میں عبد الواحد شیخ ہوں، میں دہشت گرد نہیں۔۔۔

May 15, 2017 11:18 AM IST | Updated on: May 15, 2017 11:19 AM IST

دہشت گردی اور بم دھماکوں کے جھوٹے الزامات میں بے شمار مسلمانوں کو سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا ہے۔ متعدد مسلمانوں کو سزائے موت اور سزائے عمر قید بھی سنائی جا چکی ہے۔ لیکن اسی کے متوازی یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ کچھ مسلمان عدالتوں سے بری بھی ہوئے ہیں، اگر چہ ان کی تعداد بہت زیادہ نہیں ہے۔ جب بھی کوئی مسلمان ایسے کسی جھوٹے مقدمے سے بری ہوتا ہے اور جیل سے باہر آکر اپنی روداد سناتا ہے تو سننے والوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ایسے قیدیوں میں سے کئی نے اپنی آپ بیتی بھی قلمبند کی ہے جس میں ٹارچر کی تکلیف دہ داستانیں بھی ہیں اور ملزموں کی بے گناہی کے ثبوت بھی ہیں۔ ایسی کتابیں پولیس، انٹلی جنس ایجنسیوں اور انسداد دہشت گردی دستوں کی مسلم مخالف سازشوں کو بھی بے نقاب کرتی ہیں۔ ہم معروف انگریزی صحافی افتخار گیلانی کی کتاب ’جیل کے شب و روز‘، محمد عامر کی ’Framed As Terrorist‘، مفتی عبد القیوم کی ’گیارہ سال سلاخوں کے پیچھے‘ اور انجم زمرد کی ’قیدی نمبر 100‘ سے واقف ہو چکے ہیں۔ اس سلسلے کی اگلی کڑی عبد الواحد شیخ کی ’بے گناہ قیدی‘ ہے۔ ان تمام کتابوں میں تقریباً ایک جیسے ہی حقائق ہیں کہ کس طرح فرضی معاملے میں پھنسایا گیا، گرفتار کیا گیا، پولیس تحویل میں اذیتیں دی گئیں، سرکاری تعصب سے دوچار ہونا پڑا، جیل کے اندر مظالم سہنے پڑے، انتہائی دشوار اور طویل قانونی جنگ لڑنی پڑی وغیرہ وغیرہ۔ اس حوالے سے این ڈی ٹی وی کی ایڈیٹر، نیشنل افیئرس اور سینئر اینکر سنیترا چودھری کی کتاب Behind Bars موضوع گفتگو بنی ہوئی ہے جس میں انھوں نے سلاخوں کے پیچھے زندگی گزارنے والے ۱۳؍ افراد کی کہانیاں بیان کی ہیں۔ ان میں سے بیشتر ماونوازوں کی کہانیاں ہیں۔ البتہ دو کہانیاں دہشت گردی سے متعلق ہیں جن میں ایک کہانی عبد الواحد شیخ کی بھی ہے۔ منیشا سیٹھی کی کتاب ’Kafkaland‘ بھی انسداد دہشت گردی کے نام پر مظالم توڑنے کے واقعات سے عبارت ہے۔ ان کی ایک اور کتاب آئی تھی ’Framed Damned Acquited‘ جس میں انھوں نے اپنے رفقا کے ساتھ مل کر متعدد ایسے معاملات کی فہرست دی ہے جن میں بے قصوروں کو پھنسایا گیا اور پھر وہ عدالتوں سے بری ہوئے۔

عبد الواحد شیخ کی کتاب ’بے گناہ قیدی‘ جسے فاروس میڈیا نئی دہلی نے شائع کیا ہے، تازہ ترین کتاب ہے۔ عبد الواحد شیخ ممبئی کے باشندہ ہیں ان کو ۲۰۰۶ میں ممبئی کی لوکل ٹرینوں میں ہونے والے سلسلے وار بم دھماکوں میں مزید بارہ افراد کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا۔ چند روز قبل وہ دہلی میں تھے اور کافی مصروف تھے۔ انسانی حقوق کی کئی تنظیموں نے ان کا پروگرام کیا اور کئی اخباروں اور نیوز پورٹلز نے ان کے انٹرویو کیے۔ انھوں نے اپنی مصروفیت میں سے کچھ وقت نکالا اور راقم الحروف سے بھی گفتگو کی۔ ایک گھنٹے سے زائد ہونے والی بات چیت میں انھوں نے اپنے کیس کے بارے میں جو بتایا وہ تو بتایا ہی، انھوں نے سیاست دانوں، پولیس، انٹلی جنس اور عدالتوں کے بارے میں بھی بہت سے انکشافات کیے۔ انھوں نے ۹ سال جیل کے انڈا سیل میں گزارے اور ۲۰۱۵ میں ٹرائیل کورٹ سے بے داغ بری کیے گئے۔ انھوں نے بتایا کہ پولیس اور انسداد دہشت گردی دستے کے پاس ایک ریڈی میڈ کہانی ہوتی ہے جو وہ ہر ملزم پر چسپاں کر دیتے ہیں۔ ان لوگوں کے پاس مختلف شہروں میں تیار شدہ گواہ ہوتے ہیں جو بوقت ضرورت ان کے کام آتے ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف مقدمات میں پھنسے ہوئے ملزموں کو بھی وہ سرکاری گواہ بننے کے لیے مجبور کرتے ہیں۔ بہت سے خوف زدہ ہو کر پولیس کی بات مان لیتے ہیں اور بہت سے ان کے جھانسے میں نہیں آتے۔ انھوں نے بتایا کہ تین بنیادوں پر ملزم کو سزا ہوتی ہے یا وہ رہا ہوتے ہیں۔ پہلی بنیاد اقبالیہ بیان پر رکھی جاتی ہے، جو پولیس کے ذریعہ تیار کردہ ہوتی ہے۔ ملزم کو دستخط کرنے کے لیے بری طرح ٹارچر کیا جاتا ہے اور یہاں تک کہ اس کے سامنے اس کے گھر کی خواتین کی آبروریزی کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ اگر کسی ملزم نے اقبالیہ بیان پر دستخط کر دیے تو سمجھیے کہ اس نے اپنی موت کے پروانے پر دستخط کر دیے۔ دوسری بنیاد گواہی ہوتی ہے۔ ملزم کے رشتے داروں کو بھی گواہ بنایا جاتا ہے اور اگر کسی سے دشمنی ہے تو اسے بھی گواہ بنایا جاتا ہے۔ اگر گواہ نے عدالت میں ملزم کے خلاف بیان دے دیا تو اس کی سزا اور بھی یقینی ہو جاتی ہے۔ بعض اوقات گواہ عدالت میں جاکر منحرف ہو جاتے ہیں اور اس طرح پولیس کا کیس کمزور پڑ جاتا ہے۔ تیسری اور آخری بنیاد ملزم کے گھر سے ہتھیار یا قابل اعتراض مواد کی برآمدگی ہے۔ اس بارے میں کس طرح جھوٹ کو سچ کر دیا جاتا ہے اس کی مثال عبد الواحد نے یوں دی کہ ان کے ساتھ گرفتار کیے گئے بہار کے ایک ملزم، غالباً کمال انصاری، کے گھر سے چائے کی پتی برآمد کی اور اسے آر ڈی ایکس بتا دیا۔ اس ملزم کو سزائے موت سنائی جاچکی ہے۔ ممبئی ٹرین بم دھماکوں میں عبد الواحد شیخ واحد شخص ہیں جو بری ہوئے ہیں۔ پانچ کو سزائے موت ہوئی ہے اور باقی کو سزائے عمر قید۔ عبد الواحد نے بتایا کہ انھوں نے مظالم کی انتہا برداشت کی مگر اقبالیہ بیان پر دستخط نہیں کیے۔ ان کے جس رشتے دار کو گواہ بنایا گیا تھا اس نے عدالت میں کہہ دیا کہ پولیس نے اس سے جبراً بیان لیا ہے اور اب خواہ کچھ بھی ہو جائے وہ غلط بیانی نہیں کرے گا۔ تیسری بات یہ کہ پولیس ان کے گھر سے کوئی برآمدگی نہیں دکھا سکی۔ اس کی وجہ یہ رہی کہ جس روز ان کو پولیس اپنے ساتھ لے گئی اور ساتھ میں ان کے فلیٹ کی چابی بھی لے گئی (اس وقت ان کی بیوی اپنے مائکے میں تھی) اسی رات وکیلوں کی ہدایت پر ان کی بیوی نے اے ٹی ایس چیف کے نام ایک ٹیلی گرام ارسال کیا کہ میرے فلیٹ کی چابی آپ کے پاس ہے آپ اسے واپس کیجیے۔ اس ٹیلی گرام سے یہ ہوا کہ یہ بات ریکارڈ پر آگئی اور پولیس ان کے گھر سے کوئی چیز برآمد نہیں کر سکی۔

میں عبد الواحد شیخ ہوں، میں دہشت گرد نہیں۔۔۔

عبد الواحد شیخ دہلی میں منعقد ایک پروگرام میں اپنی آپ بیتی سناتے ہوئے۔

عبد الواحد شیخ کے مطابق ملزموں کا نارکو ٹیسٹ بھی فرضی ہوتا ہے اور اسپتالوں میں میڈیکل جانچ بھی جھوٹی ہوتی ہے۔ نارکو ٹیسٹ کے دوران بیانات کو کٹ پیسٹ کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر کسی ڈاکٹر مالنی نے ان کا نارکو ٹیسٹ کیا۔ وہ بہت خوش تھے کہ اب سچ سامنے آجائے گا اور وہ بری ہو جائیں گے۔ لیکن یہ ایک غلط فہمی تھی۔ ملزموں کے نارکو ٹیسٹ کے لیے بدنام ڈاکٹر مالنی نے پہلے تو ان پر زیادتی کی اور پھر پوچھا کہ تمھارے گھر کتنے پاکستانی ٹھہرے تھے۔ انھوں نے کہا یہ جھوٹ ہے کوئی پاکستانی نہیں آیا۔ پھر اس نے پوچھا کہ پانچ کے بعد کیا آتا ہے انھوں نے کہا کہ چھے۔ بیان میں لکھ دیا گیا کہ چھے پاکستانی آئے تھے۔ ایک ملزم سے پوچھا کہ تم نے بم بلاسٹ کیسے کیا۔ اس نے کہا کہ میں نے کیا ہی نہیں تو میں کیا بتاؤں۔ پھر پوچھا کہ ٹی وی کیسے چلتا ہے۔ اس نے کہا ریموٹ کنٹرول سے۔ بیان میں لکھ دیا گیا کہ ریموٹ کنٹرول سے بم بلاسٹ کیا تھا۔ ایک سے پوچھا کہ سیمی کے صدر کا کیا نام ہے۔ اس نے کہا مجھے نہیں معلوم۔ پھر پوچھا صدر کا کیا نام ہے۔ اس نے کہا اے پی جے عبد الکلام۔ اس نے کہا کہ کہو میں سیمی کے صدر شاہد بدر فلاحی کو نہیں جانتا۔ اس نے کہہ دیا۔ بیان میں لکھ دیا گیا کہ سیمی کے صدر کا نام شاہد بدر فلاحی ہے۔ عبد الواحد شیخ نے یہ بھی بتایا کہ اسپتالوں کی میڈیکل اور ایس ایف ایل کی جانچ رپورٹوں کو بھی بدلوا دیا جاتا ہے۔ جب ہم نے ان سے پوچھا کہ کیا اس پوری مدت میں کوئی ایسا پولیس افسر بھی ملا جس نے شرافت کا مظاہرہ کیا ہو تو انھوں نے سینئر انسپکٹر ارون سنبھا جی کھانویلکر کا نام بتایا۔ جس نے آکر ان سے معافی مانگی اور کہا کہ تم لوگوں کو غلط پھنسایا گیا ہے۔ اس افسر نے صدر، وزیر اعظم اور دیگر وزرا اور افسران کو خطوط لکھ کر ان لوگوں کے بے گناہ ہونے کی بات کہی۔ انھوں نے ایک اور افسر اے سی پی اے ٹی ایس ونود بھٹ کا نام لیا۔ چار شیٹ بنانے میں بھٹ کا کوئی جواب نہیں تھا۔ وہ جس کے خلاف چار ج شیٹ بنا دیتا اس کی سزا ضروری تھی۔ اے ٹی ایس نے اس سے کہا کہ وہ ممبئی ٹرین دھماکوں کے ملزموں کے خلاف چار شیٹ بنائے۔ وہ جانتا تھا کہ یہ سب بے قصور ہیں بلا وجہ مارے جائیں گے۔ اسی رات اس نے ٹرین سے کٹ کر خودکشی کر لی۔ شیخ کہتے ہیں کہ میرا نام عبد الواحد شیخ ہے اور میں دہشت گرد نہیں ہوں۔ وہ سوال کرتے ہیں کہ ’کیا ان کا جرم یہی ہے کہ وہ مسلمان ہیں‘۔

نوٹ : مضمون نگار دہلی میں مقیم ایک معروف صحافی اور سیاسی تجزیہ کار ہیں۔

sanjumdelhi@gmail.com

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز