اپوزیشن زندہ ہے

Aug 09, 2015 05:31 PM IST | Updated on: Aug 09, 2015 05:31 PM IST

ملكا ارجن كھڑگے، آنند شرما، کماری شیلجہ، بغل میں بیٹا راہل اور پیچھے اپوزیشن کے کئی دیگر لیڈران ، لیکن ان سب کے مرکز میں کھڑی سونیا گاندھی کی تصویر ، گزشتہ دو دنوں سے اپوزیشن کا متبادل بن چکی ہے یہ تصویر ، یہ عام تصویر نہیں ہے ،اس میں تیور ہے، اپوزیشن کا تیور ۔ غصہ سے بھرپور ہے یہ تصویر ۔ ٹریزری بنچ کی نیند اڑا دینے والی  ہے یہ تصویر ۔

اب ذرا فلیش بیک میں جائیں ۔ گزشتہ سال 16 مئی کی شام ، لوک سبھا انتخابات کے نتائج کی شام، مودی کی جیت کی شام، کانگریس کی حالت زار کی شام کیوں نہ ہو؟ اپوزیشن پارٹی کہلانے کی حیثیت بھی نہیں رہی ، پھر چار جون کو لوک سبھا کا منظر ۔ 44 ممبران پارلیمنٹ کے ساتھ ایک کونے میں سمٹا کانگریس کا چھوٹا گرو پ ۔ بحث اس پر کہ لوک سبھا میں کانگریس کے لیڈر کو اپوزیشن لیڈر کا درجہ دیا جائے یا نہیں ۔  خیر كھڑگے کو لیڈر مان لیا گیا ۔

جون ہو یا دسمبر کا سرمائی اجلاس، لوک سبھا میں این ڈی اے کی واضح اکثریت کے آگے اپوزیشن کی دھار گویا کند پڑ گئی۔ اس پر بحث بھی ہوتی رہی ، دانشور اس بات پر متفکر بھی نظر آئے کہ جمہوریت کے لحاظ سے اپوزیشن کا خاتمہ ٹھیک نہیں ہے ، تعمیری مخالفت کے بغیر ایوان چلے یہ ٹھیک نہیں ہے ، لینڈ بل پر مخالفت نظر بھی آئی ، لیکن حالت مضحکہ خیز ہو گئی ۔ ایک دن پہلے راشٹر پتی بھون تک کانگریس کے ساتھ مارچ کرنے والی پارٹیاں رات گزرنے کے ساتھ ہی بی جے پی کے ساتھ ہو گئیں، اور كھڑگے میں وہ جارحیت اور انداز بھی نہیں کہ کسی کا دھیان مبذول کرا سکیں ۔ ایسے میں کانگریس کے لئے ایک ہی امید کی کرن  تھی ۔ سونیا گاندھی ۔

سونیا گاندھی بالکل ہی الگ اوتار میں لوٹی ہیں ۔ للت گیٹ معاملے میں سشما کے خلاف بھلے ثبوت نہ ہوں پر اخلاقی بنیاد پر سونیا کی پارٹی نے انہیں گھیر لیا ہے ۔ مانسون اجلاس میں لوک سبھا کی کارروائی ایک دن بھی آسانی سے نہیں چلی، یہ الگ بحث ہو سکتی ہے کہ ایسا کرنا مناسب ہے یا نہیں ، پھر بی جے پی پر بھی سوال اٹھ سکتے ہیں ۔ یو پی اے -2 کی مدت کے آخری تین پارلیمانی اجلاس بی جے پی کی مخالفت کی نذرہو گئے تھے ۔

لیکن اس بحث کو الگ رکھ کر کانگریس خوش ہے ، پیغام عوام میں بھی گیا ہے ، میڈیا اپوزیشن کے تیور کو جگہ بھی دے رہی ہے ، مئی 2014 کی فکر بے جا ثابت ہو رہی ہے ، اچانک لگنے لگا ہے کہ اپوزیشن زندہ ہے ، ہو سکتا ہے اس سے مودی حکومت کو کوئی فرق نہ پڑے ، مگر یہ بھی سچ ہے کہ سشما کے استعفی کے مطالبہ پر اپوزیشن متحد نہیں ہے ، لالو سے لے کر ممتا تک اس حق میں نہیں ہیں، لیکن اچھی خبر یہ ہے کہ کانگریس تل کا تاڑ بنانا سیکھ لیا ہے ۔ آزادی کے بعد مسلسل اقتدار میں رہنے کا طعنہ اپوزیشن خیمے میں جانے کے بعد بھی دیا جاتا رہا ہے ، الزام لگتے رہے ہیں کہ کانگریس اپوزیشن میں بیٹھنا قبول ہی نہیں کر سکتی ، وہ اقتدار کی پارٹی ہے ، اپوزیشن مطلب 80 کی دہائی کے بعد سے اٹل حکومت بننے تک بی جے پی ہی ہوتا تھا ۔

پر تصویر بدلتی نظر آنے لگی ہے ، کانگریس نے اپوزیشن کے کردار کو سیکھنا شروع کر دیا ہے ، پارلیمنٹ کے اندر بھی اور باہر بھی ۔ لوک سبھا میں تو کل جمع 44 لیڈران ہیں، ان میں سے 25 سسپینڈ ہو چکے ہیں، مطلب  محض 19 ممبران پارلیمنٹ کے سہارے 336 کے اعدادوشمار کو چیلنج دے رہی ہے کانگریس، مگر اس کا چہرہ سونیا گاندھی خود ہی بنی ہوئی ہیں، یہ الگ بات ہے کہ مخالفت تعمیری ہے یا نہیں ۔ اس پر بحث کی گنجائش ضرور ہے ۔

ری کمنڈیڈ اسٹوریز