کشمیرـ: تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی ہماری اجتماعی ذمہ داری

Sep 21, 2016 06:47 PM IST | Updated on: Dec 26, 2017 07:49 PM IST

نیلسن منڈیلا کا یہ مشہور قول تعلیم کی اہمیت کے بارے میں ہے۔’’ تعلیم سب سے موثر ہتھیار ہے جس کی مدد سے آپ اپنی دنیا بدل سکتے ہیں‘‘۔

ایک طرف جہاں ہم کشمیر بند کی وجہ سے ہوئے اقتصادی نقصان کا تخمینہ لگا رہے ہیں وہیں ہمیں یہ گنتی بھی کرنی چاہیے کہ ہڑتالوں کی وجہ سے کتنے تعلیمی دن ضائع ہوگئے۔ وادی کشمیر میں گزشتہ تین ماہ سے تقریباً تمام تعلیمی ادارے بند ہیں اور وہ طالب علم جنہیں اسکولوں اور کالجوں میں ہونا چاہیے تھا، ان کی ایک بڑی تعداد ہاتھوں میں سنگ اٹھائے سڑکوں پر بیٹھی ہے ۔ مسئلہ کشمیر اور اس کی وجوہات ایک طرف لیکن ایک  ایسی ریاست جو پہلے ہی سیاسی غیر یقینیت اور اقتصادی بدحالی کی وجہ سے مشکلات سے جوجھ رہی ہو ، وہ کیا شعبہ تعلیم کی تباہی کی متحمل ہوسکتی ہے؟ کشمیری طلبہ کو جب بھی کبھی موقع ملا انہوں نے ریاستی، قومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنی قابلیت کا لوہا منوایا ہے ۔

دو ہزار پندرہ میں جموں وکشمیر میں نئی حکومت کے قیام کے بعد ہی تعلیمی شعبہ کی طرف خاص توجہ مرکوز کی گئی تھی اور اگر واقعا ت کا صحیح تجزیہ کیا جائے تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ تعلیمی شعبہ حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل رہا۔ گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران حکومت نے تعلیمی شعبہ کو صحیح سمت دینے کے لئے کئی انقلابی نوعیت کے اقدامات بھی کئے۔ان اقدامات کی وجہ سے اگرچہ ریاست کے وزیر تعلیم نعیم اختر اندرابی کو ایک حلقہ کی طرف سے تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا لیکن بالآخر اس کے مثبت نتائج کے بعد ہر طرف سے ان اقدامات کی ستائش کی گئی۔ حکومت نے گزشتہ سال سرما میں وزیر اعلیٰ سپر ففٹی کوچنگ سنٹر قائم کئے جس کی وجہ سے طلبہ کی ایک بڑی تعداد نے قومی سطح کے امتحانات میں کامیابی حاصل کی۔

لیکن اسے بدقسمتی کہیں یا کچھ اور کہ جولائی کے مہینے سے ہی نا مساعد حالات کی وجہ سے کشمیر کا تعلیمی شعبہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔ وادی میں جاری مسلسل ہڑتالوں نے اس شعبے کو پوری طرح سے یرغمال بنا لیا ہے۔ تعلیمی شعبہ کو یرغمال بنانے سے قبل اس بات پر غور کرنا چاہیے تھا کہ 2008اور 2010کی ہڑتالوں کی وجہ سے جو نقصان اس شعبہ کو ہوا کیا بعد میں اس کی بھرپائی ہوسکی ۔2014 کے تباہ کن سیلاب کی وجہ سے بنیادی تعلیمی ڈھانچہ تباہ ہوا لیکن سرکار نے گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران جہاں بنیادی ڈھانچے کی از سر نو بحالی کے لئے اقدامات کئے وہیں معیاری تعلیم کی فراہمی سرکار کی خاص توجہ کا مرکز رہی ۔ سیلاب کے بعد حکومت نے نہ صرف اضافی کلاسز کا اہتمام کیا بلکہ چند ماہ امتحانات کو بھی موخر کرنا پڑا لیکن بار بار ایسا کرنا ممکن نہیں ہے۔

6

موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تعلیمی ادارے کھلنے والے ہی تھے کہ جنوبی کشمیر کے کوکرناگ علاقے میں حزب المجاہدین کمانڈر برہان مظفر وانی کی تصادم میں ہلاکت کے بعد وادی میں حالات نے ایسی کروٹ لی کہ ابھی تک تعلیمی اداروں کے تالے بند ہی ہیں۔ان حالات کی وجہ سے متوسط اور غریب طالب علم سب سے زیادہ متاثر ہوئے جبکہ اخباری رپورٹوں کے مطابق صاحب ثروت اور اعلیٰ متوسط گھرانوں سے تعلق رکھنے لوگو ں نے ہندوستان کی دوسری ریاستوں یا جموں کے تعلیمی اداروں میں اپنے بچوں کا داخلہ کرایا ہے۔ وزیر تعلیم نعیم اختر نے بھی اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وادی سے تعلق رکھنے والے طالب علموں کی ایک بڑی تعداد نے وادی سے ہجرت کی ہے۔ کشیدہ حالات کی وجہ سے کئی انسانی جانیں ضائع ہوئیں جبکہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے اور ایسے حالات پر دُکھ  اور افسوس کا ہونا لازمی ہے لیکن ہمیں اس بات پر بھی غور کرنا ہوگا کہ ہم ان حالات کی آڑ میں کب تک اپنے بچوں کو اسکولوں سے دور رکھیں گے۔

کلاس روم اور اسکولوں سے دور یہ بچے ہی قوم کا مستقبل  اورآنے والے وقت کے رہنما ہیں لیکن اس سے بڑ ھ کر قوم کی کیا بدقسمتی ہوسکتی ہے کہ جن بچوں کے ہاتھوں میں قلم، دوات اور کتابیں ہونی چاہئے تھیں انہیں پتھرائو ،جلسوں جلوسوں اور سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ جذبات ،سیاسی لڑائی اپنی جگہ لیکن یہ کہاں کی دانشمندی ہے کہ مہینوں اسکول بند کرکے قوم کے بچوں کو کتابوں اور کلاس روم سے دور رکھاجائے۔ تعلیم ایک ایسا ہتھیار ہے جس کا کسی سماج کی صحیح بنیاد رکھنے میں اہم کردار ہے۔ اسی لئے دنیا کے تمام بڑے بڑے انقلابی رہنمائوں ،دانشوروں اور اسکالروں نے تعلیم کی اہمیت پر زور دیا ہے ۔ دور جدید کی جنگیں ہتھیاروں سے نہیں بلکہ تعلیمی ،تحقیقی اور سائنسی محاذوں پر لڑ ی جا رہی ہیں اور بہترین تعلیم و تحقیق سے ہی قوم کی سیاسی اور معاشی حالت بدلی جا سکتی ہے۔ کشمیر میں اگرچہ والدین بھی بچوں کی پڑھائی پر خاص توجہ دے رہے ہیں حتیٰ کہ کم آمدنی کے باوجود لوگ اپنے بچوں کا داخلہ اچھے سے اچھے اسکولوں میں کرارہے ہیں،لیکن چند فیصدی لوگوں نے پوری صورتحال کو اس طرح یرغمال بنا رکھا ہے کہ لوگ مسلسل کشمیر بند سے تعلیمی شعبہ کو ہورہے نقصان کا اگرچہ کھلے عام اظہار نہیں کررہے ہیں لیکن انفرادی سطح پر والدین سے بات کرکے تعلیمی دن ضائع ہونے کے حوالے سے وہ اظہارتشویش ضرور کر رہے ہیں۔

ریاست کے وزیر تعلیم کے مطابق سرکار وادی میں تعلیمی سرگرمیاں بحال کرنے کی کوششوں میں لگی ہوئی ہے۔ وہیں کشمیری عوام کی یہ اجتماعی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔ ہم اپنی نئی نسل کو زیادہ دیر تک تعلیم سے دور نہیں رکھ سکتے، کیونکہ اگرہم واقعی مخلص اور اپنی قوم کی فلاح وبہبود چاہتے ہیں تو ہمیں تعلیم کی طرف خاص توجہ دینا ہوگی۔ یہیں سے تمام مسائل کا حل نکل کر آسکتا ہے ۔

نوٹ : مضمون میں درج آرا مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں ، نیوز 18 اردو کا ان سے اتفاق ضروری نہیں۔ 

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز