آہ مولانا عبد اللہ مدنی جھنڈا نگری

Dec 23, 2015 05:42 PM IST | Updated on: Feb 24, 2016 05:48 PM IST

یہ حقیقت ذہن قبول کرنے کو تیار نہیں ہے کہ مولانا عبد اللہ مدنی جھنڈا نگری اب ہمارے درمیان نہیں رہے۔ لیکن یہ ایک اٹل سچائی ہے اور قانون قدرت بھی ہے لہٰذا اسے تسلیم کرنا ہی پڑے گا۔ ابھی چند روز قبل ایک پروگرام میں شرکت کی غرض سے وہ دہلی آئے تھے۔ پروگرام ایک ہفتے کا تھا اور وہ پورے ہفتے رہے۔ اس موقع پر ان سے ملاقاتیں بھی رہیں۔ جس روز ان کو دہلی سے جانا تھا اس سے ایک روز قبل میں رات میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے نہرو گیسٹ ہاوس میں جہاں ان کا قیام تھا ملنے گیا۔ کافی دیر تک ساتھ رہا۔ ہم لوگوں نے ساتھ کھانا کھایا۔ ان کے بھائی عبد العظیم بھی ان کے ساتھ تھے۔ وہ چونکہ دل اور شوگر کے مریض تھے اس لیے جہاں بھی جاتے اپنے کسی نہ کسی بھائی کو ساتھ رکھتے۔ اس سے دس پندرہ روز قبل بھی وہ ایک اسی قسم کے پروگرام میں شرکت کی غرض سے دہلی آئے تھے۔ اس وقت ان کے دوسرے بھائی زاہد آزاد ان کے ساتھ تھے۔ اس وقت ان کا قیام ہوٹل ریور ویو ابوالفضل میں تھا۔ اس وقت بھی ہم لوگ کافی دیر ساتھ رہے۔ ایسا بہت کم ہوتا کہ وہ دہلی آئیں اور خاکسار سے ملاقات نہ ہو یا میں اپنے وطن جاؤں اور ان کے دولت خانہ جھنڈا نگر نیپال، جہاں ان کے ادارے بھی ہیں، نہ جاؤں اور ان سے ملاقات نہ کروں۔ یہ خیال کبھی بھی دل میں نہیں آیا کہ وہ اس طرح اچانک ہم لوگوں کو چھوڑ کر دنیا سے چل بسیں گے۔

اکیس دسمبر کو میں ان کے اور اپنے ایک بہت ہی خاص دوست شیخ صلاح الدین مقبول کے ساتھ منڈاولی، دہلی میں ایک پروگرام میں تھا۔ وہیں کاٹھمانڈو سے فون آیا کہ مولانا مدنی کی طبیعت اچانک خراب ہو جانے کی وجہ سے ان کو ایک اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے، جہا ںان کے دل کا آپریشن ہوا ہے، مگر ان کی حالت نازک ہے، انھیں وینٹی لیٹر پر رکھا گیا ہے، ان کے لیے دعا کریں۔ میں نے فوراً ان کے بھائی، انجمن ارتقائے اردو ادب نیپال کے جنرل سکریٹری، عالمی یوم اردو کمیٹی کے نیپال کے کنوینر اور معروف شاعر زاہد آزاد جھنڈا نگری کو فون کیا۔ انھوں نے بھی وہی باتیں بتائیں اور دعا کی درخواست کی۔ اگلے روز صبح پونے گیارہ بجے فون آیا کہ مولانا کا انتقال ہو چکا ہے۔ یقین نہیں آیا۔ ان کے گھر فون کیا۔ خبر کی تصدیق ہو گئی۔ حالانکہ ان کی حالت اتنی خراب نہیں تھی کہ ایسا حادثہ پیش آتا۔ انھیں کاٹھمانڈو کے سب سے اچھے ہارٹ اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ چونکہ کئی نسیں بند ہو گئی ہیں اس لیے ایک چھوٹا سا آپریشن کرنا پڑے گا۔ آپریشن ہوا مگر اسی درمیان ان کا شوگر لیول پانچ سو سے اوپر پہنچ گیا۔ دواؤں نے کام کرنا بند کر دیا۔ اس طرح عالم بے ہوشی میں روح پرواز کر گئی۔ اسپتال کے ڈاکٹر بھی حیران تھے کہ یہ کیا ہو گیا۔ مولانا تو اپنے پیروں پر چل کر خوش و خرم آئے تھے۔ ذرا سی تکلیف تھی۔ اتنا بڑا مسئلہ نہیں تھا۔ لیکن شائد قدرت کو اسی بہانے انھیں دنیا سے اٹھانا تھا۔

آہ مولانا عبد اللہ مدنی جھنڈا نگری

مولانا عبد اللہ مدنی کثیر جہت شخصیت کے مالک تھے۔ وہ جامعہ سلفیہ بنارس، ندوۃ العلما لکھنؤ اور جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے تعلیم یافتہ تھے۔ انھوں نے نیپال کے جھنڈا نگر میں جسے کرشنا نگر بھی کہا جاتا ہے، 80 کی دہائی میں مرکزالتوحید کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا تھا جس کے تحت لڑکیوں کا تعلیمی ادارہ مدرسہ خدیجۃ الکبریٰ للبنات چل رہا ہے۔ اس ادارے سے سیکڑوں لڑکیاں دینی تعلیم حاصل کرکے عالمہ و فاضلہ بن کر باہر آئیں۔ ان میں سے کئی مختلف اداروں میں تدریسی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ مرکزالتوحید کے تحت ایک شاندار لائبریری بھی ہے جس کی اپنی عمارت ہے اور جس سے بہت سے تشنگان علوم استفادہ کرتے ہیں۔ انھوں نے تقریباً تیس سال قبل ’’نور توحید‘‘ کے نام سے ایک دینی ماہنامہ کا اجرا کیا تھا جو اب بھی پابندی کے ساتھ مسلسل شائع ہو رہا ہے۔ مولانا اس کے مدیر مسؤل تھے۔ اس کا اداریہ وہی تحریر کرتے۔ انتہائی مختصر مگر جامع اداریے میں جس کا عنوان شعور و آگہی ہوتا تھا، مختلف مسائل پر قرآن و سنت کی روشنی میں اظہار خیال کرتے۔ وہ نیپال کا سب سے زیادہ پڑھا جانے والا اردو مذہبی رسالہ ہے۔ خاکسار اس کے ادارتی بورڈ میں شامل ہے۔ انھوں نے اس رسالہ کے ذریعے ملک نیپال میں اردو زبان میں اسلام کی جو شمع جلائی تھی اس سے بہت سے گم گشتہ افراد کو صحیح راستے کا پتہ چلا۔

مولانا عبد اللہ مدنی نہ صرف نیپال میں بلکہ پورے عالم اسلام میں جانے پہچانے جاتے تھے۔ وہ نیپال کے چند معزز علما میں سر فہرست تھے۔ وہ جمعیت اہلحدیث نیپال کے سرپرست تھے۔ انھوں نے کبھی اسے پسند نہیں کیا کہ وہ خود الیکشن لڑیں۔ اس لیے انھیں سرپرست بنایا جاتا رہا۔ دنیا کے مختلف ملکوں میں ہونے والی اسلامی کانفرنسوں، سمیناروں اور پروگراموں میں وہی نیپال سے جماعت اہلحدیث کی نمائندگی کرتے تھے۔ نیپال کے متعدد سیاست دانوں سے بھی ان کے بہت گہرے مراسم رہے۔ ان کے یہاں منعقد ہونے والے اکثر پروگراموں میں وہاں کے سیاست داں بھی شریک ہوتے۔ اس کے علاوہ نیپال کی علمی شخصیات سے بھی ان کا تعلق رہا۔ متعدد سینئر وکلا اور جج حضرات سے بھی ان کا دوستانہ تھا۔ خاص طور پر سپریم کورٹ آف نیپال کے جج طاہر علی انصاری سے ان کے بے حد قریبی مراسم رہے۔ وہ ان کے ادارے میں ہونے والے پروگراموں میں اکثر و بیشتر شرکت کرتے۔ ایک بار ایک ہند نیپال سمینار میں دہلی سے خاکسار نے بھی جج صاحب کے ساتھ شرکت کی سعادت حاصل کی تھی۔ اس کے علاوہ بھی ان کے سالانہ پروگراموں اور وقتاً فوقتاً ہونے والے سمیناروں میں راقم شریک ہوتا رہا ہے۔ صحافت کے سلسلے میں انھوں نے کئی سمینار کیے تھے۔ ایسے پروگراموں کے بارے میں وہ مجھ سے ضرور مشورہ کرتے۔ دہلی، لکھنؤ، ممبئی، بنارس اور دوسرے شہروں کے اسکالروں کو بلاتے اور ان کے خیالات سے اہل نیپال کو واقف کراتے۔ ابھی پچھلے سال مولانا عبد السلام رحمانی کے انتقال کے بعد انھوں نے جو سمینار کیا تھا اس میں میں نے بھی بحیثیت مقالہ نگار شرکت کی تھی۔ وہ ایک عالم دین اور صحافی ہی نہیں تھے بلکہ ایک بہت اچھے شاعر بھی تھے۔ حامد سراجی ان کا تخلص تھا۔ ان کا کلام بعض اوقات ملی رسائل میں شائع ہوتا۔ ویسے وہ رسائل و جرائد میں کلام کی اشاعت میں دلچسپی نہیں لیتے تھے۔ ہاں ان کے اپنے رسالہ نور توحید میں ان کا کلام برابر شائع ہوتا رہا ہے۔ نور توحید میں شائع ہونے والے اداریوں کو انھوں نے ترتیب دیا تھا جس پر میں نے بھی ایک مضمون قلمبند کیا تھا۔ لیکن افسوس وہ مجموعہ جس کا نام ’’شعور و آگہی‘‘ تھا ابھی تک منظر عام پر نہیں آسکا ہے۔ ان کے ادارے میں ان کے بھائی زاہد آزاد کے زیر اہتمام اکثر و بیشتر مشاروں اور شعری نشستوں کا بھی اہتمام کیا جاتا رہا ہے جن میں بالخصوص اس علاقے کے کے شعرا شرکت کرتے رہے ہیں۔

ان کے خاندان سے ہمارے خاندانی روابط رہے ہیں۔ انھوں نے میرے بڑے بھائی حماد انجم کا ایک شعری مجموعہ ’’خوشۂ کشت حرم‘‘ اور میری کتاب ’’میڈیا روپ بہروپ‘‘ کا ہندی ترجمہ اپنے ادارے سے شائع کیا تھا۔ میری گزارش پر انھوں نے نومبر میں جاری کیے جانے والے مولانا ثناء اللہ امرتسری یادگار مجلہ کے لیے ایک مضمون تحریر کیا تھا۔ انھوں نے میری خاکوں کی کتاب ’’نقش بر آب‘‘ پر جلد ہی کچھ تحریر کرنے کا وعدہ بھی کیا تھا۔ ایسی بہت سی باتیں ہیں جو یاد آآکر تڑپا رہی ہیں۔ لیکن اب ان کی یادوں کے علاوہ ہم لوگوں کے پاس کیا ہے۔ اللہ ان کی لغزشوں کو درگزر کرے اور ان کے درجات بلند کرے۔ آمین۔

sanjumdelhi@gmail.com

نوٹ : مضمون نگار ایک معروف صحافی اور تجزیہ کار ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز