پارلیمنٹ میں جاری تعطل، ذمہ دار کون؟

Aug 09, 2015 06:03 PM IST | Updated on: Feb 24, 2016 06:11 PM IST

پارلیمنٹ میں جاری مانسون اجلاس ختم ہوا چاہتا ہے۔ اجلاس کے تین ہفتے گذر گئے اور ابھی ایک ہفتہ باقی ہے۔ گزرے ہوئے ان تین ہفتوں میں پارلیمنٹ میں کتنا کام کاج ہوا، یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے اور باقی ایک ہفتہ میں کتنا کام ہوگا، اس پر بھی کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ ایک افسوسناک سچائی ہے کہ جمہوریت کے اس سب سے بڑے مندر کہلائے جانے والے پارلیمنٹ میں اب جمہوریت نظر نہیں آ رہی ہے۔ اب یہاں جو کچھ دیکھنے کو مل رہا ہے، وہ تکبر، غرور، انا اور مفاد پرستی ہے۔ اگر حکومت کو اکثریت حاصل ہے تو اس کا کوئی کچھ بگاڑ نہیں سکتا۔ وہ اپنی طرز پر پارلیمنٹ چلانا چاہتی ہے۔

مجھے یاد آتا ہے کہ جب یوپی اے کے دور اقتدار میں کئی کابینی وزرا کے خلاف شکایتیں آئیں اورکچھ معاملوں میں اپنے اثر ورسوخ استعمال کرنے کا الزام ان پر لگا تو ان کے استعفی کے مطالبہ میں اس وقت بھی موجودہ حکمراں پارٹی نے جو اصل اپوزیشن کا رول ادا کررہی تھی،پارلیمنٹ کی کارروائی میں اس وقت تک رخنہ ڈالا جب تک کہ متعلقہ وزرا کو مستعفی نہیں ہونا پڑا۔ اس وقت جب اہم اپوزیشن پارٹی کے ایک سینئر لیڈر سے پارلیمنٹ کی کارروائی میں رخنہ ڈالنے کی بابت پوچھا گیا تھا تو انہوں نے واضح طور پر کہا تھا کہ پارلیمنٹ کی کارروائی کو صحیح ڈھنگ سے چلانا برسر اقتدار پارٹی کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ اس وقت جو پارٹی برسر اقتدار ہے کیا اب اس کی یہ ذمہ داری نہیں رہی۔ کیا اب وہ یہ ذمہ داری اپوزیشن پر تھوپنا چاہتی ہے۔

دراصل، گزشتہ عام انتخابات میں برسر اقتدار پارٹی کو جو زبردست عوامی میندیٹ ملا، اس نے اسے ایک متکبر اور گھمنڈی پارٹی بنا دیا۔ کچھ دنوں پہلے کانگریس صدر نے بھی یہی کہا تھا کہ گھمنڈ سے چور ہے یہ مودی سرکار۔ پارلیمنٹ کی کارروائی کو اگر صحیح ڈھنگ سے چلانا ہے تو یہ ضروری ہے کہ برسر اقتدار پارٹی مکمل اکثریت کے غرور سے باہر آئے۔ اسے یہ قطعی نہیں سوچنا چاہئے کہ وہ پارلیمنٹ کو نظر انداز کر کے اپنا کام کاج چلا لے گی۔ گزشتہ 65 سالہ تاریخ پر اگر نظر ڈالی جائے تو اس سے بھی کہیں زیادہ اکثریت حاصل کر کے پارٹیاں برسر اقتدار آئی ہیں۔ لیکن ان کی یہ زبردست اکثریت زیادہ عرصہ تک برقرار نہیں رہی۔ ملک کے عوام کو جب جب بھی محسوس ہوا کہ اس کو دھوکہ دیا جا رہا ہے، اس کے ساتھ کئے گئے وعدے پورے نہیں کئے جا رہے ہیں تو اگلے انتخابات میں انہوں نے اس کا بدلہ لے لیا۔

برسر اقتدار پارٹی اس زعم میں بھی نہ رہے کہ اپوزیشن محض برائے نام ہے۔ اس کو ساتھ لئے بغیر وہ بہ آسانی حکومت چلا لے گی۔ پارلیمنٹ کے جاری مانسون اجلاس میں اب تک جو کچھ ہوا وہ نہ صرف افسوسناک اور شرمناک ہے بلکہ اس سے ایوان کا وقار بھی مجروح ہوا ہے اور ساتھ ہی ہندستانی عوام کی بھی توہین ہوئی ہے۔ اپوزیشن پارٹی کے پچیس اراکین کی معطلی والا دن پارلیمنٹ کی تاریخ کا یقیناً ایک سیاہ دن تھا۔

حکومت کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ سیٹوں کی اکثریت سے کہیں زیادہ پارلیمنٹ کی اہمیت ہوتی ہے۔ پارلیمنٹ بحث ومباحثہ اور تبادلہ خیال کرنے کا ایک پلیٹ فارم ہے۔ یہاں ہر ایک پارٹی کو اپنی بات رکھنے کا اور اگر وہ درست اور جائز ہے تو اسے منوانے کا پورا حق حاصل ہے۔ لیکن ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا کہ برسراقتدار پارٹی اپنے حساب سے پارلیمنٹ چلانا چاہے، وہ اپنی مرضی دوسروں پر مسلط کرنے کی کوشش کرے۔ متکبرانہ رویہ خواہ وہ کسی کی طرف سے ہو، بہر حال اسے قبول نہیں کیا جا سکتا ہے۔

ری کمنڈیڈ اسٹوریز