اجتماعیت ویکجہتی کاعظیم مظہر: حج

Aug 10, 2017 11:00 PM IST | Updated on: Aug 10, 2017 11:00 PM IST

حج اسلام کا بنیادی ستون ہے جومسلمانوں پربروبہ صحت ومال اوربلوغت کی صورت میں فرض ہے،اسلام کے احکام وپیام میں امت کے لیے گوناگوں خصوصیات پنہاں ہیں ،حج اسلا می اتحادو اتفاق ،یکجہتی کو برقرار رکھنے اورقدم سے قدم ملاکرچلنے کا بہترین عملی نمونہ ہے اللہ رب العالمین نے ارشادفرمایا’’ثم افیضوا من حیث افاض الناس‘‘(سورۃالبقرہ:۱۹۹)’پھرتم اس جگہ سے لوٹوجہاں سے سب لوگ لوٹتے ہیں‘۔حج ہر سال مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کے جغرافیائی، لسانی ، نسلی اور سیاسی اختلافات کو مٹا کر انہیں ایک عالم گیری وحدت کی تشکیل اور اتحاد امت کی تجدید کا موقعہ عطا کرتا ہے۔۔مختلف رنگ و نسل، زبان اور علاقے کے لوگ ایک ہی جگہ ایک ہی وقت میں جمع ہو کر ایک جیسا لباس پہن کر یکساں اعمال و افعال انجام دیتے ہیں جس سے اسلامی اتحادو اتفاق کو تقویت حاصل ہوتی ہے۔حج امیرغریب ،شاہ وگداکے امتیازکوختم کرکے روحانی اخوت وبھائی چارگی کادرس دیتاہے۔حج اسلامی معاشرہ کی تشکیل، عرب و عجم کے اختلافات کو مٹا نے اور انہیں کھوئی ہوئی عزت وسربلندی عطا کرنے کے لئے حیرت انگیز انقلاب پید ا کر سکتا ہے۔ اسلامی معاشرے کی تشکیل سے ہی مسلمان سیاسی، فنی، عملی، تہذیبی اور سماجی میدان میں ترقی کر سکتے ہیں۔ بایں ہمہ حج میں بہت سے انفرادی مادی، روحانی، اجتماعی فوائد پوشیدہ ہیں اسی لیے اللہ رب العالمین نے ارشاد فرمایا’’لِیَشہَدُوا مَنَافِعَ لَہُم‘‘تاکہ دیکھیں کہ اس حج میں ان کیلئے کیسے کیسے فائدے ہیں۔مختصریہ کہ حج حقیقی معنو ں میں تما م ظاہری امتیازات و اختلافات کا قلع قمع کر کے مسلمان کے اندر عاجزی، جانثاری ، تقوی شعاری ،خشیت الٰہی سادگی، انسان دوستی، اخوت، مساوات اور ملی وحدت کا زبر دست جذبہ پیدا کرتا ہے۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:’اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے۔ اس بات کی گواہی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اس بات کی گواہی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، رمضان کے مہینے کے روزے رکھنا اور بیت اللہ کا حج کرنا(متفق علیہ)۔‘

اجتماعیت ویکجہتی کاعظیم مظہر: حج

بین الاقوامی مسلم اتحاد کے لیے اسلام کے یہ پانچ نکات کافی ہیں،بلاتفریق مسلک تمام مسلمانوں کا ان پانچوں چیزوں پرایمان ہے جس کی ادائیگی تمام کے یہاں فرائض میں شامل ہے۔اگرہم غورکریں توپائیںگے کہ اتحادبین المسالک کی کتنی بین دلیل اس حدیث میں موجودہے۔اسلام نے عبادات ومعاملات اورزندگی کے تمام گوشوںمیں کہیں نہ کہیں بین السطور یکجہتی واتحاد پرزوردیاگیاہے جس پرہمیں بنظرغائرتدبرکرنے کی ضرورت ہے۔حج کے منجملہ تمام مشاعر میں ایک مومن کوحتی المقدور تکمیل ایک ساتھ کرنی ہوتی ہے ۔ آٹھویں ذی الحجہ سے لے کر دسویں ذی الحجہ کو وہ روح پرورمناظرہوتے ہیں کہ دنیارشک کرتی ہے ۔اسی لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کفارقریش اوراہل مکہ کودکھلانے کے لیے طواف کے دوران رمل( دلکی چال چلنا) کاحکم دیاہے تاکہ دنیا آنکھیں پھاڑپھاڑ کراتحادالمسلمین کایہ روح پرورنظارہ اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھیں :حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں:’’امرھم النبیﷺان یرملواثلاثۃأشواط ویمشواأربعا،مابین الرکنین‘‘ (متفق علیہ) ’اللہ کے رسول ﷺنے انہیں حکم دیاکہ(طواف کے ابتدائی)تین چکروں میں دورکنوں(رکن یمانی اورحجراسود) کے درمیان ہلکی ہلکی دوڑلگانے اورباقی چارچکروں میں معمول کے مطابق چلنے کاحکم دیاتھا‘۔

دین کے دشمنوں کے سامنے قوت کااظہار مستحب ہے اسی وجہ سے طواف اورسعی میں رمل کا حکم دیاگیاہے۔اصحاب رسول کو مدینے کی آب و ہوا شروع میں کچھ ناموافق پڑی تھی اور بخار کی وجہ سے یہ کچھ لاغر ہوگئے تھے، جب آپ مکہ پہنچے تو مشرکین مکہ نے کہا یہ لوگ جو آرہے ہیں انہیں مدینے کے بخار نے کمزور اور سست کردیا اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے اس کلام کی خبر اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو کردی۔ مشرکین حطیم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے آپ نے اپنے اصحاب کو حکم دیا کہ وہ حجر اسود سے لے کر رکن یمانی تک طواف کے تین پہلے پھیروں میں دلکی چال چلیں اور رکن یمانی سے حجر اسود تک جہاں جانے کے بعد مشرکین کی نگاہیں نہیں پڑتی تھیں وہاں ہلکی چال چلیں پورے ساتوں پھیروں میں رمل کرنے کو نہ کہنا یہ صرف بطور رحم کے تھا، مشرکوں نے جب دیکھا کہ یہ تو سب کے سب کود کود کر پھرتی اور چستی سے طواف کر رہے ہیں تو آپس میں چی می گوئیاںکرنے لگے کہ انہی کی نسبت اڑا رکھا تھا کہ مدینے کے بخار نے انہیں سست و لاغر کردیا ہے؟ یہ لوگ تو فلاں فلاں سے بھی زیادہ چست و چالاک ہیں۔

حج ثواب کے اعتبارسے نہایت عظیم عبادت ہے،کیونکہ مؤمن بندہ حج میں مالی وبدنی تمام قوت صرف کرتاہے اورفج عمیق سے نکل کربیت اللہ کے سفرپر جاتاہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:’’سئل النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ای العمل افضل؟ قال ایمان باللّٰہ ورسولہ۔ قیل: ثم ماذا؟ قال الجھاد فی سبیل اللّٰہ۔ قیل: ثم ماذا؟ قال: حج مبرور۔‘‘ (متفق علیہ)ترجمہ:’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سا عمل افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: اللہ اور اس کے رسول پر ایمان۔ پوچھا گیا: اس کے بعد؟ آپ نے فرمایا: اللہ کے راستے میں جہاد۔ پوچھا گیا: اس کے بعد؟ آپ نے فرمایا: حج مبروریعنی وہ حج جسے اداکرتے ہوئے، اس کے سارے تقاضے پورے کیے گئے ہیں۔‘‘

آپ نے ایک دفعہ لوگوں سے کہا:’’ایھا الناس، قد فرض اللّٰہ علیکم الحج، فحجوا۔ من حج للّٰہ‘ فلم یرفث ولم یفسق، خرج من ذنوبہ کیوم ولدتہ امہ۔ والعمرۃ الی العمرہ کفارۃ لما بینھما۔ والحج المبرور لیس لہ جزاء الا الجنۃ۔‘‘(متفق علیہ) ترجمہ’’اے لوگو،اللہ نے تم پر حج فرض کیا ہے۔لہٰذا،حج کرو۔جو شخص اللہ کے لیے حج کرے، پھر نہ کوئی فحش بات کرے اور نہ کوئی گناہ کرے، تو وہ اپنے گناہوں سے اس طرح نکل آئے گا، جیسے وہ اس روز (گناہوں سے پاک تھا) جب اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا۔ اور ایک عمرے کے بعد دوسرا عمرہ، درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہے اور وہ حج جسے ادا کرنے میں سارے تقاضے پورے کیے گئے ہوں، اس کا بدلہ، لازماً جنت ہے۔‘‘

قرآن مجید نے ملت ابراہیمی کی اس عبادت کو اس کے صحیح طریقے پر پھر سے استوار کیا ہے۔ یہودیوں نے ملت ابراہیمی کے مرکز، خانہ کعبہ، حج اور بنی اسماعیل کی تاریخ مسخ کردیے، اپنی کتاب میں اس کے تمام شواہد بگاڑدیے یا ان میں تحریف کر دی تھی۔قرآن مجید نے ان کی اس حرکت پر انھیں تنبیہ کی اور اس کے بعد فرمایا:’’فِیْہِ آیَاتٌ بَیِّنَاتٌ مَّقَامُ إِبْرَاہِیْمَ وَمَنْ دَخَلَہٗ کَانَ آمِناً وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَیْْہِ سَبِیْلاً وَمَنْ کَفَرَ فَإِنَّ اللّٰہ غَنِیٌّ عَنِ الْعَالَمِیْنَ۔‘‘(آل عمران:۹۷) ’’وہاں واضح نشانیاں ہیں،مقام ابراہیم ہے جو اس میں داخل ہو جائے وہ مامون ہے۔اوراللہ رب العالمین کی رضا کے خاطرصاحب استطاعت پرجوسفرکے قابل ہو حج فرض ہے اورجس نے انکارکیااللہ ان تمام لوگوں سے بے نیاز ہے۔‘‘

اللہ رب العالمین نے ارشادفرمایا’’الحَجُّ أَشْہُرٌ مَّعْلُوْمَاتٌ فَمَنْ فَرَضَ فِیْہِنَّ الْحَجَّ فَلاَ رَفَثَ وَلاَ فُسُوْقَ وَلاَ جِدَالَ فِی الْحَجِّ وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْْرٍ یَّعْلَمْہُ اللّٰہُ وَتَزَوَّدُوْا فَإِنَّ خَیْْرَ الزَّادِ التَّقْوٰی وَاتَّقُوْنِ یَا أُوْلِی الأَلْبَابِ۔‘‘ (البقرہ :۱۹۷) ترجمہ:حج کے مہینے مقررہیں اس لیے جوشخص ان میں حج لازم کرلے وہ اپنی بیوی سے میل ملاپ کرنے،گناہ کرنے اورلڑائی جھگڑے کرنے سے بچتارہے ،تم جونیکی کروگے اس سے اللہ باخبرہے اوراپنے ساتھ سفرکاخرچ لے لیاکروسب سے بہترتوشہ اللہ کاڈر ہے اوراے عقلمندو!مجھ سے ڈرتے رہاکرو۔ایک حاجی کا حج سے اصل مقصود اپنے خدا کی رضا اور خوشنودی ہونا چاہیے ۔ ریاونمود، عزوجاہ اورعوام میں نام نہاد حاجی بننے کی خواہش نہ ہوبلکہ قرآن مجید کے احکام کے مطابق:’’وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ لِلّٰہِ۔‘‘(البقرہ :۱۹۶) ترجمہ:’’اور حج اور عمرہ صرف اللہ کے لیے کرو۔‘‘اوراللہ کے رسولﷺ نے ارشادفرمایا:’’مَن أراد الحج فلیتعجل فإنّہ قد یمرض المریض وتضل الضالہ وتعرض الحاج‘‘(رواہ أبو داود ، وأحمد :۱۸۳۶)یعنی جوشخص حج کرنے کانیک ارادہ رکھتاہوتواسے جلدی کرنی چاہیے کیونکہ اس کوبیماری لاحق ہوسکتی ہے،یاراہ بھٹک سکتاہے یاکوئی عارضہ پیش آسکتاہے۔

حج جہاں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور کبریائی کے آگے جھکی انسانیت کے اقرار و اظہار کا سب سے بڑا مظہر ہے وہاں رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت و نبوت کی عظمت و شوکت کا بھی دلربا منظر ہے۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو حج کے جو طریقے بتلائے اورخود اس پرعمل کیا اس حجاج کرام بعینہٖ حتی المقدورعمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔فرمان ہے’’ثم افیضوا من حیث افاض الناس‘‘پھرتم اس جگہ سے لوٹوجہاں سے سب لوگ لوٹتے ہیں‘۔اس کے حکم کے چلتے پورا مجمع ایک شخص بن جاتا ہے، جسے معلوم ہوتا ہے کہ کس وقت کیا کام انجام دینا ہے۔ جہاں ٹھہرنے کا حکم دیاگیا وہاں ٹھہراجاتاہے ۔ حاجی تمام ارکان بحسن وخوبی اداکرتاہے پھروقوف ،طواف،احرام،منٰی میں قیام ،سعی بین الصفا والمروہ،شیطان کوکنکری مارنے کاعمل ،توبہ واستغفار،زیادہ سے زیادہ اذکارالٰہیہ میں منہمک رہنے کایہ عمل دنیاکے سامنے ایک نادرمثال پیش کرتاہے کہ کس طرح قرآن وسنت اوراسلام کے ماننے والے ایک اشارے پرسرتسلیم خم کیے ہوئے ۔حج سے بڑا کوئی موقع ہوہی نہیں سکتاجس میں تمام عبادتیں جمع ہوجائیں،حج میں جسمانی ومالیاتی تمام قوتوںکوسونارکی بھٹی میں جلایاجاتاہے کہ اس کاصلہ گناہوں سے کفارہ اورنومولودکے کورے نامۂ اعمال کی صورت میں بندے کواللہ رب العالمین عطاکرتاہے۔’’ ثُمَّ لیَقضُوا تَفَثَہُم ‘‘(الحج:۲۹) پھر حاجیوں کو چاہیئے کہ اپنا میل کچیل دور کریں۔ حجاج اپنی خودکی ظاہری اور باطنی برائیوں کا خاتمہ کریں اور مستقبل میں امت مسلمہ کی بیداری کا سامان کریں۔جب حاجی اپنے سرزدشدہ گناہوں کوبیان کرکے یا اجمالی طورپراستغفارطلب کرتاہے تومجیب الدعوات اپنے فرشتوں میں فرخ کرتاہے اورپھر انہیں گواہ بناتے ہوئے عام معافی کااعلان کردیتاہے ۔

اجتماعیت واتحادکے ساتھ حج کاسب سے اہم پیغام ’’وَمَنْ دَخَلَہ کَانَ اٰمِناً‘‘نے دیاہے جس امن وسکون کی متلاشی آج پوری دنیااورخودساختہ امن پسندلوگ ہیں۔درحقیقت عالمی امن وسکون کایہ مظاہرہ پروپگنڈہ کے سواکچھ نہیں ۔اسلام جس سپریم نظام کی وکالت کرتاہے وہ رہتی دنیاتک عملی نمونہ کے طورپر موجودہے ۔نام نہاد امن کا ڈھنڈھوراپیٹنے والے ممالک کواسلام کے حج جیسے امن وسکون سے پُر نمونہ کودیکھناچاہیے اورپھراپنی بساط اسی کے مطابق وسیع کرنی چاہیے۔ قانون سے سرموانحراف کی صورت میں دہشت گردی عام ہورہی اورامن وسکون تہس نہس ہورہے ۔اللہ ہمیں شرعی قوانین کاپاسداربنائے ،(آمین)

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز