قومی سیاست میں مسلمانوں کی بے وقعتی لمحۂ فکریہ

Jan 15, 2017 06:45 PM IST | Updated on: Jan 15, 2017 06:45 PM IST

آبادی کے اعتبار سے ہندوستان پوری دنیامیں دوسرے نمبرپرہے جس میں مسلمانوں کی آبادی کاتناسب 2011کی مردم شماری کے مطابق 14.23فیصد ہے ۔جس کی خاصی تعداد اترپردیش میں موجودہے۔ یوپی میں اسمبلی انتخاب کی تاریخوں کااعلان ہوچکاہے تمام سیاسی پارٹیاں پوری تیاری کے ساتھ میدان میں اترچکی ہیں ۔ہرپارٹی کاتقریبااپناالگ منشورہے،جس میں وہ آبادی کے اعتبارسے رائے دہندگان کومائل کرنے والے اعلانات بھی شامل ہیں جن کی مددسے انہیں کرسی ٔاقتدارحاصل کرنی کی امید ہے۔ہندوستانی سیاست میں یوپی کاکردارکافی اہمیت کامتحمل ہے اس کااندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ مرکزی الیکشن کمیشن کی جانب سے یوپی کے علاوہ دیگرپانچ ریاستوں کے انتخابی تاریخ کااعلان ہوا؛تاہم وہاں وہ زورآزمائی دیکھنے کونہیں مل رہی جویوپی میں ہے۔دراصل دہلی کاراستہ بھی یوپی سے ہوکرگزرتاہے جس میں سب سے زیادہ ارکان پارلیمان اورریاستی اسمبلی کے ارکان ہیں ۔

معلوم ہوکہ یوپی میں مسلمانوںکی تعدادآبادی کے تناسب سے 19.3فیصدیعنی چارکروڑ کے آس پاس ہے۔اس کے باوجود مسلمانوں کی بے وقعتی مسلم ہے، ان کاکوئی چہرہ نہیں جومسلم مسائل اورحقوق کی لڑائی میں یکساں طورپرمقبول عام ہو،سیاسی جماعتوںمیں مسلمان نمک کی طرح ملے ہونے کے باوجودبے مزہ ہیں۔اسی طرح ملک کی سب قدیم پارٹی نیشنل کانگریس یاسماجوادی پارٹی،بہوجن سماج پارٹی یادیگرعلاقائی وقومی پارٹی میں مسلمان برائے نام موجودہیں،ان جماعتوں میں ان کی حیثیت اس طورنہیں کہ اپنی بات منواسکیں،بلکہ یہ وہی کچھ کرسکتے ہیں جوان سے اوپرکے فرمان جاری کریں۔آزادی کے ۷۰؍سال گزرچکے ہیں لیکن مسلمان ابھی تک اپنی تشخص اورحقوق کی لڑائی لڑرہاہے ۔چند لیڈران نے اس جانب توجہ دینے کی کوشش بھی کی تاکہ قومی سیاست میں اپناوقارقائم کیاجائے اوراپنے حقوق ومسائل کاتصفیہ خودکریں لیکن سیاسی جماعتیں مسلم ووٹ بینک کے خوف سے کہیں ناکہیں ان کی راہ میں آڑے آئیںجس کی بہت سی واضح دلائل موجود ہیں۔سچرکمیٹی اورسری کرشنارپورٹ کے منظرعام پرآنے کے باوجودمسلم لیڈرشب نے ہوش کے ناخن نہیں لیے،بلکہ شخصی مفادکے زیرسایہ پوری قوم کوداؤں پرلگانے سے تامل نہیں برتا۔اب جبکہ یوپی انتخاب بالکل قریب ہے خودساختہ سیکولرجماعتیں مسلم رائے دہندگان کوخوش کرنے کے لیے جھوٹی روٹی پھینک رہی ہیں،ان کے حقوق ، تعلیمی پسماندگی ،غربت،سماجی مساوات،ریزرویشن اورانصاف کی دہائی دے رہی ہیں۔مسلمان ان پرفریب وعدوں میں اس طرح پھنس جاتاہے کہ حقیقت حال کااندازہ نہیں لگاپاتااورسیاسی استحصال کاشکارہوجاتاہے۔انہیں ماؤف ذہن پرزوردیناچاہیے کہ برسوں سے ہمارے ساتھ دھوکاکیاجارہاہے ہرمحاذپرانہیں ہی لوٹاجارہاہے توکیوںنہ اپنی سیاسی وقعت مستحکم کریں،کیوں نہ مشترکہ حقوق کی جنگ لڑیں۔ اس جانب مسلم دانشوراورجدیدسیاست سے واقف کارشخصیات کوتوجہ دینے کی ضرورت ہے،تاکہ سیاسی شناخت قائم ہواورخود حقوق کی لڑائی لڑسکیں۔خیال رہے کہ یوپی میں دلت 21.1فیصد،اونچی ذات جن میں برہمن،ٹھاکروغیرہ آتے ہیں22فیصد،مسلم19.3فیصد،قبائلی 0.8فیصد،اورسب سے زیادہ اوبی سی 41فیصداسی میں یادوبھی شامل ہیں جو8فیصدہیں ۔اب آپ اس اعدادوشمارسے اندازہ لگاسکتے ہیں کہ مسلمانوں کی آوازکہاں ہے اوروہ قومی سیاست میں کس مقام پرہیں۔

قومی سیاست میں مسلمانوں کی بے وقعتی لمحۂ فکریہ

قوموں کے عروج وزوال کی ذمہ دارخودقومیں ہوتی ہیں،لیکن جوخود قیادت وسیادت سے محروم رہناچاہے اسے کوئی آگے نہیں لے جاسکتاہے۔قومی دھارے میں ایک اہم حصہ ہونے کے باوجودکوئی ایسی جماعت نہیں جوحقیقی معنوں میں ان کے حقوق کی ادائیگی اورمطالبات میں ایماندارہو،ہرکوئی اوربعض وزارتوں پربراجمان مسلم لیڈران خودذاتی مفادکے علاوہ ملی مفاد کی فکرنہیں کرتے۔ اب جب کہ یوپی میںنئے عہدہ داران منتخب کرنے کاوقت قریب ہے ،نام نہادمسلم لیڈران بیان بازیاں کرنے میں مصروف ہیں ۔یہ لوگ صرف انتخابی دنوںمیں برساتی مینڈھک کی طرح چیخ وپکارکرتے نظرآتے ہیں ، علاوہ ازیںکچھ خاص لوگ اپنی شخصیت کی بنیادپرمسلم رائے دہندگان کواپنے پسندیدہ جماعت کی طرف مائل کرنے کوشش کرتے ہیں اورپھرالیکشن ختم ہوتے ہی اپنی جیب بھاری کرکے رفوچکرہوجاتے ہیںکہ تلاش بسیارکے باوجودمنظرنامہ پرنہیں آتے؛یہ رائے دہندگان کابھولاپن ہے کہ وقتی رومیں بہہ قوم وملت پربدنماداغ بن جاتاہے۔ سیکولررائے دہندگان اس معاملے میں کم خطاوارنہیں کہ دغاخوردہ ہوتے ہوئے بھی وقتی طورپرجذباتی ہوجاتے ہیں؛پھرمستقبل کوداؤںپرلگاکرہاتھ ملتے ہیں،حالانکہ بارہاایساہورہاہے۔

دراصل مسلم لیڈرشب کے لیے یہ ایک بہت بڑاالمیہ ہے کہ برسوں گزرنے کے باوجودسیاسی استحکام حاصل نہیں کرسکا جس کی وجہ سے قومی وریاستی سطح پران کاسیاسی استحصال جاری ہے،2012  یوپی الیکشن میں اعدادوشمارکے مطابق مختلف حلقوںسے64؍ارکان اسمبلی منتخب ہوئے تھے جن کی اکثریت برسراقتدارجماعت سماجوادی پارٹی سے ہے،تاہم مسلم رائے دہندگان اس حال میں ہیں کہ انہیں کوئی خاص چہرہ نظرنہیں آتاہے جوان کے مسائل کے حل میں پیش پیش ہوبلکہ حالات اس نوع کے ہیں کہ وہ خود کاٹھگاہوامحسوس کررہے ہیں۔سیاسی مبصرین کے مطابق موجودہ اسمبلی الیکشن بالکل سرپرہونے کے باوجودمضطرب ہیں۔یہاں اس بات کاتذکرہ کرناحالات پررونانہیں ہے بلکہ آنے والے الیکشن کے تئیں بیداری پیداکرناہے۔ آپ کوبتادیں کے یوپی کے بستی منڈل کے تین اضلاع میںصرف ایک مسلم رکن اسمبلی ڈومریاگنج(سدھارتھ نگر) سے ہے حالانکہ یہ یہاں مسلمانوں کی اچھی خاصی تعداد موجودہے جواپنے ووٹ سے کسی بھی لیڈرکے قسمت کافیصلہ بروقت کرسکتی ہے ۔لیکن سب سے بڑامسئلہ ہے ووٹ کی تقسیم اورمسلم لیڈرشب کافقدان۔

واضح ہوکہ سپریم کورٹ کی ایک بیچ نے گزشتہ۲؍جنوری کواپنے ایک اہم فیصلے میں مذہب، برادری، ذات اور زبان کی بنیاد پر ووٹ مانگنے کو غیر قانونی قرار دیا ہے،ایساکرنے کی صورت میں انتخابی قوانین کے تحت بدعنوانی میں شمارکیاجائے گا۔ عدالت نے عوامی نمائندگی قانون کی دفعہ 123 (3) کی وضاحت کرتے ہوئے یہ اہم فیصلہ سنایا۔ چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر کی قیادت والی بنچ نے کہا کہ انتخابات ایک سیکولر طریقہ ہے اور عوامی نمائندوں کو بھی اپنے کام کاج سیکولر بنیاد پر ہی کرنے چاہئیں،تاکہ انسانیت کی بنیادپرکسی کی حقوق کی پامالی نہ ہو۔یہ خوش آئندفیصلہ ہے لیکن طریقہ رفتہ جوقومی سیاست میں چلاآرہاہے اس پرقدغن لگاناذرامشکل امرہے۔جس کی واضح مثال سپریم کورٹ کاتازہ فیصلہ آنے کے ایک ہفتے کے اندرہی بی جے پی کے بدزبان رکن پارلیمنٹ ساکشی مہاراج کی مسلم مخالف بیان بازی اورزہرافشانی سے عیاںہے۔

سیکولررائے دہندگان اورمسلم رائے دہندگان کے لیے ابھی بھی وقت ہے کہ متحدہوکراپناوقارقائم کریں،جس میںمسلم اوردلت اتحادبھی یوپی کے سیاسی منظرنامے میں تبدیلی لاسکتاہے ،یہ بات اس لیے کہی جارہی ہے کیونکہ دلتوں کی آوازبلندکرنے والی بہوجن سماج پارٹی کے سپریمو مسلمانوں سے کافی امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہیں ،تمام سیاسی جماعتوں کوبخوبی اندازہ ہے کہ یوپی میں کسی بھی پارٹی کی شکست وفتح کافیصلہ مسلم رائے دہندگان پرمنحصرہے۔اب جبکہ الیکشن بالکل قریب ہے مسلم نمائندہ شخصیات سیکولرسیاسی جماعتوں سے اپنی سیاسی وقعت برقراررکھنے کے لیے الیکشن سے قبل معاہدہ کرسکتے ہیں ۔علاوہ ازیں یوپی میں موجوددیگرعلاقائی پارٹیاںبھی اس کارخیرمیں آگے آسکتی ہیں تاکہ سیکولر ووٹ تقسیم نہ ہو،ورنہ اکتیس فیصدووٹ کے بل پرمرکزمیں موجودحزب اقتداریوپی کلیدبردارہوسکتی ہے اوریہ سیکولررائے دہندگان کے لیے کاری ضرب ہوگا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز