نوٹ بندی پر ایک انتہائی ذی علم اور ماہر معاشیات کی تقریر

Nov 28, 2016 01:41 PM IST | Updated on: Nov 28, 2016 01:44 PM IST

سابق وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ جتنے ذی علم ہیں اتنے ہی سنجیدہ بھی ہیں۔ بڑبولے پن سے انھیں نفرت ہے اور کم گوئی سے پیار ہے۔ وہ دس سال تک ملک کے وزیر اعظم رہے اور اس سے قبل برسوں تک وزیر مالیات رہے۔ اس پوری مدت میں انھوں نے عوامی سطح پر جتنی گفتگو کی ہوگی اس سے کہیں زیادہ گفتگو موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی وزیر اعظم بننے کے بعد کی مختصر مدت میں عوامی سطح پر اب تک کر چکے ہوں گے۔ وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہوتے ہوئے بھی انھوں نے ہمیشہ خاموشی کو ترجیح دی اور ایک بار جب صحافیوں نے کسی مسئلے پر انھیں بہت زیادہ کریدا تو انھوں نے یہ شعر پڑھ دیا کہ ہزار گویائی سے بہتر ہے میری خاموشی، کہ جانے کتنے سوالوں کی آبرو رکھ لی۔ جب حکومت میں ہوتے ہوئے بھی وہ خاموش رہتے تھے تو اپوزیشن میں آنے کے بعد کیوں نہیں خاموش رہیں گے۔ لیکن ان کی خموشی میں بلا کا طنز بھی پوشیدہ ہے۔ کسی بھی معاملے پر ان کے چہرے کا ہاؤ بھاؤ اتنا کچھ کہہ دیتا ہے کہ اس کے آگے پوری تقریر پھیکی ہے۔ ایسا خاموش طبع سیاست داں اگر کسی اہم مسئلے پر پارلیمنٹ میں تقریر کرے تو نہ صرف پورا ایوان بلکہ پورا ملک گوش بر آواز ہو جاتا ہے۔ نوٹ منسوخی کے معاملے پر ہونے والے ہنگاموں اور پارلیمنٹ میں تعطل کے درمیان جمعرات کے روز راجیہ سبھا میں صبح کے وقت جب من موہن سنگھ کو دیکھا گیا تو بہت سے لوگ خوشگوار حیرت میں مبتلا ہو گئے اور جب یہ اعلان ہوا کہ وہ نوٹ منسوخی کے مسئلے پر بولیں گے تو حزب مخالف کے ساتھ ساتھ حزب اقتدار کے لوگ بھی محو حیرت ہو گئے۔ کیونکہ اس کا کوئی پیشگی اعلان نہیں کیا گیا تھا۔ حسن اتفاق کہ اپوزیشن کے زبردست ہنگامے اور دباؤ کے نتیجے میں من موہن سنگھ کے جا نشین نریندر مودی بھی ایوان میں موجود تھے۔ من موہن سنگھ نے اپنی شائستہ، مختصر مگر جامع تقریر میں جو کچھ کہا وہ حکومت پر ایک ایسا کاری وار تھا جس کی ٹیس کافی دنوں تک محسوس کی جاتی رہے گی۔ انھوں نے کیا کہا اس پر آگے چل کر اظہار خیال کیا جائے گا، سردست یہ دیکھ لیتے ہیں کہ ان کی تقریر سے قبل کیا کیا ہلچل مچی اور پردے کے پیچھے کیا کچھ ہوتا رہا۔

ایک اخباری رپورٹ کے مطابق ایک ہفتہ پہلے سے ہی نوٹ بندی کے خلاف سابق وزیر اعظم کو میدان میں اتارنے کی تیاری کی جا رہی تھی۔ اس کی وجہ ایک تو ان کی بھاری بھرکم شخصیت رہی اور دوسرے ان کا ماہر معاشیات ہونا رہا۔ یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ وہ ریزرو بینک کے گورنر بھی رہے ہیں۔ ریزرو بینک وہی بینک ہے جو کرنسی چھاپنے اور پورے ملک میں پہنچانے کا ذمہ دار ہے اور جس کی بدانتظامی سے اس وقت پورا ملک پریشان ہے۔ پہلے تو پارٹی والوں نے سوچا کہ کیوں نہ ان کا ایک ٹیلی ویژن انٹرویو کرا دیا جائے جس میں وہ تمام امور پر کھل کر اظہار خیال کریں۔ لیکن ۸۴ سالہ من موہن سنگھ کی خراب صحت کو دیکھتے ہوئے اس خیال کو رد کر دیا گیا۔ پھر پارٹی نے سوچا کہ کیوں نہ ان سے ایک تفصیلی بیان دلوایا جائے۔ لیکن اس خیال کے تحت اسے بھی رد کر دیا گیا کہ ٹیلی ویژن پر ان کی موجودگی زیادہ بہتر اثر ڈالے گی۔ بدھ کی شب میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ وہ پارلیمنٹ میں تقریر کریں اور ا س کے لیے وہ راضی ہو گئے۔ یہ فیصلہ بعض اپوزیشن جماعتوں کے لیے حیران کن رہا کیونکہ گیارہ بجے کی اپوزیشن کی میٹنگ میں اس کا کوئی ذکر نہیں آیا تھا۔ میٹنگ میں صرف یہ طے ہوا تھا کہ اگر وزیر اعظم ایوان میں نہیں آتے ہیں تو ایوان چلنے نہیں دیا جائے گا۔ بہر حال من موہن سنگھ بولے اور خوب بولے اور نریندر مودی کی موجودگی میں بولے۔

نوٹ بندی پر ایک انتہائی ذی علم اور ماہر معاشیات کی تقریر

انھوں نے اپنی تقریر میں یوں تو کئی اہم باتیں کہیں بلکہ تمام اہم اورقابل ذکر باتوں پر اظہار خیال کیا۔ لیکن انھوں نے انتہائی نرم گوئی کے ساتھ کچھ ایسی دھاردار باتیں بھی کہیں جو ایک عرصے تک حکومت کا پیچھا کرتی رہیں گی۔ انہوں نے نوٹ بندی کے بعد حکومت کی عدم تیاری کو ایک یادگار بد انتظامی قرار دیا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ پورے ملک کے عوام ایک پندھواڑے سے جس طرح بینکوں کے سامنے قطار بند ہیں اور گھنٹوں بعد بھی مایوس اور خالی ہاتھ لوٹ رہے ہیں اور جس طرح شادیاں متاثر ہوئی ہیں اور کسانوں کی کھیتیاں تباہ ہو رہی ہیں، واقعی یہ سب کچھ ہندوستانی عوام کو برسوں یاد رہے گا۔ تاریخ بھی اس درمیان پیش آنے والے واقعات کا احاطہ کرے گی اور بے قصور عوام کو جو دشواریاں پیش آرہی ہیں ان کا ذکر کرے گی۔ من موہن سنگھ نے کہا کہ یہ کہا جا رہا ہے کہ آج لوگوں کو تکلیفیں ہو رہی ہیں اور کچھ نقصانات اٹھانے پڑ رہے ہیں لیکن طویل مدت میں یعنی آگے چل کر اس سے ملک کو بہت فائدہ پہنچے گا۔ اتنا کہنے کے بعد انھوں نے جان کینیز کا ایک جملہ نقل کیا کہ ’طویل مدت میں ہم سب مر چکے ہوں گے‘۔ (یعنی کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک)۔ اسی کے ساتھ انھوں نے نوٹ بندی کے بعد ہونے والی اموات کا ذکر کیا اور کہا کہ کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ صورت حال کہاں جا کر ختم ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ یہ کہا جا رہا ہے کہ پچاس دن ہمیں دے دو۔ کوئی بات نہیں یہ کوئی لمبا وقفہ نہیں۔ لیکن ان پچاس دنوں کو انھوں نے ’عوامی ٹارچر‘ سے تعبیر کیا اور کہا کہ یہ پچاس دن تباہ کن ثابت ہوں گے۔ جس طرح بینکوں میں لوگوں سے کیش جمع کرائے جا رہے ہیں اور اکاونٹ ہولڈر اپنے پیسے نہیں نکلوا پا رہے ہیں اس کو من موہن سنگھ نے ایک ’منظم اور قانونی لوٹ‘ قرار دیا۔ یہ لوٹ نہیں تو اور کیا ہے کہ لاکھوں کروڑ روپے بینک میں جمع ہو گئے ہیں اور عوام پائی پائی کو محتاج ہیں۔ سابق وزیر اعظم نے حکومت سے سوال کیا کہ وہ صرف ایک ملک کا نام بتا دے جہاں لوگوں سے پیسے جمع کروائے گئے ہوں اور لوگ اپنے پیسے ہی نہیں نکال پا رہے ہوں۔ انھوں نے کہا کہ یہی ایک بات ایسی ہے جو اس اقدام کی مذمت کرنے کے لیے کافی ہے۔ یعنی باتیں تو اور بھی ہیں لیکن صرف اسی کو نظر میں رکھا جائے تو یہ ان کے مطابق قابل مذمت اقدام ہے۔ سابق وزیر مالیات اور ریز رور بینک آف انڈیا کے گورنر نے ایک ایسی بات بھی کہی جو صرف ایک ماہر معاشیات ہی کہہ سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس درمیان جو کچھ ہوگا اس سے کرنسی نظام اور بینکنگ نظام پر عوام کا اعتماد متزلزل ہو جائے گا۔

قابل ذکر ہے کہ حکومت کی جانب سے بار بار کہا جا رہا ہے کہ اب ملک میں کیش لیس اکانومی ہوگی یعنی ملک ایسے معاشی نظام میں داخل ہو جائے گا جہاں نقد کی اہمیت ختم ہو جائے گی اور بغیر نقدی کے ہی سارا کاروبار چلے گا۔ حکومت کی خوش فہمی ہے کہ اس سے لوگوں کا بینک پر بھروسہ بڑھے گا اور لوگ زیادہ سے زیادہ اکاونٹ کھلوائیں گے۔ لیکن من موہن سنگھ کیا کہتے ہیں اس پر بھی حکومت کو غور کرنا چاہیے۔ انھوں نے جہاں زرعی شعبے کا ذکر کیا وہیں ملکی معیشت کا ذکر کیا، مزدوروں کا ذکر کیا اور ملک کی مجموعی قومی پیداوار کو ہونے والے ممکنہ خسارے کا بھی حوالہ دیا۔ انھوں نے کہا کہ اس قدم سے ملک کی جی ڈی پی یعنی مجموعی قومی پیداوار دو فیصد گر جائے گی۔ ان کے مطابق یہ ایک محتاط اندازہ ہے ورنہ نقصان اس سے بھی زیادہ ہوگا۔ پورے ملک کو جو پریشانیاں ہو رہی ہیں اور جس طرح روز بہ روز ضابطے بدل رہے ہیں اس کے لیے انھوں نے وزیر اعظم اور وزیر مالیات کے دفاتر اور ریزرو بینک کی بدانتظامی کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ آخر میں انھوں نے وزیر اعظم سے اپیل کی کہ وہ کوئی ایسا راستہ اختیار کریں جس سے عوامی مشکلات کا حل نکل سکے۔ نوٹ بندی کے معاملے پر جہاں عوام میں افراتفری ہے وہیں پارلیمنٹ بھی افراتفری کی شکار ہے۔ ایسے میں ڈاکٹر من موہن سنگھ جیسے قابل، ذی علم، سنجیدہ اور ماہر معاشیات کو پارلیمنٹ میں سننا بلا شبہ عوام کے لیے ایک خوشگوار تجربہ تھا۔ کاش ان کی باتوں کو موجودہ حکومت ایک دردمند دل کی فریاد سمجھ کر قبول کرلے نہ کہ اپوزیشن لیڈر کی بڑ سمجھ کر نظرانداز کرے۔

نوٹ : مضمون نگار ایک معروف صحافی اور تجزیہ کار ہیں۔

sanjumdelhi@gmail.com

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز