اسلام پربلاتفریق مسلک یلغارجاری ، مسلکی تعصب سے بالاترہوکر مقابلہ کرنے کی ضرورت

Nov 10, 2016 02:11 AM IST | Updated on: Nov 10, 2016 02:12 AM IST

ہندوستانی میڈیامیں ان دنوں اسلام کے طلاق جیسے عائلی قانون پربحث ہورہی ہے جس کے تحت مسلم علماء ودانشوران کوبراہ راست نشانہ بنایاجارہاہے۔جس میں نام نہادمسلم طبقہ بھی شامل ہے جیساکہ زمن نبوی سے یہ طبقہ سرگرم رہاہے۔اسلام بشمول جملہ اصول وقوانین کے وسیع نظریہ اورباہمی اتحادکاضامن ہے،طلاق اورخلع کواسلام نے جائزٹھہرایاہے لیکن اس کی حوصلہ افزائی نہیں بلکہ حددرجہ حوصلہ شکنی کی ہے،خلع وطلاق ایک حساس مسئلہ ہے جوباہم رشتہ ٔازدواج میں منسلک خاوندوبیوی کے درمیان انتہائی سخت ترین حالت میںجوازفراہم کیاہے۔ جس کی وضاحت قرآن واحادیث میںمکمل طورپر کیاگیاہے۔ دورنبوی سے دوری کے سبب جس طرح سے دیگرمسائل میںفقہی اختلافات رونماہوئے اسی طرح یہ مسئلہ بھی اس حملہ کے زدسے محفوظ نہ رہ سکا،طلاق کے معاملہ میں ائمہ ومحدثین کرام کے نزدیک شدیداختلافات موجودہیں جن میں ان کے اپنے استدلال ووجوہات ہیں۔حالانکہ یہ اختلاف‘ احادیث سے منسلک لوگوں کے لیے زیادہ مشکل امرنہیں کیونکہ مستنداحادیث وروایات سے طریقۂ طلاق بالکل واضح ہے۔مسلم پرسنل لاء بورڈکی جانب سے طلاق کے مسئلہ میں کافی دلچسپی کامظاہرہ کرنااورپورے ملک کے مسلمانوںکواس جانب متوجہ کرنے کاعمل انتہائی قابل تعریف ہے جس میں بلاتفریق تمام لوگ شامل رہے ہیں کیونکہ یہاں بین المسالک فقہی نزاع نہیں بلکہ اسلام دشمن فسطائی طاقتوں اورقرآن واحادیث سے ٹکراؤتھااس لیے سب کاایک پلیٹ فارم متحدہوناضروری تھا۔

طلاق کامسئلہ اس وقت مزیدپیچیدہ ہوگیاجب مرکزمیںحزب اقتدارنے عورتوں سے ہمدردی اور حقوق کے نام پرفریق بن کرکورٹ میںحلف نامہ داخل کیااورمطالبہ کیاکہ شرعی اصول وقانون کے بجائے اس معاملے میں ملکی قانون نافذکیاجاناچاہیے کیونکہ ہم ایک ترقی یافتہ زمانہ میں زندگی گزاررہے ہیں اوراسلام کانظام طلاق عورتوں کوان کی آزادی اورحق نہیں دیتاہے۔چیونکہ حزب اقتدار کا اسلام اورمسلمانوںکے تئیں عنادودشمنی عیاں ہے اوروہ ہندوستان کی سخت گیرتنظیم آرایس ایس کی ایماء پراپنے تمام منصوبے وضع کرتاہے جس سے مرکزی حکومت کی نیت صاف ظاہرہوتی ہے۔مفکرین ودانشوران کے مطابق مرکزی حکومت طلاق جیسے فقہی مسئلہ کافائدہ اٹھاکرسیکولرہندوستان میںیکساں سول کوڈکے لیے ماحول اوررائے عامہ ہموارکرنے کی کوشش کررہی ہے،کیونکہ یکساں سول کوڈ اس کے ایجنڈے میںشامل ہے ۔حالانکہ مختلف المذاہب کے پاسداراس ملک عزیزمیں یکساں سول کوڈکانفاذماسوادیوانے کے خواب اورکچھ بھی نہیں ہے ۔یہاں کی زرخیزمٹی میں تمام مذاہب وادیان کے لوگ بستے ہیں اورسب اپنے مذہبی،معاشرتی، عائلی ،علاقائی اور خصوصی اختیارات وامتیازات پرقائم ہیں،اس لیے کوئی بھی شخص اپنے مذہبی تشخص کوملیامیٹ نہیں کرناچاہے گا۔ ہندوستانی آئین ہرمذہب کے پیروکاروںکوان کے مذہب پرعمل پیراہونے کی مکمل آزادی دیتاہے جس میںوہ اپنے مذہب کی تبلیغ واشاعت اوراپنے تشخص کوبرقراررکھنے کے لیے اپنے تعلیمی ادارے قائم کرسکتے ہیں۔ آئین ہنددنیاکے جمہوری ممالک کے آئین میں سب سے عمدہ تصورکیاجاتاہے لیکن دفعہ ۴۴؍جس میں یکساں سول کوڈکاذکرہے ‘نے خطرے کی تلوارمذہبی متبعین پرلٹکادی ہے تاہم یکساں سول کوڈکے نفاذکے لیے ملک کے ہرشہری کواعتمادمیںلیناحکومت کی ذمہ داری میں شامل ہے ۔

اسلام پربلاتفریق مسلک یلغارجاری ، مسلکی تعصب سے بالاترہوکر مقابلہ کرنے کی ضرورت

طلاق کے مسئلہ نے جہاں تحفظ شریعت کے نام پرمسلم امۃ کومتحدکرنے کاکام کیاہے وہیں دوسری طرف مسلکی عنادوتعصب کوبڑھاواملا،جس میں ملک کے مشاہیرعلماء واضح طورپرشامل رہے ہیں۔مسلکی تعصب اوراپنے مسلک میں تقلیدجامدکی مثال پیش کرتے ہوئے کہا’اس سلسلے میںساتویں صدی ہجری تک تین طلاق کوبڑے بڑے ائمہ نے تین ہی ماناہے، اس کے بعدامام ابن تیمیہ نے کہاکہ ایک مجلس میں تین طلاق ایک تسلیم کی جائے گی ،ہمارے اہلحدیث مسلک کے ماننے والے بھائی اسی پرعمل کرتے ہیں‘(راشٹریہ سہارااردو-۲۴؍اکتوبر۲۰۱۶)آپ دیکھ سکتے ہیںکہ کس طرح محترم نے صراحتاًاحادیث کاانکارکرتے ہوئے پوری بات کوامام ابن تیمیہ اوران کے زمانے پرموقوف کردیاہے۔میں اسے احترام میںکذب بیانی کہنے کی جرأت نہیں کرسکتالیکن یہ صریح تحریف اورمسلکی تعصب کی بناء پرحدیث رسول کے ساتھ کھلواڑہے ۔

میں برگ برگ اس کونموبخشتارہا

وہ شاخ شاخ میری جڑیںکاٹتارہا

حالانکہ اللہ کے رسول کے زمانہ میںطلاق کے کئی ایسے معاملات سامنے آئے جس کاتصفیہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیااورحدیث میں مذکوربھی ہے۔ اللہ خیرکرے ہمارے علماء عظام کاکہ کس طرح عوام کوعقلی دلائل پرقرآن وحدیث کی باتوں کاحل پیش کرتے ہیں وہ بھی ایسی مثال جس کوسن کرقرآن وسنت سے وابستہ ہرصاحب علم نکاردے۔(دیکھیںسورۃ طلاق :۱-۲٭سورۃ بقرۃ:۲۲۹،۲۳۱٭بخاری:۵۲۵۱،مسلم:۱۴۷۱٭مسلم کتاب الطلاق،باب طلاق الثلاث:۱۴۷۲؍اسی باب میں مزیدکئی احادیث مذکورہیں٭مصنف ابن ابی شیبہ٭ابوداؤد٭مزیددیکھیںایک مجلس کی تین طلاق قرآن وحدیث کی روشنی میںازمولاناحکیم محمداسرائیل سلفی ودیگرکتب)۔

آج جب اسلام پربلاتفریق مسلک یلغارجاری ہے ،اس پرفتن دورمیں مسلکی تعصبات سے بالاترہوکر مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے،اہل السنۃ والجماعۃ اہل حدیثوں نے ہمیشہ وسعت قلبی کامظاہرہ کیااورمسلکی ہواکے رخ کوموڑاہے،مرکزی جمعیت اہل حدیث ہندکے ناظم عمومی مولانااصغرعلی امام مہدی سلفی صاحب نے حالیہ کئی کانفرنسوںمیں مسلم پرسنل لاء کی بھرپورتائیدکی بات کہی ہے نیزخود پریس ریلیزاوربیانات جاری کیے ہیںاورہمیشہ ایساہوتارہاہے کہ مسلم امہ ہونے کے ناطے اغیارسے مقابلہ کے لیے متحدہوئے ہیں۔وقت کاتقاضہ ہے کہ بین المسالک اختلاف کوہوانہ دیتے ہوئے فسطائی قوتوںکامقابلہ کریںورنہ ایک دوسرے پرالزام تراشی سے ہم مقابلہ میں مسبوق رہ جائیںگے اوراتحادکامکھوٹازمیںبوس ہوجائے گا۔ ضرورت ہے مسلم پرسنل لاء کے لئے زمینی سطح پرمتحدہوں اورکسی بھی مذہبی اختلاف میں اغیارکوبھونکنے کاموقع فراہم نہ کریں،یہ ہماری اپنی کوتاہیوں کا ثمرہ ہے اس کے لیے مستقل لائح عمل متعین کریں اوراسلام پرکاربندرہیں ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز