فرض شناسی اور خودداری

Nov 04, 2017 09:43 PM IST | Updated on: Dec 26, 2017 07:38 PM IST

احساس ذمہ داری،فرض شناسی اورخودداری ایسے الفاظ ہیں جس میں آدمی کی شخصیت جھلکتی ہے،مواصلاتی و برقی دورمیں یہ صفات عنقاء تو نہیں لیکن خال خال نظرآتی ہیں، فرض شناسی ہی پر غور کریں توایک شخص جو کسی عہدہ اورمنصب پر فائز ہے وہ اس قدراحساس برتری کاشکار ہوچکاہوتاہے کہ شاید اسے اپنی ذمہ داری کاخیال نہیں رہتایا عمداًسہواً نگہ ِالتفات سے گریزکرتاہے ۔ تاہم بالیقین کہا جاسکتاہے کہ اس میں احساس ذمہ داری کا فقدان ہونے کی وجہ سے اس کے خودداری پر بھی حرف آسکتاہے۔ احساس ذمہ داری کاپاس رکھنا مستقل مزاج شخص کی علامت ہے ،انسان جس ماحول اور جس روش پر زندگی گزار تا ہے خواہ دینی ہویا غیردینی اس میں اپنے لئے کچھ ذمہ داری وفرائض (وہ کام جن کا زندگی میں انجام دینا لازم جانتا ہے) کا احساس کرتا ہے کہ ان کے انجام دہی میں ہمہ تن لگا رہتاہے۔فرض شناسی اور اس کی تکمیل عمل کے میدان میں اہم ترین مسئلہ ہے کہ جس کا تعلق براہ راست انسان کی زندگی سے ہے،کیونکہ اس کی اہمیت خود انسان کی اہمیت ہے،جو شخص اپنے متعلقہ فرائض کی انجام دہی میں جس قدر پہلو تہی یا کوتاہی کرتا ہے،اسی قدر انسانیت کی بلندی سے گرجاتا ہے اورفطری طور پر خود پر اور اپنے معاشرے پر کاری ضرب لگاتاہے۔

معمولی یا غیر معمولی منصب پر فائز ہونے کی بناپرمتعلقہ معاملات سے پہلوتہی کی صورت میں لوگوں میں بدگمانی اور ماحول ومعاشرہ میں منفی اثرپڑتاہے،ایک معلم کی حیثیت سے اُس معلم کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اپنی کوتاہی کو دورکرنے کی حتی الامکان کوشش کرے، بچوں کی تدریس میں عدم دلچسپی اور کوتاہ دستی اُن بچوںکے کیریئر کو بربادکرسکتی ہے۔ اسی طرح طالب علم کوبھی اپنی احساس ذمہ داری اورفرائض کو ملحوظ خاطررکھتے ہوئے حصول علم میں تگ ودو کرناچاہیے۔ایک باذوق خطیب خطبہ کی تیاری اور سامعین تک من وعن پہنچانے میں ایمانداری کی کوشش کرتاہے۔ اس کے برخلاف کوئی خطیب اپنی ذمہ داری سے پہلوتہی کرتے ہوئے سنی سنائی بات دوہرائے اور سامعین کو گمراہ کرے تواس کی جوابدہی طے ہونی چاہیے۔سب سے بڑی کمی یہی ہے کہ لوگ اپنے امورو معاملات پردھیان نہیں دیتے لیکن اوروںکے معاملے میں بڑے ہی چست وداناں ثابت ہوئے ہیں،بات بات میں دخل اندازی حقوق میں شامل کرلیے ہوتے ہیںہاں اگر معاملہ ان کے خود کے گریبان تک پہنچ جائے تو بغلیں جھانکنے اور معاملہ کو رفع دفع کرنے میں عافیت محسوس کرتے ہیں۔ دراصل اسی کو احساس ذمہ داری کہتے کہ ہر شخص ذاتی زندگی میں پیش آمدہ مسائل ووسائل سمیت ماحول ومعاشرہ میں بہتری کا خواہاں ہو،ہمیشہ یکسانیت اور میزان عدل پرقائم رہنے کی کوشش کرے۔ خود داری اسی میں شامل ہے کہ آدمی اگر احساس اورفرض شناسی سے بہرہ ورہے تو بذات خود اس میں یہ صفت درآئے گی ۔خود داری آدمی کو دوسروں کے سامنے گھٹنا ٹیکنے یادوسروںکو انگلی اٹھانے کا موقع فراہم نہیںکرے گی، یہ ضمیرکی آواز ہوتی ہے، دوسرے لفظوں میں یہی غیرت وحمیت کہلاتی ہے لیکن ایساوہی شخص کرسکتاہے جس کا ضمیرمردہ اور خودداری فنانہ ہوئی ہو۔

وہ وقت گیاہے کہ پیکر صفت انسان یا فرشتے داروغہ گیری کرتے تھے ،اب خودہی معاملات میں غوروفکرکرنی پڑی گی ، وحی کاسلسلہ منقطع ہوچکاہے،راہبری کا زمانہ مفقود ہوتا جارہاہے۔ فرض شناسی اوراحساس ذمہ داری کی سب سے بڑی مثال یہ ہے کہ بندہ فطرت کو پہچاننے کی کوشش کرے ،خوددارہو، غلط اورصحیح کے مابین امتیاز کرنے کابھرپورمادہ اوراحساس رکھتا ہو، کفروشرک، معاصی وتمرد،حق وباطل کوپہچانے کیونکہ اس سلسلے میں جوابدہی طے ہے سب سے اہم ٖفریضہ تویہی ہے کہ بندہ ہمیشہ خداسے وابستہ رہے ۔احساس ذمہ داری کی یاددہانی میں اللہ تعالی نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بارہاآگاہ کیاہے فرمایا:’اے رسول آپ پرآپ کے رب کی جانب سے جوچیزیں(پیغام) نازل کی گئی ہیں انہیں لوگوں تک پہنچائیے اگرآپ نے ایسانہیں کیاتوآپ نے پیغام کو نہیں پہنچایا‘(مائدہ:۶۷)اسی طرح ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائے اور دین کی باتیں پوچھیں ،اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ ناگواری محسوس کرتے ہوئے بے توجہی سی برتی چنانچہ تنبیہ میں یہ آیت نازل ہوئی:’اس نے تیوری چڑھائی اورمنہ موڑ لیا، صرف اس لیے کہ اس کے پاس ایک نابینا آیا ،تجھے کیاخبر شایدوہ سنورجائے ‘(سورۂ عبس:۱-۳) مذکورہ آیتوں میں اللہ تعالی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کا فریضہ یاد دلارہاہے کہ اس سے دستبردارنہیں ہوسکتے۔

معاشرہ میںہرشخص کی کوشش ہونی چاہیے کہ اپنی وقعت وخودداری کو برقراررکھے اور عائدذمہ داریوں کومحسوس کرے، والدین وسرپرست اپنے بچوں کی تربیت کا خصوصی اہتمام کریںکیونکہ بچے مستقبل کے معمارہوتے ہیں ان کے اذہان وقلوب میں وہی چیزیں ثبت ہوںگی جوآپ انہیں دیںگے،اساتذہ وکسی ادارہ کے نگراں اپنے امور میں خلوص للہیت کا مظاہرہ کریں۔ باہمی تعامل وتعاون سے معاملات کو حل کرنے کوشش کرے، عزائم بلندرکھے اورپھر جس عہدہ ومنصب پر فائز ہے اس کی برآری میںتعاون کرے ،ایسی صورت میں ماحول خوشگوارہوگااور اعتماد میں پختگی آئے گی نیزشخصیت میں نکھارآئے گا۔ان شاء اللہ

نوٹ : مضمون میں درج آرا مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں ، نیوز 18 اردو کا ان سے اتفاق ضروری نہیں۔ 

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز