گیا ہے اور اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی گئی ہے کہ بیف کے نام پر مسلمانوں کو پریشان نہ کیا جائے۔ مہاراشٹر میں بڑے جانور کا گوشت خوب کھایا جاتا ہے اور ان کی قربانی بھی خوب ہوتی ہے۔ لہٰذا یہ خطرہ ہے کہ نام نہاد گؤ رکشک بھینس کے گوشت کو بیف بتا کر انھیں لے جانے والوں کو پریشان کر سکتے ہیں۔ مہاراشٹر حکومت کو بھی اس کا احساس ہے۔ اس کو بھی یہ اندیشہ لاحق ہے کہ کہیں عید الاضحیٰ کے موقع پر بیف کے نام پر ماحول کو خراب کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔ اسی لیے اس نے ایک احتیاطی سرکولر جاری کیا ہے۔ اس سرکولر میں پولیس کو ہدایت دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ نام نہاد گؤ رکشک گوشت لے جانے والوں پر حملہ نہ کر دیں۔ ڈائرکٹر جنرل آف پولیس کی جانب سے جاری اس سرکولر کے مطابق اگر گؤرکشکوں کو یہ معلوم ہو کہ بیف لے جایا جا رہا ہے یا گائے اور اس کی نسل کے جانور کی قربانی کی جا رہی ہے تو وہ از خود ان پر حملہ نہ کریں بلکہ اس کی اطلاع مقامی پولیس کو دیں اور پھر وہ چھاپہ مارے گی۔ مہاراشٹر کے محکمہ داخلہ کے ایک افسر کے مطابق ’’دو صفحات پر مشتمل اس سرکولر کا مقصد یہ ہے کہ صرف بکرے کی قربانی کی جائے اور انھی کا گوشت ٹرانسپورٹ کیا جائے نہ کہ گائے یا اس کی نسل کے جانور کا۔ کیونکہ بیف کو ٹرانسپورٹ کرنا ’’مہاراشٹر اینیمل پریزرویشن امینڈمنٹ ایکٹ 2015‘‘ کے تحت غیر قانونی ہے۔ یہ ترمیم شدہ قانون بی جے پی حکومت نے چار مارچ 2015 کو منظور کیا تھا۔ اس کے مطابق کوئی بھی شخص جو کہ بیف رکھتا ہو یا اس کو فروخت کرتا ہو اس کو پانچ سال تک کی جیل ہو سکتی ہے اور جرمانہ بھی دینا پڑ سکتا ہے۔ اس سرکولر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بعض اوقات دیکھا گیا ہے کہ گؤ رکشکوں کے ذریعے کیا جانے والا حملہ کسی سیاسی مقصد کے تحت ہوتا ہے اور اس سے عوام کو بہت پریشانی ہوتی ہے۔ ماضی میں ہم نے ان گؤ رکشکوں کے ہنگامے دیکھے ہیں جو خود ساختہ گائے محافظ ہیں۔ لہٰذا ایک سرکولر جاری کیا جا رہا ہے جس میں لکھا گیا ہے کہ کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا ہے۔ پولیس کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ بقر عید سے قبل اس سرکولر کی پابندی کرے اور بیف سے متعلق جو نیا قانون ہے اس کو نافذ کرے‘‘۔

عید الاضحی ، مسلمان اور گئو رکشک

PHOTO : PTI

اس سرکولر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جہاں ایک طرف گؤ رکشکوں کو حملے سے روکنا ہے وہیں اسے یہ بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اگر کسی اطلاع پر کہیں چھاپہ مارے تو اس بات کا خیال رکھے کہ اس کارروائی کے دوران عوام کو پریشان نہ کیا جائے۔ مذکورہ افسر کے مطابق ’’پولیس سے کہا گیا ہے کہ اگر اسے کہیں کسی سرکاری ٹرانسپورٹ سے بیف لے جانے کی اطلاع ملے تو اس انداز میں کارروائی کی جائے کہ اس پر جو دوسری سواریاں ہوں ان کو کوئی دشواری نہ ہو۔ اس کے علاوہ بیف لے جانے والوں کے خلاف یا جہاں سے بیف لایا گیا ہو ان کے خلاف اس وقت کارروائی کی جائے جب ایف ایس ایل کی جانچ میں یہ ثابت ہو جائے کہ جو نمونہ بھیجا گیا تھا وہ بیف ہی ہے‘‘۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کسی ٹال پلازہ پر یا کہیں بھی اس قسم کی کارروائی ہو تو اس بات کو یقینی بنائیں کہ دوسروں کو کوئی تکلیف نہ ہو۔

اس سرکولر کی دو خاص باتیں ہیں۔ پہلی یہ کہ گؤ رکشک چھاپہ نہ ماریں بلکہ وہ پولیس کو اطلاع دیں اور پولیس کارروائی کرے۔ دوسری یہ کہ ملزموں کے خلاف اسی وقت کارروائی ہو جب جانچ میں یہ پتہ چل جائے کہ گوشت کسی اور جانور کا نہیں بلکہ بیف ہی ہے۔ بیف میں گائے بیل اور ان کی نسل کے دیگر جانور شامل ہیں۔ مہاراشٹر حکومت کا یہ سرکولر یقیناً بہت اہم ہے اور اس میں اس بات کا بطور خاص خیال رکھا گیا ہے کہ بقر عید کے موقع پر نام نہاد گائے محافظ کوئی ہنگامہ نہ کر سکیں۔ کیونکہ معاملہ بڑا نازک اور حساس ہے۔ اگر کہیں گوشت لے جانے والوں کے خلاف خواہ وہ کسی بھی جانور کا گوشت لے جا رہے ہوں کوئی کارروائی کی گئی یا انھیں زد و کوب کیا گیا تو ماحول خراب ہو سکتا ہے اور فسادات چھڑ سکتے ہیں۔ لہٰذا ریاستی حکومت نے بہت ہی سمجھداری سے کام لیا ہے۔ لیکن اس قسم کی سمجھداری دوسری ریاستوں کی حکومتیں نہیں دکھا رہی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ بھی احتیاطی تدابیر کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ بیف کے نام پر مسلمانوں کو پریشان نہ کیا جائے اور عید الاضحی کے تہوار کو فسادات کی نذر نہ ہونے دیا جائے۔ اس سے قبل عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ بیف کے نام پر حملے ہوئے اور جانچ میں گوشت بکرے کا پایا گیا۔ اس لیے یہ حکم کہ جانچ کے بعد ہی کارروائی ہو بہت اہم ہے۔ اس سے بے قصور افراد نشانے پر آنے سے بچ جائیں گے۔

اسی کے ساتھ مسلمانوں کو بھی چاہیے کہ وہ سمجھداری اور سوجھ بوجھ سے کام لیں اور کوئی کام ایسا نہ کریں جس سے فرقہ وارانہ ماحول خراب ہو یا امن عامہ متاثر ہو۔ ان کو برادران وطن کے جذبات کا بھی خیال رکھنا چاہیے اور کھلے عام گوشت وغیرہ لے جانے سے بچنا چاہیے۔ ہندو اکثریتی علاقوں سے گوشت لے کر جانے سے گریز کرنا چاہیے اور اسی طرح دوسرے اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ برادران وطن کے جذبات نہ بھڑکیں۔ اگر مسلمان ان باتوں کا خیال رکھیں تو فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے قیام میں بڑی مدد ملے گی۔

sanjumdelhi@gmail.com

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز