حامد صاحب ! پہلے ہم ہندوستانی تھے ، لیکن اب ہندو اور مسلمان ہیں

Aug 11, 2017 02:45 PM IST | Updated on: Aug 11, 2017 02:45 PM IST

ہمیں فخر کس بات پر ہے ، ہندوستانی ہونے پر یا ہندو مسلم ہونے پر! حامد انصاری کے بیان نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اپنے ارد گرد نظر گھما کر دیکھئے، آپ کو کیا لگتا ہے ... سب کچھ نارمل ہے ... یا پھر اپنی الوداعی سے پہلے نائب صدر حامد انصاری نے جو کہا، کیا واقعی ایسا ہے؟

مسلمانوں کے دل میں کیا ہے اسے جاننے کے لئے مشاعروں سے بڑی جگہ کوئی نہیں ہو سکتی۔

حامد صاحب ! پہلے ہم ہندوستانی تھے ، لیکن اب ہندو اور مسلمان ہیں

راحت اندوری کی ان لائنوں کو آپ غور سے پڑھئے ۔

اب غنیمت ہے صبر میرا، ابھی لبالب بھرا ہوا نہیں ہوں

وہ مجھ کو مردہ سمجھ رہا ہے، اسے کہومیں نے مرا نہیں ہوں۔

------------------------------------------ -----------

وہ کہہ رہا ہے کہ کچھ دنوں میں مٹا کے رکھ دوں گا نسل تیری

ہے اس کی عادت ڈرا رہا ہے، ہے میری فطرت ڈرانہیں ہوں

------------------------------------------- ----------

اونچے اونچے درباروں سے کیا لینا

ننگے بھوکے بے چاروں سے کیا لینا

اپنا مالک، اپنا خالق افضل ہے

آتی جاتی حکومتوں سے کیا لینا

---------------------------- ----------

سبھی کا خون ہے شامل یہاں کی مٹی میں

کسی کے باپ کا ہندوستان تھوڑی ہے

آپ کو کیا لگتا ہے یہ کون کس سے کہہ رہا ہے؟ اب ذرا عمران پرتاپ گڑھي کی ان لائنوں کو پڑھیں جو مسلمانوں کا رشتہ دہشت گردی سے جوڑنے پر پڑھی گئی ہیں۔

یہ کس نے کہہ دیا تم سے ان کا بم سے رشتہ ہے

بہت ہیں زخم سینے میں، فقطمرہم سے رشتہ ہے

ہاشم فیروز آباد ی جب یہ لائنیں پڑھتے ہیں تو موجود مجمع جوش سے بھر جاتا ہے

بس خدا کا بھروسہ ہے مجھے اور کسی کی ضرورت نہیں

اس کے سجدوں سے مجھ کو روکے ایسی کوئی حکومت نہیں

یہیں پر دے کے اپنی جان جو ہوگا دیکھا جائے گا

نہیں جائیں گے پاکستان، جو ہوگا دیکھا جائے گا

دل خیر آباد ی نے جب اشعار اسٹیج سے پڑھا تو سارا مجمع ان کو داد و تحسین دینے کے لئے اٹھ کھڑا ہوا، ایسا کیوں ہے؟ کیا انہوں نے مسلمانوں کو پاکستان جانے کے طعنے کے جواب میں یہ بولا تھا؟

دل خیر آبدی نے میڈیا کا نام لے کر کہا کہ میں چاہتا ہوں میڈیا اسے سنے اور انہوں نے یہ شعر پڑھا

اسلامی قوانين سے حیران بہت ہیں

کچھ دشمن اسلام پریشان بہت ہیں

خیر آبادی میڈیا کو یہ کیوں سنانا چاہتے تھے؟

یہ اردو کے شاعر ایسا کیوں کہہ رہے ہیں، ایسی اشعار پڑھنے والوں کی فہرست بہت طویل ہے۔ جس طرح فلمیں پورے سماج کا آئینہ ہوتی ہیں ، اسی طرح مسلم معاشرے کی عکاسی مشاعروں میں صاف نظر آتی ہے ، جو بتاتی ہے کہ سب کچھ ٹھیک نہیں ہے، یہ بے چینی ان کے اندر تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

کیا آپ کو نہیں لگتا کہ جب آپ کسی ٹوپی اور داڑھی والے شخص کو دیکھتے ہیں یا کسی مسلم علاقے سے گزرتے ہیں، کسی برقع والی عورت کو دیکھتے ہیں ، تو آپ کے ذہن میں خوف پیدا ہوتا ہے، اگر جواب ہاں ہے ، تو ہمیں ریت میں اپنا منہ نہیں چھپانا چاہئے۔

ہمیں اس بات کو قبول کرنا چاہئے کہ کچھ نہ کچھ گڑبڑ ہے، یہ گڑبڑ پر سطح ہے ، اس کا اندازہ اسی بات سے لگایا جانا چاہئے کہ ایک آئینی عہدے پر بیٹھا شخص یہ بات بول رہا ہے کہ سب کچھ ٹھیک نہیں ہے، تو ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ اس کو مسلمان بتا کر اس کی بات کو مسترد کر دینی چاہئے یا پھر پورے معاشرے کو خود احتسابی کرنی چاہئے کہ غلطی کہاں ہوئی۔

نوے کی دہائی سے ہندوستان میں فرقہ واریت کو لے کر تیکھی بحث جاری ہے۔ ووٹ حاصل کرنے کی کوششیں بھی شروع ہوئیں، ایک پارٹی نے تو مسلمانوں کو خوش کرنے کو ہی اپنا ہتھیار بنا لیا اور مسلم ووٹ بٹورنے کا ایک درخت لگا لیا، ووٹوں کے اس لین دین میں ایک ہندوستانی ، ہندوستانی نہ ہوکے ہندو اور مسلمان بن کے رہ گیا۔

مسلمانوں کو یہ لگنے لگا کہ بی جے پی کے علاوہ تمام اس کی اپنی پارٹیاں ہیں اور بڑی تعداد میں ہندوؤں کو یہ لگنے لگا کہ ہندوؤں کے مفاد صرف بی جے پی کے ساتھ محفوظ ہیں۔

پر ہوا کیا؟ 2014 میں حکومت تبدیل ہوگئی، ماحول بھی بدل گیا، ایسا نہیں ہے کہ اسے حکومت نے فروغ دیاہے لیکن ہاں، کچھ نہ کرکے، کئی مرتبہ خاموش رہ کر ایسے لوگوں کو فروغ ضرور دیا ہے ان لوگوں کو جو سوچتے ہیں کہ بی جے پی ہندوؤں کی پارٹی ہے اور اب مسلمانوں پر حملہ کرنے کا صحیح وقت ہے، جو یہ سوچتے ہیں کہ 1947 کی تقسیم کا مطلب ہندو ہندوستان میں اور مسلمان پاکستان میں چلے جانے چاہئے اور کانگریس نے ایسا نہیں ہونے دیا ، تو اب صحیح موقع ہے۔

نتیجہ ملک کے سامنے ہے۔ کبھی گئوماس کے نام پر، کبھی برقع کے نام پر تو کبھی تین طلاق کے نام پر ملک میں ہنگامہ ہوتا رہتا ہے، میرے خیال سے یہاں یہ فہرست دینے کی ضرورت نہیں ہے کہ ماب لنچنگ میں ملک کے مختلف حصوں میں کتنے لوگوں کو مار دیا گیا، یہ عمل کو یکطرفہ نہیں ہے۔ یہاں کے مسلم لڑکے داعش کی طرف سے لڑنے کے لئے چلے جاتے ہیں۔

اسی ملک میں انڈین مجاہدین جیسا تنظیم کھڑا کر دیا جاتا ہے، اس میں آپ وقت کو آگے پیچھے کر سکتے ہیں ، لیکن اس سچ کو کی بورڈ کا بٹن دباکر ڈیلیٹ نہیں کر سکتے ہیں کہ ہاں ہم ایک دوسرے سے ڈرنے اور نفرت کرنے لگے ہیں۔

اس خوف کو بڑھا رہے ہیں نیوز چینل

یہ نفرت کا انڈیکس روزانہ بڑھتا ہی جا رہا ہے، کچھ دن پہلے ایوان میں حکومت نے جو اعداد و شمار پیش کئے ، اس سے بھی ثابت ہوتا ہے۔ سوال اٹھتا ہے کہ صرف حکومت اور اپوزیشن، اس کے حامی ہی اس کے لئے ذمہ دار ہیں، ایسا سوچنا تھوڑا غلط ہوگا، اس نفرت کی چنگاری کو آگ میں تبدیل کرنے میں ہمارے نیوز چینلوں نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔

نیوز چینلوں کے لئے ہندوستان کا مسلمان ایک عجائب گھر کی چڑیا سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ ہر شام یہ مداريو کی طرح ایک مجمع لگاتے ہیں اور مسلمان کے کھانےپینے ، اس کی پوشاک ، اس کے طور طریقوں پر زوردار طریقے سے بحث کرتے ہیں، جسے اتفاق نہیں ہے ، اسے میں مشورہ دیتا ہوں کہ گزشتہ تین سالوں میں ٹی وی چینلوں کے شام کی بات چیت کی ایک فہرست کو بنائیں اور دیکھیں کہ بحث کس پر ہوئی۔

ایسا لگتا ہے کہ چینلوں نے مسلمانوں کو صحیح کرنے کا ٹھیکہ لے لیا ہے۔ اگر وہ نہیں سمجھائیں گے ، تو مسلمان مزید بگڑ جائے گا، زیادہ طلاق دینے لگےگا، کھانے کے بھگوا قوانین کو تسلیم نہیں کرے گا اور اپنی بیویوں کو مزید دو چار برقعوں میں ڈھانپ دے گا۔

مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم ریت میں سر دئے ہی رہیں گے ، جب تک سر سے پانی نہ گزر جائے۔ سیاست ضرور کی جانی چاہئے ، مگر یہ ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے کہ ہمارے بزرگوں (لیکن ہم اب بدقسمتی سے ہندو اور مسلمان بن چکے ہیں) نے خون بہایا ہے اس ملک کی آزادی کے لئے، کہیں مذہب کا قد اتنا بڑا نہ ہو جائے کہ یہ ملک کے لئے خطرہ بن جائے، ہمیں یہ دیکھنا ہوگا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز