قربانی ؛ قربانی ہے

Aug 27, 2017 09:53 PM IST | Updated on: Aug 27, 2017 09:53 PM IST

زندگی میں مختلف مواقع ایسے آتے ہیں جہاں انسان کو قربانی مطلوب ہوتی ہے ،قربانی پیش کرنادراصل جوہرخفتہ کومزید سنوارنا ہوتاہے،جن میں وقت کی قربانی،جان ومال کی قربانی،عزوجاہ کی قربانی ،اسلام کی راہ میں پیش آمدہ مصائب میں خودکی قربانی ، اہل وعیال کے تئیں چین وسکون کی قربانی ؛زندگی میں یہ تمام قربانیاں پیش آسکتی ہیں اورانسان طوعاًوکرھاان قربانیوں کوپیش کرنے میں دریغ نہیں کرتاہے۔سوناچاندی لوہارکی بھٹی میں تپ کرنکھرتے ہیں اسی طرح مذکورہ قربانیوں کوپیش کرنے کی صورت میں کسی کی شخصیت میں نکھارآتاہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام جن کی قربانیوںکاتذکرہ ابدتک کے لیے قرآن نے محفوظ کرلیاہے من جملہ انھیںتمام قربانیوں پرمحیط ہے۔موجودہ وقت میں انسان وقت کی قربانی نہیں دے رہاہے جس کے چلتے وہ دنیوی دوڑ میں دوسروں سے پیچھے اورمستزادیہ کہ الزام تراشیاںبھی کررہے ہیںکہ ہمیں آگے بڑھنے کاموقع نہیں دیاگیاحالانکہ دیکھا جائے توجوشخص بھی وقت کی آنکھ میں آنکھ ڈال کرباتیں کرتاہے وہی سرخ روہوکرمیدان میں آتاہے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام صرف بیٹے کواللہ کی راہ میں قربان کردینے کی وجہ سے نہیں بلکہ پوری زندگی میںمتنوع قربانیاں پیش کیںجس کوبطورنمونہ اللہ نے ہمارے لیے محفوظ کردیاہے۔انہوںنے وقت کی قربانی اس طوردی کہ غیراللہ کی پرستش پرغوروفکر کیااورحالات وکوائف سے اندازہ لگاتے ہوئے خدائے واحداوردین حنیف کی راہ میں سرگرداں رہے۔جوانی کے جن ایام میں لوگ سرمستی اوربے خوابی میں ہوتے ہیں انھوںنے تلاشِ حق میں گزاری ۔ یہ وقت کی قربانی نہیں توپھراورکیا ہوسکتی ہے کہ جہاں ہرقسم کی جسمانی آرائش مہیاہو؛روحانی سکون کی تلاش میں بے قرارہوں۔وقت کوبھانپ کرسہی سمت اختیارکی اورپھرمعبودبرحق کو پانے میں کامیابی حاصل کی۔رضائے الٰہی کے خاطرآگ میں کود کرجان کی قربانی دی، اہل وعیال کی محبت کی عظیم قربانی وادیٔ ذی زرع میںان کوچھوڑکر دی،دین حنیف کی راہ میں وقت کے بادشاہ اورخوداپنے مشرک باپ سے نزاع مول لیا،ضعیفی کی حالت میںاللہ کے حکم سے بیٹے کی گردن پرچھری رکھنے میں تامل نہیں برتا۔تب جاکر خلیل اللہ جیسے مقدس لقب سے ملقب ہوئے اورنادر ونایاب موتی کی صورت میں آنے والی نسلوں کے لیے نمونہ بنے۔غرض کہ دیکھاجائے توحضرت ابراہیم علیہ السلام کی پوری زندگی قربانیوں سے عبارت ہے ۔اس کے برعکس موجودہ وقت میںمسلم معاشرہ کاجائزہ لیاجائے تو ان کے اندر عشرعشیرکی قربانیاں بھی نہیں پائی جاتی ہیں۔خودغرضی،تہمت طرازی،بدقماشی اورچغلخوری عام سی بات ہے؛قربانی کے نام پر ذرہ برابرصبروتحمل اور انسانیت نوازی نہیں پائی جاتی ۔قربانی قربانی ہوتی ہے جس میں اخلاص وللہیت کاپایاجاناضروری ہے ،اب یہ قربانی خواہ اہل وعیال کے تئیں ہویا اللہ کے لیے۔اہل وعیال کے لیے اس طورپر کہ انہیں بہترین تعلیم وتربیت اوربرتری کے لیے سازگارماحول فراہم کرنے میںتعاون کیاجائے ،جس میںدکھاوا،خودغرضی اورخودستائی کاپہلوہرگزنہ پایاجائے ۔

قربانی ؛ قربانی ہے

file photo

صرف نظر آج ہندوستان میں مسلمان انتہائی لاچاری کی زندگی گزارنے پر مجبورہیں اوریہ حقیقت ہے جس سے انکار ممکن نہیں۔ہم سیاسی دباؤمیں آکرمنہ بھرائی کے لیے ضرورکہہ دیتے ہیں کہ ہم محفوظ ہیں لیکن تسکین قلب حاصل نہیں ہوتاہے۔ ذاتی طور پر تجربہ ہے کہ اِدھرکئی برسوں سے مسلمانوں کے خلاف ہورہے تشدداوربے جاگرفتاریوں سے گھرسے باہرنکلنے میں دقت محسوس ہوتی ہے،سفرپرنکلنے سے پہلے ضروری شناختی کارڈ لے کرچلناپڑتاہے باوجوداس کے خوف سالگارہتاہے کسی انہونی کا۔ یہ ایک ایسی کیفیت ہے جس سے ایک عام مسلمان ضرورمتأثرہے،جس کے بہت ہی بھیانک اوربرے نتائج ذہن پر ثبت ہوتے ہیں۔کیاہم اپنی تشخص کے لیے اتنامجبورہوں کہ ہجومی تشددسے خوف لاحق ہو،میں یہ بات پوری دیانت داری کے ساتھ کہہ رہاہوں ، ہندوستان جمہوری ملک ضرور ہے پھربھی ہم آزادنہیں ہیں۔چوردروازوں سے ہماری مذہبی شناخت مٹانے کی مذموم کوشش جاری ہے،اذان پربے تکی بیان بازیاں ہورہی ہیں،عائلی مسائل کوسرِبازاراُچھالا جارہاہے ،مدارس وجامعات کوکھلم کھلانشانہ بنایاجارہا ہے،نامورمسلم شخصیات کوپھانسے کاعمل ہورہاہے۔کیامسلمان اب بھی یہی کہے گاکہ ہم ہندوستانی آئین میں دیئے قانون کے مطابق آزادہیں ،ہماری مذہبی آزادی محفوظ ہے؟ذراغوررکریں!!!

قربانی کے ایام ہرسال آتے ہیں اوربغیرکسی رَیلے اوراتحادباہم کے گزرجاتے ہیں ۔کیاقربانی صرف اللہ کی راہ میں جانور قربان کے ساتھ مختص ہے ؟ کیااپنے مذہبی شناخت،عزت نفس،اسلامی شعائرکے لیے قربانی نہیں دے سکتے ہیں؟لیکن کیسے ہم تومسلکی منافرت کوبڑھاوادینے میں لگے ہوئے ہیں،دشنام طرازی میںمقابلہ آرائی کررہے ہیں۔ہوناتویہ چاہیے کہ ہم قربانی پرغورکریں پھرہندوستان میں ہورہی ظلم وزیادتی کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوں اورجمہوری طرز پراپنااحتجاج متحدہوکردرج کرائیں، حکومت کومجبورکریں کہ ہمارے آئینی حقوق ہمیں فراہم کرے اورشہری تحفظ فراہم کرے۔یقینایہ بہت بڑی قربانی ہے جس پر اصحاب حل وعقدکوغورکرنے کی ضرورت ہے،یہ ایام ہمیں جھنجھوڑنے کے لیے آتے ہیں کاش کہ ہم ان پردھیان دیتے!!

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز