راہل گاندھی کی بڑھتی مقبولیت

Jun 19, 2015 02:16 PM IST | Updated on: Jun 19, 2015 02:16 PM IST

دیر سے ہی سہی، راہل گاندھی نے اب ایک منجھے ہوئے سیاستداں کی حیثیت سے اپنی صلاحیت منوا لی ہے۔ ان کی سمجھ میں آ گیا ہے کہ ہندستانی عوام خاموشی اور کم گوئی کو ناپسند کرتے ہیں اور شور شرابے اور جوشیلی تقریریں انہیں زیادہ پسند ہیں۔ کانگریس کے نائب صدر اب اس بات کو بخوبی سمجھ گئے ہیں کہ اب ان کا مزید خاموش رہنا کسی بھی طرح سے ان کے سیاسی مفاد میں نہیں ہے۔ لہذا اب وہ مودی حکومت پر کچھ اس طرح سے حملہ آور ہو رہے ہیں جس سے جہاں ایک طرف عوام کا دھیان اپنی طرف موڑنے میں انہیں کامیابی مل رہی ہے تو دوسری طرف اب انہوں نے میڈیا میں بھی اپنی جگہ بنا لی ہے۔

حال میں راہل گاندھی نے مغربی بنگال کا دورہ کیا جہاں انہوں نے بایاں محاذ کے ساتھ ساتھ حکمراں ترنمول کانگریس پر بھی نشانہ سادھا۔ یہاں بھی انہوں نے مرکزی حکومت کی سخت تنقید کی۔ اسی طرح وزیراعظم نریندر مودی اور ریاست کی وزیراعلی ممتا بنرجی کے دوروزہ دورہ بنگال پر ممتا بنرجی کو کھری کھری سنائی۔ راہل گاندھی اس وقت جتنی محنت کررہے ہیں، اگر یہی محنت انہوں نے گزشتہ عام انتخابات سے ذرا ایک سال قبل کی ہوتی تو آج یقیناً ملک کا منظرنامہ کچھ اور ہی ہوتا۔ نہ ہی بی جے پی کی تاریخی جیت ہوتی اور نہ ہی کانگریس کی تاریخی شکست۔

راہل گاندھی نے دوہزار چار کے انتخابات میں امیٹھی سے شاندار جیت درج کر کے پہلی بار سیاست کے میدان میں قدم رکھا تھا اور پھر دوہزار نو کے لوک سبھا انتخابات میں وہ دوبارہ یہاں سے ممبر پارلیمنٹ منتخب ہوئے۔ اس دس سالہ دور میں جب کہ کانگریس کی زیرقیادت یوپی اے کی مرکز میں حکومت تھی، راہل نے صرف ایک ممبر پارلیمنٹ کا ہی رول ادا کیا۔ اس وقت کے وزیراعظم منموہن سنگھ کے کافی اصرار کے باوجود انہوں نے مرکزی کابینہ میں کوئی سیٹ نہیں لی۔ اس دوران ایک دو امور کو چھوڑ کر انہوں نے پارلیمنٹ میں بھی کچھ زیادہ نہیں بولا۔ کیونکہ اس وقت خود ان ہی کی حکومت تھی۔ ہاں، اس مدت میں انہوں نے پارٹی پر توجہ ضرور دی۔ مگر یہ ان کی بدقسمتی ہی رہی کہ اس دوران نہ تو کانگریس پارٹی مضبوط ہوئی اور نہ ہی یوا کانگریس میں وہ کوئی نئی جان ڈال سکے۔ اب ایک بار پھر وہ پارٹی کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہیں اس میں کامیابی بھی مل رہی ہے۔

تاہم بہتر ہوتا اگر راہل گاندھی نریندر مودی حکومت پر حملہ کرنے کے ساتھ ساتھ ملک کے عوام کو یہ پیغام دینے کی بھی کوشش کرتے کہ کانگریس پارٹی کے پاس ملک اور اس کے عوام کی فلاح وبہبود کے لئے کیا لائحہ عمل ہے اور اس نے اس سلسلہ میں اب کون سی حکمت عملی اختیار کر رکھی ہے۔" سوٹ بوٹ" اور" جھوٹ موٹ" کی سرکار کہنے یا پھر کسی اور قسم کی بیان بازی کرنے سے عوام پر کوئی بہت زیادہ فرق پڑنے والا نہیں ہے۔ کیونکہ زیادہ عرصہ نہیں گزرا ہے، ابھی محض ایک سال قبل کانگریس نے ہی مسلسل دس برسوں تک ملک پر حکومت کی تھی۔ پھر کیا وجہ تھی کہ عوام اس سے اس قدر بدظن ہو گئے کہ اسے اپنی تاریخ کی بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ دس سال کے اس عرصہ میں اس پر سے عوام کا اعتماد اس قدر کیوں اٹھ گیا تھاکہ آج اسے پارلیمنٹ میں حزب اختلاف کا درجہ تک میسر نہیں ہو سکا۔

ری کمنڈیڈ اسٹوریز