Live Results Assembly Elections 2018

ہادیہ عرف اکھیلا : پیار کو پیار ہی رہنے دیں ، مذہبی رنگ نہ دیں

Dec 26, 2017 07:26 PM IST | Updated on: Dec 26, 2017 07:36 PM IST

ہفتہ 25 نومبر کو ہادیہ کو سپریم کورٹ میں گواہی دینے کیلئے دہلی لایا جارہا تھا ، کنبہ کے علاوہ ساتھ میں پولیس اور سیکورٹی اہلکار بھی تھے ۔ بھاری سیکورٹی کے درمیان جیسے ہی ہادیہ نیدم بیسری میں واقع ہوائی اڈے پر پہنچی تو چاروں طرف افرا تفری کا ماحول ہوگیا ۔ میڈیا اہلکار ہادیہ سے بات کرنا چاہتے تھے ، مگر پولیس انہیں بات کرنے سے روک رہی تھی ۔ حالانکہ کالے رنگ کے برقع میں ہادیہ کچھ کہنا چاہتی تھی ، اس نے دور سے چلا کر کہا میں ایک مسلم ہوں ، میرے اوپر کوئی دباو نہیں ہے ۔ میں اپنے شوہر کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں۔

اس کے پہلے کیرالہ کے مبینہ لو جہاد کیس کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے بھی 30 اکتوبر کو کہا تھا کہ لڑکی کی مرضی سب سے اہم ہے۔ وہ بالغ ہے ، عدالت نے ہادیہ کے والد کو حکم دیا کہ وہ 27 نومبر کو اپنی بیٹی کو عدالت میں پیش کریں ۔ اسی پیشی کیلئے ہادیہ کو دہلی لے جایا جارہاتھا جب اس نے چلا کر اپنی مرضی سے اسلام قبول کرنے اور شادی کرنے کی بات کہی ۔

یہ بات ہادیہ نے سپریم کورٹ میں بھی دوہرائی لیکن حیرت ناک طور پر 27 نومبر کی سماعت میں سپریم کورٹ نے اس مسئلہ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ۔ عدالت نے کہا کہ ایک بالغ لڑکی کو اس کی مرضی کے خلاف والدین کی نگرانی میں نہیں رکھا جاسکتا ۔ ساتھ ہی عدالت نے ہادیہ کو اس کے کالج بھیجنے اور پڑھائی شروع کرنے کی اجازت دی ، لیکن اس مسئلہ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ، جس کی وجہ سے یہ معاملہ ملک کی عدالت عظمی تک پہنچا تھا۔ یعنی ہادیہ کی شادی ، اس کا اسلام قبول کرنا اور اپنے شوہر کے پاس واپس لوٹنے کی اس کی منشا ، جس کو وہ بار بار کورٹ اور پولیس کے سامنے دوہرا چکی ہے۔ دسمبر 2016 سے کیرالہ کی رہنے والی خاتون ہادیہ عرف اکھیلا کا معاملہ سرخیوں میں ہے ۔

پچیس سال کی ہادیہ نے اسلام قبول کرنے کے بعد دسمبر 2016 میں شافعین جہاں نامی شخص سے اپنی مرضی سے شادی کی تھی لیکن یہ شادی نہ اکھیلا کے اہل خانہ کو منظور تھی اور نہ ہی ان کے سماج کو اور نہ ہی کیرالہ ہائی کورٹ کو ۔ فی الحال یہ معاملہ عدالت عظمی کے سپرد تو ہے ، لیکن تمام سیاسی اور مذہبی کھینچ تان کی وجہ بھی بنا ہوا ہے ۔ مذہبی شدت پسندوں کا ایک بڑا طبقہ اسے لو جہاد ثابت کرنے پر آمادہ ہے تو وہیں مسلمانوں کا بھی ایک طبقہ اسے لو جہاد مانتے ہوئے اس پر فخر کرنا چاہتا ہے ۔ اس ساری گھمسان کے درمیان دو ضروری باتیں کہیں گم ہوگئی ہیں ، جو اکیسویں صدی میں ایک جمہوری ملک کیلئے سب سے بڑے سوال ہونے چاہئیں تھے ۔ کیا ہم پیار کے خلاف ہیں اور کیا اس ملک کی جمہوریت ایک بالغ اور تعلیم یافتہ لڑکی کو اپنی زندگی کے اہم فیصلے کرنے کی اجازت دیتی ہے۔

ان دونوں سوالوں کا جو جواب ہے وہی ہادیہ کے مسئلہ پر اس ملک کا ہر سمجھدار اور ذی شعور شخص کا جواب ہونا چاہئے تھا ۔ مسئلہ یہاں مذہب کا ہے ہی نہیں جیسا کہ اسے رنگ دینے کی مسلسل کوشش کی جارہی ہے ۔ لو جہاد جیسا ایک تصوراتی جن کھڑا کیا جارہا ہے جو در اصل ہے ہی نہیں ۔ معاملہ صرف اتنا ہے کہ ہادیہ بالغ ہے ، پڑھی لکھی ہے ، ڈاکٹری کی پڑھائی کررہی ہے اور خود کفیل ہے ، اسے اپنی زندگی کے سارے اہم اور معمولی فیصلے لینے کا حق ہے ۔ اس ملک کا آئین اسے یہ اجازت دیتا ہے کہ جیسے وہ اپنی مرضی سے ووٹ دے سکتی ہے اور اس ملک کی سرکار کو منتخب کرسکتی ہے ، اسی طرح اپنی مرضی سے شادی بھی کرسکتی ہےاور اپنا رفیق حیات بھی منتخب کرسکتی ہے۔

ہادیہ نے پولیس ، کیرالہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے سامنے اپنے بیانوں میں بار بار یہی بات دوہرائی کہ میں نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے ، مجھ پر کوئی دباو نہیں ہے اور میں اپنے شوہر کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں ، عدالت کے کہنے پر اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنے کیلئے جب وہ کالج کے ہاسٹل پہنچی تب بھی ہادیہ کا پہلا جملہ یہی تھا کہ میں اپنے شوہر کے پاس جانا چاہتی ہوں ، اس سے ملنا چاہتی ہوں ۔

ہادیہ بار بار یہ بات دوہرا رہی ہے کہ میری زندگی اور میرا فیصلہ ہے اور اسی دور میں اسی ملک میں یہ ہورہا ہے کہ ہادیہ کو چھوڑ کر باقی سب لوگ اس کی زندگی کا فیصلہ لینے کیلئے آمادہ ہیں ۔ والدین ، پولیس ، عدالت ، کچہری اور سماج سے لے کر مذہب اور سیاست کے ٹھیکہ داروں تک ۔ دنیا جب چاند پر پہنچ گئی ہے ، بنیادی انسانی حقوق کے معاملوں میں ہم اب بھی اے بی سی ڈی رٹے جارہے ہیں۔

اور دوسری سب سے بڑی حیرت تو یہ ہے کہ ایک بالغ لڑکی ، جس نے اپنی مرضی سے پیار کیا ، شادی کی اس کے رشتے میں ہمیں پیار چھوڑ دنیا کی ہر سازش نظر آرہی ہے۔ ہم کیسا سماج ہیں ، پیار مخالف سماج ۔ ایک ایسا سماج جہاں مذہب کے نام پر ہر طرح کے فساد اور ہنگامہ کیلئے تو جگہ ہے ، لیکن دو الگ مذہب کے لوگوں کے درمیان پیار کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے ۔

اسلام قبول کرنا ہادیہ کا اپنا فیصلہ تھا ۔ تاریخ میں اور اسی سماج میں ایسی بھی مثالیں ہیں ، جہاں کسی لڑکے نےکسی مسلم لڑکی سے شادی کرنے کیلئے اسلام قبول کیا ۔ بہت سارے لوگ جن کی زندگی میں انسانیت اور محبت کی جگہ کسی بھی مذہب سے بہت اونچی ہے ، انہیں مذہب بدلنے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی ۔ ہماری فلم صنعت بین مذاہب شادیوں کی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ حال ہی میں کرکٹر ظہیر خان اور اداکارہ ساگریکا گھاٹکے کی شادی ہم نے دیکھی ، جہاں دونوں نے نکاح قبول بھی کیا اور مندر کی چوکھٹ پر پیشانی بھی ٹیکی ۔ جیسے شاعر حسین حیدری اپنی شاعری ہندوستانی مسلمان میں لکھتے ہیں کہ میں ایسا ہندوستانی مسلمان ہوں ، جس نے اذان بھی پڑھی ہے اور گنگا اشنان بھی کیا ہے ۔

یہی ہیں ہم ، یہی ہے ہماری گنگا جمنی تہذیب ، یہ سب کو گلے لگاتی ہے ، یہاں سب کیلئے جگہ ہے ۔

اور اس گنگا جمنی تہذیب کے اوپر ہے اس ملک کی جمہوریت جو ہر شہری کو مساوات ، آزادی اور پرائیویسی کا حق دیتی ہے ۔

ہادیہ اسی ملک کی شہری ہے ، یہ جمہوریت ان کی بھی اتنی ہے ، جتنی کسی رادھا اور سیتا کی ۔ اس لئے بہتر ہوگا کہ ہادیہ کے معاملہ کو کسی سیاسی اور مذہبی رنگ میں رنگنے کی بجائے ہم اسے جمہوریت ، انسانی حق اور اس سے بھی بڑھ کر انسانیت اور محبت کی نظر سے دیکھیں اور ایسے فیصلے کریں کہ آنے والی نسلیں ہماری تنگ ذہنی پر شرمندہ نہ ہوں ۔ تاریخ میں ہمارا نام پیار مخالف کی فہرست میں درج نہ ہو۔

نوٹ : منیشا پانڈے نیوز 18 ہندی سے وابستہ ہیں ۔  

ری کمنڈیڈ اسٹوریز