نوٹ بندی مودی حکومت کی سب سے بڑی ناکامی!۔

Nov 30, 2016 07:31 PM IST | Updated on: Nov 30, 2016 07:43 PM IST

نوٹ بندی کے سبب ان دنوں پوراملک افراتفری کے عالم میں ہے۔ متوسط طبقہ اورغیرمنظم سیکٹرپرہزاراورپانچ سو نقدی کی منسوخی کی شدید مارپڑرہی ہے ، یومیہ مزدوربے بسی میں مبتلا ہیں ،غریب ،مزدور،چھوٹے تاجرکسان اورعام آدمی بینکوں کے چکرکاٹ رہاہے ،کہیں بھی ان کی مشکلات کا تصفیہ دکھائی دینے کی صورت نظرنہیں آرہی ہے، حکومت اپنے نوٹ منسوخی کے فیصلہ کولے کرروزانہ جملے بازی میں مصروف ہے۔ میڈیا کے توسط سے موصول خبروں کے مطابق نوٹ بندی کے سبب اب تک ۱۰۰؍سے زائد اموات ہوچکی ہیں لیکن مرکزی حکومت ہے کہ شہریوں کے دقتوں کومحسوس کرنے کے بجائے حکم امتناعی کوملک کے مفاد میں گردانتے ہوئے اپوزیشن کے خلاف دفاعی پوزیشن میں ہے۔ من کی بات کہنے میں مہارت رکھنے والے وزیراعظم نریندرمودی آئے دن غریبوں کی پریشانیوں کوسمجھنے کے بجائے اپنے فیصلہ کودرست ثابت کرنے کے لیے انہیں جدید مشوروں سے نوازتے رہتے ہیں ،حالانکہ ایک ایسے ملک میں جس کی اکثریت گاؤں اوردیہاتوں پرمنحصرہے ‘جہاں بمشکل ضروری حوائج کی تکمیل ممکن ہو ایسے حالت میں لوگوں کوجدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی تلقین کرنا ماسواء لبھاونے والی جملہ بازی کے کچھ نہیں ہے۔ حکومت کومعلوم ہونا چاہیے کہ ہندوستان کی کروڑوں آبادی انڈرائیڈ فون کے استعمال سے ناآشنا ہے،دیہی علاقوں میں ابھی تک اس پیمانہ پرانڈرائیڈ فون کاچلن عام نہیں ہوسکا جس سطح پرشہروں میں ہے۔’من کی بات‘ میں نوجوانوں کومخاطب کرتے ہوئے کہا’’نوجوان طبقہ کیش لیس سوسائٹی کی تعمیرپرزوردیں‘‘۔حالانکہ وزیراعظم کوبخوبی اس بات کاعلم ہے کہ بڑی مچھلیوں کے تحفظ کے لیے اٹھائے گئے اس قدم کے بموجب عام شہری دربدرکی ٹھوکریں کھارہا ہے۔غریب ،کسان،مزدور جنہیں دو وقت کے لیے کھانے کاانتظام نہیں ہے وہ ڈیجیٹل انڈیا کی جدید تکنیک کیسے استعمال میں لائیں گے ۔دوسری طرف شہریوں کی تکالیف بیان کرنے والی غیرجانبدارمیڈیا کی آوازنقارخانے میں طوطی کی آوازبن کررہی گئی ہے،جن کاکوئی سننے والاہی نہیں۔

            مودی حکومت کے اس غلط فیصلے کے سبب جہاں ایک طرف اپوزیشن جماعتیں متحدہ فرنٹ کی شکل میں حزب اقتدارپرحملہ آور ہیں وہیں دوسری طرف ملک وبیرون ملک سے ماہرین اقتصادیات کی تنقیدوں کاسامنا بھی ہے جوکہیں نہ کہیں حکومت کی کوتاہی اورجلدبازی میں لیے گئے فیصلہ کوعوام کے ساتھ مذاق سے مترادف مانتا ہے۔ وزیراعظم نریندرمودی نے ۸؍نومبرکی شب میں اعلان کے وقت کہا تھاکہ بہت جلد پریشانیاں دورہوجائیں گی لیکن معاملات مزید پیچیدہ ہوتے جارہے ہیں کیونکہ غلط وقت اورغیرمنظم طریقے سے لیے گئے فیصلہ سے مرکزی حکومت کی بے چینی ظاہرہورہی ہے ۔بینکوں کے لین دین کے تئیں روزانہ نئے نئے ترمیمی وتنسیخی اعلانات سامنے آ رہے ہیں،جس سے مودی حکومت کی بدنظمی اورغلطی صاف ظاہرہورہی ہے۔ ایوان بالاکی کاروائی کے دوران شدید حملہ کرتے ہوئے سماجوادی لیڈرنریش اگروال نے کہا’’یہ فیصلہ عوام کے حق میں انتہائی غلط ہے ‘مجھے لگتا ہے وزیرخزانہ ارون جیٹلی جی بھی شاید نوٹ بندی کے تئیں غیرواقف کارتھے‘‘۔بقول بی ایس پی سپریمو’ملک اقتصادی ایمرجنسی کاشکارہے جس سے ملک کاکسان اورغریب طبقہ جوجھ رہاہے‘۔اسی طرح۲۴؍نومبر کوایوان بالامیں اپنے مختصرخطاب کے دوران سابق وزیراعظم وسابق گورنراورماہراقتصادیات ڈاکٹرمنموہن سنگھ نے حکومت کوآڑے ہاتھوں لیتے کچھ ضروری مشورے دیئے جس میں انہوں نے عوام کے دکھ درد کوبیان کیا اورکہا’زراعت، غیرمنظم شعبے اورچھوٹی صنعتیں نوٹ کی منسوخی کے فیصلے سے بری طرح متاثرہوئی ہیں اورملک کے عوام کا کرنسی اوربینکنگ کے نظام پرسے اعتماد متزلزل ہورہاہے،لوگ ریزروبینک آف انڈیا کوتنقید کانشانہ بنارہے ہیں حالانکہ ان کی تنقیدیں اتنی ساری پریشانیوں کے پیش نظرجائزہے ،یہ مینجمنٹ کی سطح پربھاری انتظامی ناکامی ہے۔ سابق وزیراعظم نے مرکزکوانتباہ دیتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں حالات کیا رخ اختیارکرلیں کچھ نہیں کہاجاسکتا ہے‘۔ ڈاکٹرمنموہن سنگھ ماہراقتصادیات ہونے کے ساتھ حکومتی سطح پرکافی طویل تجربہ رکھتے ہیں ،حزب اقتدارنے اگرنوٹ کی منسوخی سے قبل چند ماہرین معاشیات واقتصادیات سے مشورہ طلب کرلیا ہوتا توشاید یہ طویل مصائب عوام کو برداشت نہ کرنے پڑتے لیکن بقول کانگریسی لیڈرجے رام رمیش ’مودی جی دھماکہ کرنے میں ماہرہیں اس لیے انہوں نے اچانک نوٹ بندی کا دھماکہ کردیا اورعوام مصیبت جھیل رہی ہے‘۔ درحقیقت بڑے نوٹوں کی منسوخی کی وجہ سے عوام کی پریشانیوں کودیکھ کرہرشخص مودی حکومت کوکوستا نظرآرہاہے جس میں عام زندگی مفلوج ہوکررہ گئی، ملکی معیشت ٹھہرسی گئی ہے افاقہ کی کوئی سبیل اورمتبادل سامنے نہیں ہے ۔ نوبل انعام یافتہ ماہرمعاشیات امرتیہ سین نے مودی حکومت پرشدید تنقید کرتے ہوئے کہا’اچھی پالیساں تکلیف دیتی ہیں مگرہروہ عمل جوتکلیف دہ ہوضروری نہیں کہ اچھی پالیسی ہی ہو‘انہوں نے کالے دھن پرقدغن اورموجودہ صورت حال کے تئیں اظہارخیال کرتے ہوئے کہا’کالے دھن پرروک تھام مشکل نظرآرہا ہے ،یہ حکومت ویسے ہی ناکام ثابت ہوگی جیسے بیرون ملک جمع کالے دھن کوملک واپس لانے میں ناکام ثابت ہوئی ہے‘۔مرکزی حکومت کے اس فیصلے سے ہرغیرجانبدارطبقہ نالاں ہے کیونکہ اس نے فیصلہ میں جلدبازی کامظاہرہ کیا اورمستقبل میں درپیش مسائل کا اندازہ نہیں کیا۔

نوٹ بندی مودی حکومت کی سب سے بڑی ناکامی!۔

            حزب اقتدارکی انانیت بڑے نوٹ پرپابندی کے بعد سے مزید کھل کرسامنے آگئی ہے ،اپوزیشن پارٹیاں ایوان میں مودی کی حاضری پرمصرہیں لیکن یہ ہے کہ باتوں میں الجھا کرسیشن گنوانا چاہ رہی ہے۔ حکومت کایہ فیصلہ گرچہ درست ہولیکن عوامی مسائل میں اضافہ کے چلتے ضروری متبادل بہم پہونچانا حکومت کی ذمہ داری ہے تاہم حکومت جملہ بازیوں میں مصروف ہے ،وزیراعظم نریندرمودی مخالف جماعتوں کا ترکی بہ ترکی جواب دے رہے ہیں ،حالانکہ ہوناتوچاہیے کہ تمام جماعتوں کی مشترکہ کمیٹی بلائی جاتی یاپھرایوان میں سب کی باتوں کوسن کرتلافی مافات کی کوئی صورت نکالی جاتی مگراکڑفوں سے آگے کچھ نہیں ہوپارہا ہے۔پورے ملک میں ہاہاکارمچاہوا‘اوروہ ہیں کہ ہاتھ چٹکارکربھکتوں کورام کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکرہے کہ دیگراپوزیشن جماعتیں ۵۰۰؍ سو اورہزارروپے کے چکرمیں پھنسی ہوئی ہیں اوردوسری طرف بی جے پی پورے شان وشوکت کے ساتھ یوپی میں انتخابی ریلیاں کرنے میں جٹی ہوئی ہے،جس سے کہیں ناکہیں مخالف پارٹیوں کایہ الزام کہ حکومت نے یوپی الیکشن کودیکھ کریہ فیصلہ کیا ہے درست لگتا نظر رہاہے ۔ کالادھن ابھی ملک میں ہے جس کا اکثرحصہ انہیں لیڈران کی تحویل میں ہے جوعوام کی نمائندگی کرتے ہوئے عوام کی جیب ڈھیلی کررہے ہیں۔ میں نے اس سے پہلے یہ بات کہی ہے کہ کالے دھن کے نام پربیرون ملک جمع شدہ کالی رقم جس سے سیاسی جماعتوں کوچندہ ملتاہے بڑی مچھلیوں پرڈورے ڈالنے کے بجائے تالاب کی چھوٹی مچھلیوں کا شکارکیا جارہا ہے جوکسی بھی صورت میں ملک کے مفاد میں نہیں ہے ۔

نوٹ: یہ مضمون نگار کی اپنی رائے ہے، اس سے پردیش 18 اردو کا اتفاق ضروری نہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز