راہل گاندھی کے بدلتے تیور

Jun 17, 2015 01:50 PM IST | Updated on: Jun 23, 2015 04:48 PM IST

کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی مرکز کی مودی حکومت پر مسلسل نشانہ سادھے ہوئے ہیں۔وہ پہلے کے مقابلہ میں اب کچھ زیادہ ہی پرجوش دکھائی دے رہے ہیں۔کم گوئی اور عام طور پر اپنی خاموش مزاجی کے لئے مشہور راہل گاندھی کو بالاخر اب کیا ہو گیا ہے کہ اب ان کے مزاج میں اچانک تبدیلی اآ گئی ہے جس کا مظاہرہ وہ مودی حکومت کے خلاف جارحانہ رویہ اختیار کرنے کی شکل میں کر رہے ہیں۔کانگریس کے نائب صدر کے بدلتے اس تیور سے جہاں اب ان کی پارٹی کے مایوس کارکنان میں نئی توانائی اور نیا جوش ولولہ پیدا ہونے لگا ہے تو دوسری طرف بی جے پی اس سے بہت زیادہ پریشان نظر اآنے لگی ہے۔غالباً راہل گاندھی کی سمجھ میں اب اآ گیا ہے کہ ان کا خاموش رہنا ان کی پارٹی کے ساتھ ساتھ خود ان کے سیاسی کیریر کے لئے کوئی اچھی بات نہیں ، بلکہ اسے ان کی بھاری قیمت بھی چکانی پڑ سکتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ وب وہ وزیر اعظم نریندر مودی کو مختلف سیاسی محاذوں پر نیچا دکھانے کے لئے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتے۔

صرف یہی نہیں بلکہ راہل نے اعلی تعلیم یافتہ نوجوانوں پر مشتمل اپنی ٹیم تشکیل دی ہے اور اپنے سینئر ترجمانوں کی خدمات بھی حاصل کرنا شروع کردی ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہر گزرتا دن، مہینہ اور سال راہل کے لئے کسی بڑے چیلنج سے کم نہیں ہیں اور اس چیلنج کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا ان کے لئے ایک سخت اآزمائش ہے۔کیونکہ گزشتہ عام انتخابات سے قبل ملک کی چار ریاستوں میں ہوئی کانگریس کی شکست فاش نے تو کانگریسیوں کی نیند اور بالخصوص کانگریس صدر اور نائب صدر کی نیند تو اڑا ہی دی تھی اور یقیہ رہی سہی کسر گزشتہ عام انتخابات میں مودی کی چلی زبردست لہر نے پوری کر دی تھی۔کسے پتہ تھا کہ ۲۰۰۹ کے عام انتخابات میں شاندار دو سو چھ سیٹیں حاصل کر کے اقتدار پر دوبارہ براجمان ہونے والی کانگریس پارٹی اآئندہ کے عام انتخابات میں محض دو عددی ہندسہ پر لڑھک جائے گی۔پارلیمنٹ کے گزشتہ اجلاس میں جب راہل اجلاس چھوڑ کر اٹھاون دنوں کی ایک طویل چھٹی پر بیرون ملک چلے گئے تو اپنوں اور غیروں کی طرف سے ان پر کافی تنقیدیں ہونے لگی تھیں۔اپنوں کا لہجہ تو کسی قدر نرم تھالیکن غیروں اور بالخصوص ان کے سیاسی حریفوں نے تو ان کی چٹکی لینا شروع کردی۔اب بھی وہ پارٹی کی تاریخی شکست کے صدمہ سے ابھر نہیں پائے،، ان کا عزم وحوصلہ ٹوٹ گیا ، سیاست کرنا ان کے بس کی بات نہیں، یہ اور اس طرح کی نہ جانے کتنی بے بنیاد باتیں کی گئیں۔ تاہم چھٹی گزار کر راہل جب وطن واپس اآئے تو ان کے تیور بدلے سے بدلے نظر اآئے اور یہ تیور اب تک برقرار ہے۔انہوں نے کئی مورچوں پر پارلیمنٹ کے بقیہ اجلاس میں حکومت کو گھیرااور اس کی بولتی بند کردی۔پارلیمنٹ کا اجلاس ختم ہونے کے بعد اب ملک گیر سطح پر انہوں نے دورے کرنے شروع کر دئیے ہیں۔کئی کئی کلومیٹر تک انہوں نے پد یاترا کی۔ ملک کے عوام کو ایک بار پھر سے وہ اپنی پارٹی سے جوڑنے کی کوشش میں جٹ گئے ہیں۔راہل گاندھی کے تیور میں اچانک اآئی اس تبدیلی نے جہاں ایک طرف تمام ماہرین اور سیاسی تجزیہ کاروں کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے تو وہیں دوسری طرف اب بی جے پی بھی گھبرانے لگی ہے۔اسے شاید اب اس بات کا احساس ہو چکا ہے کہ اب وہ راہل کو ہلکے میں لینے کی غلطی نہیں کرے گی۔یہی وجہ ہے کہ راہل کی طرف سے بی جے پی پر کئے جانے والے مسلسل حملوں کا جواب دینے کے لئے اس کے کئی سینئر لیڈران میدان میں کود پڑے ہیں۔

ری کمنڈیڈ اسٹوریز