اے خدا انسان کی تقسیم در تقسیم دیکھ

Jul 21, 2017 09:56 PM IST | Updated on: Jul 21, 2017 09:56 PM IST

اے خدا انسان کی تقسیم در تقسیم دیکھ

موصل،تصویر، رائٹرز

ہلاکو اب جو تم بغداد آؤ گے !۔

ہلاکو اب جو تم بغداد آؤ گے ! ۔

یہاں لاشیں ملیں گی لیکن ان کے سر نہیں ھونگے

گلی کوچے ،سرائے ،خانقاہیں،قہوہ خانے

اپنے سائے کے مقابل ہاتھ پھیلائے کھڑے ھونگے

کتب خانوں کی خاکستر اڑائی جا چکی ھوگی

نوادر بوریوں میں بٹ چکے ہونگے

کلام اللاہ کے نادر نسخے اور صحیفے

کہ جن کی دید سے تاریخ کا سینہ منور تھا، جلائے جا چکے ہونگے

ہلاکو اب جو تم بغداد آؤ گے !۔

الف لیلا کی راتیں داستانوں سے نکل کر

دھوپ کی چادر اوڑھے ،ریت کے ٹیلوں پہ بیٹھی

قصہ گویوں،تاجروں، حدی خوانوں،سخن دانوں کا رستہ تک رہی ھوں گی!

کہ دیکھیں شہر میں کب رات آتی ھے

مگر اب صبح آئے گی، نہ کوئی رات آئے گی

ہلاکو اب جو تم بغداد آؤ گے !۔

علی بابا کے سونے کے خریطے،خیمہ و خرگاہ، سارے لٹ چکے ہونگے

جہاں عشوہ طراز و حیلہ گر مرجینا رہتی ہے

وہاں ایک اور ہی دنیا کے نوسرباز بیٹھے ہیں

یہاں مٹی میں جادو ہے، زمیں سونا اگلتی ہے

ہوا میں تیل کی بو ہے !! ۔

ہلاکو اب جو تم بغداد آؤ گے ! ۔

تو پھر واپس نہ جاؤ گے!!!!!! ۔

(2005 میںحسن عابدی کی لکھی یہ نظم جس بات کی طرف اشارہ کر رہی تھی بلآخر وہ خدشہ پورا ہوا)۔

اسلامی عہد زریں کے علاقے شام و عراق سے اسلامی تہذیب و ثقافت کو نیست و نابود کر دیا گیاہے اب آنے والی نسلیں ان کھنڈرات پر یہود و نصا ر کی نئی کنسٹرکشن کے نمونے دیکھیں گی۔ بابل و نینوا کی وراثت کھنڈر بنا دی گئی اب دجلہ و فرات کے کنارے ،نیل کے ساحلوں تک نہ کوئی نورالدین زنگی ہے نہ اسکا سپہ سالارصلاح الدین ایوبی اور نہ تاریخ داں ابن اثیر جزری ۔القدس حالت جنگ میں پہلے بھی تھا آج بھی ہے۔امام خمینی کو گزرے عرصہ بیت گیا اور حسن روحانی کے بھائی بدعنوانی کے الزام میں جیل میں ہیں۔آس پاس بھی نظر ڈال لیجئے صدام ختم قزافی ختم ۔مرسی جیل میں ۔44 ملکوں کی اتحادی فوج محض محو تماشہ ہے ۔یمن سوئے کھنڈرہے قطر و بحرین و عرب بر سر پیکار ہیں۔زیر تحریرمضمون تو مسجد النوری کا نوحہ ہے ۔

شکوہ کریں بھی تو کس سے کہ امت خلفشار اور آپسی ریشہ دوانیوں کا شکار ہے ایسے میں ہندوستانی مسلمان ،مسلم آبادی تو ہے لیکن اسلامی ملکوں میں بسی مسلم آبادی کے جم غفیر کا حصہ نہیں ۔کبھی کبھی تو اللہ کی دی ہوئی اس نعمت غیر مترقبہ کے لئے ہزار شکرانے ادا کرنے کا جی چاہتا ہے ۔ہمارا سابقہ جن سے ہے وہ اہل اسلام نہیں اسلئے ان کے ظلم و جبر کا جواب جیسے تیسے ہم خود ہی ڈھونڈھ لیں گے۔

مسجد النوری کا نام موصل اور حلب کے مشہور ترک حکمران نورالدین زنگی کے نام پر رکھا گیا تھا جنہوں نے اس مسجد کی تعمیر کا حکم سنہ 1172 میں دیا تھا۔ اس کے دو سال بعد نورالدین زنگی انتقال کر گئے۔

یہی وہ مسجد تھی جہاں سے البغدادی نے خلافت کے فتنے کا اعلان کیا تھا ۔نورا لدین زنگی کی بڑی وجہ شہرت یہ ہے کہ انھوں نے مختلف علاقوں کی مسلمان افواج کو یکجا کر کے عیسائی صلیبیوں کے خلاف جہاد کا پیغام دیا تھا۔لیکن فتنہ اس سے بڑا یہ ہے کہ ایسے مضامین لکھے اور تشہیر کئے گئے جس میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ دولتِ اسلامیہ اور دیگر جہادی گروہ نورالدین زنگی کا احترام اس وجہ سے بھی زیادہ کرتے ہیں کہ یہ نورالدین زنگی ہی تھے جنھوں نے شام میں شیعہ اسلام کی جگہ سُنّی قدامت پسندی کو مضبوط کرنے کی کوشش کی۔

مسجد کے مینار کا بیرونی حصہ ایرانی طرز تعمیر کی ایک عمدہ مثال تھاجس میں اینٹوں کو اس انداز میں لگایا گیا کہ سادہ اینٹیں بھی ایک خوبصورت نمونہ پیش کرتی تھیں۔ مینار کی چوٹی ایک گنبد کی شکل میں تھی جس پر سفید پلستر لگا ہوا تھا۔

جب یہ مینار تعمیر کیا گیا تھا تو اس کی اونچائی 150 فٹ تھی، لیکن جب 14 ویں صدی میں مشہور سیاح ابن بطوطہ کا موصل سے گزر ہوا تو انھوں نے دیکھا کہ مینار اُس وقت بھی ایک جانب جھک چکا تھا۔ اسی لیے اُس وقت بھی اس مینار کو لوگ ’الہبدا‘ یا ’کوہان‘ کے نام سے جانتے تھے۔جہاں تک ماہرین کا تعلق ہے تو ان کا کہنا تھا کہ اس جھکاؤ کی وجہ اس علاقے میں شمال مغرب سے چلنے والی ہوائیں، اینٹوں پر جنوب سے پڑنے والی تیز دھوپ یا وہ کمزور جِپسم ہے جو اینٹوں کے درمیان لگا ہوا ہے۔صدیوں بعد عراق اور ایران کی جنگ کے دوران موصل پر گرنے والے بموں کی وجہ سے مینار کے قریب زیرِ زمین لگے ہوئے پائپ ٹوٹ گئے تھے جس کے بعد مینار کی بنیادوں میں پانی جمع ہونا شروع ہو گیا تھا۔ ہو سکتا ہے کہ اس نمی نے مینار کو مزید کمزور کر دیا ہو۔ 2012 میں اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے ’یونیسکو‘ نے مینار کا مطالعہ کیا تو معلوم ہوا کہ اس کا جھکاؤ دو اعشاریہ پانچ میٹر ہے۔ ادارے نے خبردار کیا کہ مینار کی شکست و ریخت کا عمل جاری ہے اور اگر خاطر خواہ اقدام نہ کیے گئے تو یہ گِر جائے گmosuا۔اسی خدشے کے پیش نظر یونیسکو نے دو جون 2014 کو صوبہ نینوا میں آثار قدیمہ کی بحالی نامی ایک منصوبے کا اعلان کیا تھا جس کا بڑا مقصد اس مینار کو ایک مرتبہ پھر مضبوط کرنا تھا۔اب تفتیش اس بات کی ہونی چاہئے کہ اس منصوبے کے تحت کونسی ٹیم کن سازو سامان کے ساتھ موصل میں داخل ہوئی تھی کہ ایک ہفتے کے اندر ال بغدادی ابوبکر نمودار ہوگیا اور آپ نے دیکھا محض 3 سال کے اندر آثارقدیمہ کا کیا حشر کیا گیا اور کس طرح مسلمانوں کی ایک پوری نسل ختم کر دی گئی ۔لاکھوں قتل ہوئے اور کرورڑوں در بدر۔یہ حرما ں نصیب عرف عام میں بنا کسی مسلک و عقائد کی نشاندہی کے مسلمان کہلاتے ہیں اور دوسروں کے آگے دست بستہ کر دئے گئے ہیں۔

تصویر: العربیہ ڈاٹ نیٹ

اس پوری قوائد میں مغربی مشاہدین اب ایک بات بڑی شدومد سے کہہ رہے ہیں کہ عراق و شام میں امریکہ ناکام ہوا اور ایران کامیاب ۔لیکن ہم یہ کہتے ہیں کہ یہ سب حب علی میں نہیں بغض معاویہ میں انجام دیا گیا ۔

بیس اگست 1988 کو انقلاب ایرا ن کے رہنما آیت اللہ خمینی اور عراقی صدر صدام حسین نے ایک جنگ بندی معاہدے پر اتفاق کرلیا تھا۔لیکن صیح معنوں میں ان دونوں ملکوں کے مابین حقیقی امن قائم نہیں ہو سکا ۔ ایران اور عراق کے مابین اس جنگ بندی معاہدے کے طے پانے کے وقت ایرانی رہنما آیت اللہ خمینی نے کہا تھا کہ ان کے لئے اس معاہدے پر دستخط کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی خود اپنے ہاتھوں زہر کا پیالہ پینے کا فیصلہ کرلے۔ آج اس جنگ بندی کے 29 برس بعد ،تہران اور بغداد کے حالات کا مشاہدہ کیجئے تو آنکھیں نم ہو جائیں گی کہ ہم نے کیا کیا گنوا دیا ہم ظالم بن گئے اور اللہ نے ہم پر ہم سے زیادہ جابر کو مسلط کر دیا۔1980 میں پہلی خلیجی جنگ کہلانے والے اس طویل تنازعے کے آغاز کے وقت کسی کو بھی علم نہیں تھا کہ آنے والے مہینوں اور برسوں میں اس جنگ کے نتائج کیا ہوں گے۔ 22 ستمبر 1980 کے دن صدام حسین نے ایران پر حملے کا حکم جاری کیا، عراقی فوج نے کئی ایرانی شہروں پر بمباری کی ، اور کچھ شہروں پر تو وہ قابض بھی ہو گئی۔ بغداد حکومت کا خیال تھا کہ انقلاب ایران کے بعد ایران کمزور ہو چکا ہے اور عراق با آسانی ایران پر قابض ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ تب اس جنگ میں عراق کو امریکہ اور کئی دوسرے ملکوں کی حمایت بھی حاصل تھی۔

دوسری جانب ایرانی رہنما بھی جانتے تھے کہ اس جنگ سے ایرانی قوم کی توجہ داخلی اور سیاسی معاملات سے ہٹائی جا سکتی تھی اور یوں پوری قوم کو بیرونی خطرات اور دشمنوں کے خلاف متحد کیا جا سکتا تھا۔

لیکن ایران کا سب سے اہم ہتھیار زیادہ تر نوجوانوں پر مشتمل اس کی وہ فوج تھی جس کے ارکان نہ صرف آیت اللہ خمینی کی قیادت پر اندھا دھند یقین رکھتے تھے بلکہ اپنے ملک اور اپنے عقیدے کے لئے جان بھی قربان کردینے پرتیار تھے۔ اس جنگ میں پانچ لاکھ سے زائد ایرانی نوجوان ہلاک ہوئے جبکہ ہلاک ہونے والے عراقی فوجیوں کی تعداد چار لاکھ تک بتائی جاتی ہے۔

ایران میں شاید ہی کوئی ایسا گھر ہو جس کا کوئی نہ کوئی فرد اس جنگ میں ہلاک نہ ہوا ہو۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت تہران میں واقع، 400 ہیکٹررقبے پر پھیلا ہوا "بہشت زہرا" نامی وہ قبرستان ہے جہا ں اس جنگ میں ہلاک ہونے والے بے شمار ایرانیوں کی قبریں موجود ہیں۔1988 کی جنگ بندی کے بعدبھی دونوں ملکوں کے عوام کے دلوں میں بد اعتمادی اور رنجشیں موجود رہیں۔ جس طرح ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد عراق نے معزول ایرانی بادشاہ رضاپہلوی کو کچھ عرصے کے لئے اپنے ہاں پناہ دی تھی، اسی طرح ایران نے بھی بغداد حکومت کے مخالفین، اور خاص کر شیعہ اور کرد شخصیات کو اپنے ہاں پناہ دی ۔

کہا جاتا ہے کہ گذشتہ عراقی جنگ میں جب امریکہ نے صدام حکومت کے خلاف فوجی اقدامات شروع کئے تو تب بھی ایرانی قیادت نے اس وجہ سے غیر اعلان شدہ اطمینان کا اظہار کیا تھا کہ صدام حکومت کے خاتمے کے بعد عراق میں شیعہ برادری کو یقینی طور پر اقتدار تک رسائی کا راستہ میسر آجائے گا۔اور یہی ہوا۔

مسجدالنوری موصل کے قدیمی علاقے کے مشہور ترین تاریخی مقامات میں سے ایک تھی۔ اس کے علاوہ یہ مسجد اپنے آپ کو دولتِ اسلامیہ جسے عرف عام میں داعش کہلانے والی شدت پسند تنظیم کے خلاف شامی حکومت کی جنگ کی بھی ایک بڑی علامت بن گئی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب دولت اسلامیہ نے اس شہر پر قبضہ کیا تو اس کے ایک ماہ بعد اس شدت پسند تنظیم کے رہنما ابوبکر البغدادی نے اسی مسجد میں کھڑے ہو کر ایک نئی ’خلافت‘ کا اعلان کیا تھا۔جون 2014 کے پہلے ہفتے میں دولتِ اسلامیہ ، جسے اس وقت دولتِ اسلامیہ فی العراق والسوریا کہا جاتا تھا، اس کے جنگجوؤں نے شہر پر دھاوا بول دیا اور وہاں لڑائی شروع ہو گئی۔ موصل کو روندنے کے بعد دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں نے شمال مغرب میں بغداد کی جانب اپنی چڑھائی جاری رکھی اور چند دنوں کے اندر اندر نینوا، صلاح الدین اور دیالہ کے صوبوں کے بڑے علاقوں پر قبضہ کر لیا۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق 12 جون کو عسکریت پسندوں نے اس عظیم مسجد کے امام، محمد المنصوری، کو اس وقت موت کی سزا سنا کر مار دیا جب انھوں نے دولتِ اسلامیہ کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا۔ اور پھر جون کے مہینے کے ختم ہوتے ہوتے دولتِ اسلامیہ نے باقاعدہ خلافت کا اعلان کر دیا۔تنظیم نے جس شخص کو اپنا خلیفہ بنانے کا اعلان کیا وہ ابوبکر البغدادی تھا۔ چار جولائی کو البغدادی نے اسی مسجد میں جمعے کا خطبہ دیا ۔ سیاہ جُبّے میں ملبوس اور سر پر سیاہ عمامہ باندھے جب وہ منبر پر نمودار ہوا تو اصل میں وہ اس بات کا اشارہ دے رہا تھا کہ اس کا تعلق پیغمبر اسلام کے خاندان قریش سے ہے اور وہی اصل خلیفہ ہے۔

موصل کے لوگ بتاتے ہیں کہ ان دنوں شہر کے رہائشیوں کے لیے لازم قرار دے دیا گیا تھا کہ وہ جمعے کے اجتماع میں شرکت کریں۔ مسجد میں داخل ہونے پر ان کی تفصیلی جامہ تلاشی ہوتی تھی اور ہر کسی کو بتا دیا جاتا تھا کہ اس کو کس جگہ اور کس انداز میں بیٹھنا ہے۔جولائی کے آخری دنوں میں موصل کے لوگوں نے شکایت کی کہ دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں نے مسجد کے مینار کو تباہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ شدت پسندوں کے خیال میں مسلمان اور غیرمسلمان اس مینار کو مقدس سمجھتے ہیں اور یہ بت پرستی کے مترادف ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ جب یہ جنگجو بھاری مقدار میں بارود لے کر مسجد میں پہنچے تو اس کے صحن میں لوگوں کا ہجوم ہو گیا اور انھوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر مینار کے ارد گرد انسانی زنجیر بنا لی۔لیکن اب یہ مسجد شہید ہو چکی ہے گذشتہ مہینے عراق کے وزیراعظم حیدر العابدی نے کہا تھا کہ دولتِ اسلامیہ کی جانب سے قدیم مسجد کو تباہ کرنا ان کی جانب سے ان کی اپنی شکست کا اعلان ہے تاہم دولتِ اسلامیہ نے ردعمل میں کہا تھا کہ مسجد کی تباہی امریکی بمباری کے نتیجے میں ہوئی ہے۔

نورا لدین زنگی کی بڑی وجہ شہرت یہ ہے کہ انھوں نے مختلف علاقوں کی مسلمان افواج کو یکجا کر کے عیسائی صلیبیوں کے خلاف جہاد کا پیغام دیا تھا۔عیسائیوں سے بیت المقدس واپس لینے کے لیے سلطان نور الدین زنگی رح نےپہلے ایک مضبوط حکومت قائم کرنے کی کوشش کی اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے گرد و نواح کی چھوٹی چھوٹی مسلمان حکومتوں کو ختم کرکے ان کو اپنی مملکت میں شامل کرلیا۔ شروع میں نورالدین کا دارالحکومت حلب تھا۔ 549ھ میں اس نے دمشق پر قبضہ کرکے اسے دارالحکومت قرار دیا۔ اس نے صلیبی ریاست انطاکیہ پر حملے کرکے کئی قلعوں پر قبضہ کرلیا اور بعد ازاں ریاست ایڈیسا پر مسلمانوں کا قبضہ ختم کرنے کی عیسا ئیوں کی کوشش کو بھی ناکام بنا دیا۔ دوسری صلیبی جنگ کے دوران دمشق پر قبضہ کرنے کی کوششوں کو بھی انہوں نے ناکام بنا دیاور بیت المقدس سے عیسائیوں کو نکالنے کی راہ ہموار کردی۔

دوسری صلیبی جنگ میں فتح کی بدولت ہی مسلمان تیسری صلیبی جنگ میں فتح یاب ہوکر بیت المقدس واپس لینے میں کامیاب ہوئے۔ اس زمانے میں مصر میں فاطمی حکومت قائم تھی لیکن اب وہ بالکل کمزور ہوگئی تھی اور مصر چونکہ فلسطین سے ملا ہوا تھا اس لیے عیسائی اس پر قبضہ کرنا چاہتے تھے۔ یہ دیکھ کر نورالدین نے ایک فوج بھیج کر 564ء میں مصر پر بھی قبضہ کرلیا اور فاطمی حکومت کا خاتمہ کردیا۔

اپنے 28 سالہ دورِ اقتدار میں نورالدین زنگی نے نہ صرف دمشق پر قبضہ کیا بلکہ مستقبل میں صلاح الدین ایوبی کو ملنے والی کامیابیوں کی بنیاد رکھی۔ اُس وقت صلاح الدین ایوبی مصر میں نورالدین زنگی کی فوج کے کمانڈر تھے اور پھر اپنے رہنما کے انتقال کے بعد سنہ 1187 میں انھوں نے بیت المقدس کو آزاد کرایا اور ایوبی عہد کی بنیاد رکھی تھی۔

آج 19 جولائی 2017 کو جب پیچھے مڑ کے دیکھا تو اندازہ ہوا کہ ہم ان باقیات کو کھو چکے ہیں جو اسلام کی فتوحات کا منہ بولتا ثبوت تھیں۔اور ایر وار کی ایک حالیہ ریسرچ کے مطابق آج لاشوں کے گننے کا تخمینہ یہ ہے کہ اوبامہ نظام انسداد بنام نام نہاد دہشت گردی کے تحت 5 شہری یومیہ مرتے تھے اور اب ٹرمپ مسلم مینیا کے تحت 25 سے 30 شہری روزانہ مارے جا رہے ہیں۔ یہ سلسلہ رکنے والا نہیں۔ایک ملک سے دوسرے ملک جاری رہے گا ۔ کیسے ؟ اسکو یوں سمجھنا چاہیے کہ یہ دہشت گرد کبھی ختم نہیں ہونے دئے جائیں گے انکی تعداد کو بڑھانے کا منصوبہ کچھ اسطرح سے ترتیب دیا گیا ہے کہ شمالی ایشیا سے انکو جنوبی ایشیا کی طرف دھکیلا جا رہا ہے اس خطے میں جنگ کے بھر پور مواقع جان بوجھ کر پیدا کئے جا رہے ہیں ۔یہود و نصار کے اس کھیل میں سب زد پہ ہیں ہندو،بدھسٹ ،سکھ اور مسلمان تو چارہ ہیں ہی اب سوال یہ ہے کہ ان دہشت گرد تنظیموں میں جنگجو کہاں سے لائے جائیں ۔میرا ماننا ہے کہ ایک طرف خلیجی ممالک سے نوکریاں ختم کی جا رہی ہیں دوسری طرف مغربی ممالک میں مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کیا جا رہا ہے ۔ان خالی جگہوں کو پُر کرنے کے لئے سیریائی مہاجرین غلاموں کی صورت میں موجود ہیں جو حالت جنگ سے عاجز آکر یوروپ میں پناہ گزین ہیں۔بچ گیا جنوبی ایشیا تو اب یہاں دہشت گرد تنظیموں کی افادیت کس کے لئے ہوگی یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں ۔ میسوپوٹامیہ اور مصر کی قدیم تہذیبوں کو خاک میں ملا کر اب چائنا اور انڈس کا نمبر ہے۔بس ایک خانہ جنگی کی ضرورت ہے جو بھارت مہیا کرانے کے سارے سامان کر چکا ہے اور بے روزگار کر دئے گئے لوگوں کی توجہ کے لئے اسی امریکن لابی کی فوربس میگزین نے پچھلے سال ان نامی گرامی دہشت گرد تنظیموں کے خزانے کی تفصیل شائع کر دی تھی آپ بھی دیکھ لیجئے کونسی تنظیم زیادہ اجرت دینے کے قابل ہے مبادہ ضرورت پڑ جائے۔امریکی خبر رساں ادارے فوربز میگزین نے دنیا بھر میں کام کرنے والی ’دس امیر ترین‘ دہشت گرد تنظیموں کی فہرست شائع کی ۔ جس میں تنظیموں کی آمدنی کے حساب سے اُن کی درجہ بندی کی گئی ۔میگزین کے مطابق خود کو دولت اسلامیہ کہلانے والی تنظیم دنیا کی ’امیر ترین دہشت گرد تنظیم‘ ہے، جس کی سالانہ آمدنی دو ارب امریکی ڈالر سے زیادہ ہے لیکن اسکی آمدنی کے ذرائع کے بارے میں فوربس خاموش ہے کیوں بھئی؟۔ حماس کو دوسرے نمبر پر رکھا گیا ہے۔ خبررساں ادارے کے مطابق اِس تنظیم کی آمدنی ایک ارب امریکی ڈالر ہے۔ اِس کی آمدنی کا بڑا ذریعہ ٹیکس اور فیس کے علاوہ مالی تعاون بھی ہے۔اِس فہرست میں تیسرا نمبر فارک کا ہے، جس کی سالانہ آمدنی 60 کروڑ امریکی ڈالر بتائی گئی ہے۔ کولمبیا کی مسلح انقلابی فورسز کو فارک کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ اِس کی آمدنی کا بڑا ذریعہ منشیات کی کاشت اور سمگلنگ سے حاصل ہوتا ہے۔حزب اللہ کو چوتھے نمبر پر رکھا گیا ہے اور اِس کی سالانہ آمدنی 50 کروڑ امریکی ڈالر ظاہر کی گئی ہے۔ اِس جنگجو تنظیم کی آمدنی کے اہم ذرائع میں ایران سے مالی تعاون، منشیات کی کاشت اور اُس کی سمگلنگ شامل ہے۔فہرست میں پانچویں نمبر پر طالبان کو شامل کیا گیا ہے، جن کی سالانہ آمدنی 40 کروڑ امریکی ڈالر بتائی گئی ہے۔ افغانستان کے علاوہ یہ پاکستان اور دوسرے ممالک میں بھی موجود ہیں۔ اِس کی آمدنی عطیات، ٹیکس، فیس اور منشیات کی سمگلنگ شامل ہے۔

فہرست میں چھٹا نمبر القاعدہ ہے، اس تنظیم کی سالانہ آمدنی 15 کروڑ امریکی ڈالر ہے اور اِس کو سب سے خطرناک دہشت گرد تنظیم کے طور پر بھی بیان کیا گیا ہے جی ہاں داعش سے بھی زیادہ ۔اب ان سے کون پوچھے کہ یہ انہوں نے سعودی عرب کی تعظیم میں کیا ہے کیا؟ اِس تنظیم کی آمدنی کے ذرائع میں مالی تعاون، عطیات، اغوا برائے تاوان اور منشیات کی سمگلنگ شامل ہے۔اِس فہرست میں ساتواں نمبر لشکر طیبہ کو دیا گیا ہے، اور بتایا گیا ہے کہ یہ تنظیم جنوبی ایشیا میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ اِس کی سالانہ آمدنی دس کروڑ امریکی ڈالر بتائی گئی ہے۔ اِس کی آمدنی میں مالی تعاون اور عطیات شامل ہیں۔صومالیہ کی جنگجو تنظیم الشباب کو آٹھویں نمبر پر رکھا گیا ہے۔ اِس تنظیم کا قیام سنہ 2006 میں عمل میں آیا تھا۔ اِس کی آمدنی سات کروڑ امریکی ڈالر بتائی گئی ہے اور آمدنی کی ذرائع کے طور پر اغوا برائے تاوان اور غیرقانونی تجارت وغیرہ کو بیان کیا گیا ہے۔شمالی آئرلینڈ کی جنگجو تنظیم ریئل آئی آر اے جو کہ آئرش رپبلکن آرمی کا منحرف دستہ ہے، اِس تنظیم کو نویں نمبر پر رکھا گیا ہے۔ اِس تنظیم کا قیام سنہ 1998 میں عمل میں آیا تھا۔ اِس تنظیم کی آمدنی پانچ کروڑ امریکی ڈالر بتائی گئی ہے۔ اِس کی آمدنی کے ذرائع میں سمگلنگ، عطیات اور غیر قانونی تجارت شامل ہیں۔

فوربز میگزین کی اِس فہرست میں دسویں نمبر پر نائجیریا میں سرگرم جنگجو تنظیم بوکو حرام کو رکھا گیا ہے۔ یہ تنظیم مغربی تعلیمات کو گناہ تصور کرتی ہے اور اِس کی سالانہ آمدنی ڈھائی کروڑ امریکی ڈالر بتائی گئی ہے۔ اِس کی آمدنی کے ذرائع میں اغوا برائے تاوان، فیس اور ٹیکس، ڈاکے اور لوٹ مار وغیرہ شامل ہے۔

نوٹ : تسنیم کوثر ایشین رپورٹرمیل کی ایڈیٹر ہیں ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز