Live Results Assembly Elections 2018

ہادیہ معاملہ کو ہندو یا مسلم کی عینک سے نہیں دیکھا جانا چاہئے

Dec 27, 2017 01:32 PM IST | Updated on: Dec 27, 2017 01:32 PM IST

ہندوستانی آئین کے پارٹ 3 میں آرٹیکل 12 سے 35 تک جو بھی ہندوستان کے شہری ہیں انہیں بنیادی حقوق حاصل ہیں۔ اس میں آرٹیکل 19 سے 22 تک میں رائٹ ٹو فریڈم اور آرٹیکل 22 سے 28 رائٹ ٹو ریلیجس فریڈم کا حق دیا گیا ہے جس میں اسے اپنے مذہب کو ماننے یا کوئی دوسرا مذہب اختیار کرنے کی آزادی حاصل ہے۔

اس کے ساتھ ہی دی اسپیشل میریج ایکٹ، 1954 کے تحت کوئی بھی بالغ ہندوستانی شادی کر سکتا ہے۔ اس میں ضروری نہیں کہ وہ اس مذہب کو مانے جسے کہ وہ فالو کرتا ہے۔ اس میں دو الگ مذہب کے لوگ بھی ایک ساتھ شادی کر سکتے ہیں اور ان کی شادی قانونی اعتبار سے درست مانی جائے گی۔ مگر جب ہمارے سامنے ہادیہ جیسے معاملے آتے ہیں تو ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے بنیادی حقوق کہاں ہیں اور کیا وہ حقوق ہم سے چھینے جا رہے ہیں۔

کیرالہ کی رہنے والی لڑکی ہادیہ جس نے دوسرے مذہب کے لڑکے سے شادی کی یہ واقعہ ان دنوں ہر ایک اخبار کی سرخی بنا ہوا ہے۔ اس واقعہ کو سامنے رکھتے ہوئے اگر میں اپنے دس سال پیچھے جاتی ہوں اور اپنے ان دنوں کو یاد کرتی ہوں تو ہمیں لگتا ہے کہ اس وقت پیار کرنے والوں کے لئے سماج کا دائرہ اتنا چھوٹا نہیں تھا۔ یہاں میں ذات پات اور مذہب کا نام اس لئے لکھ رہی ہوں کہ اپنی بات میں واضح طریقہ سے کہہ سکوں۔

میں اپنے کالج کے دنوں کے دو واقعات یہاں نقل کرنا چاہوں گی۔ میری ایک ساتھی جو کہ پنڈت برادری کی تھی اس نے ایک ایس ٹی ذات کے لڑکے کو پسند کیا جس میں اس کے گھر والے شادی کے لئے راضی نہیں تھے۔ مگر ہم سب ساتھی جس میں پنڈت ذات کے کچھ لڑکے لڑکیاں اور مسلم بھی تھے سب نے مل کر ان کی شادی ایک آریہ سماج مندر میں کرائی۔ پھر عدالت میں ان دونوں کی شادی ہوئی۔ اس میں ہم سب کو صرف اپنے والدین کا ڈر تھا اور کسی کا نہیں۔ آج وہ دونوں ایک خوشگوار زندگی گزار رہے ہیں اور ان کی شادی شدہ زندگی پر ذات پات آج تک حاوی نہ ہوئی۔

دوسرا واقعہ میرے ساتھی کے ایک دوست کا ہے جو کہ ہندو تھے اور وہ ایک مسلم لڑکی کو پسند کرتے تھے۔ وہاں بھی ساتھ کے مسلمان اور دوسرے مذہب کے لڑکے لڑکیوں نے ان دونوں کی اسپیشل میریج ایکٹ کے تحت شادی کرائی۔ یہاں بھی ان کے دوستوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ کون ہندو ہے اور کون مسلمان۔ وہ سب ایک پیار کرنے والوں کی مدد کر رہے تھے اور جس میں وہ کامیاب بھی ہوئے۔ جس میں قانون نے ان کا پورا پورا ساتھ دیا۔ اور آج یہ لوگ بھی ایک خوشگوار زندگی جی رہے ہیں۔ مگر آج جب ہم ہادیہ جیسے معاملوں کو دیکھتے ہیں تو دیکھتے ہی ہم اپنی سوچوں میں بہت پیچھے اپنے کو پاتے ہیں۔

اگر یہ مانا جائے کہ سماج ایک ایٹم ہے اور اس کو جوڑے رکھنے کا کام ان کی سوچوں کے ساتھ نیوکلس جوڑنے کا کام کرتا ہے اور اگر یہی نیوکلس توڑنے کا کام کرے تو سماج ایک ایٹم بم کی شکل لے لے گا اور سماج میں جو پیار، محبت اور رشتے ہیں وہ ایٹم بم کی طرح ٹوٹ کر پھٹ جائیں گے اور چاروں طرف یہ رشتے بکھر جائیں گے۔

اس لئے ہماری سیاست جو کہ نیوکلس کی طرح کام کرتی ہے اس کا کام لوگوں کو جوڑنے کا ہونا چاہئے نہ کہ لوگوں کو توڑنے کا کام جو کہ آج کی سیاست کر رہی ہے۔ اس لئے ہمیں ایک ساتھ مل کر سماجی ایٹم بم کو پھٹنے سے روکنا ہے۔ نہیں تو ہمارا سماج سماجی ایٹم بم بن جائے گا اور سماج بکھر جائے گا جسے سمیٹنا بہت مشکل ہو جائے گا۔

میرا یہ ماننا ہے کہ ہادیہ کے معاملہ کو ہندو یا مسلم کے چشمہ سے نہیں دیکھا جانا چاہئے۔ یہ دراصل، ہادیہ کے نجی حقوق کا معاملہ ہے جسے عدالت طے کرے گی۔ اس بارے میں کسی بھی مذہب کا حوالہ دے کر تنقید کرنا یا حمایت کرنا درست نہیں ہے۔

ترنم صدیقی، اکیڈمیشین، وومن اسٹڈی، جامعہ ملیہ اسلامیہ

نوٹ: یہ مضمون نگار کی اپنی رائے ہے۔ اس سے نیوز 18  ,اردو کا اتفاق ضروری نہیں۔

ری کمنڈیڈ اسٹوریز