دو لاشیں ، دو کیمرہ مین ، آنسوؤں کا سمندر اور کئی حل طلب سوالات– News18 Urdu

دو لاشیں ، دو کیمرہ مین ، آنسوؤں کا سمندر اور کئی حل طلب سوالات

Sep 02, 2016 06:42 PM IST | Updated on: Sep 02, 2016 06:42 PM IST

دو تصاویر ہیں، دونوں اڑیسہ کی ہیں ، ایک كالاہانڈي سے تو دوسری بالاسور سے۔ کالا ہانڈی کا مطلب ہی بھکمری ، كالاہانڈي ، بولنگير، کوراپٹ۔ بی بی کے کا علاقہ ، غربت، قحط سالی اور لاچاری کا علاقہ۔

دانا مانجھی کالا ہانڈی کا ہے، مهاپريان اسکیم کے باوجود بیوی کی لاش کندھے پر ڈھو رہا ہے، اسے اسپتال سے لاش کیلئے سواری نہیں ملی۔ دوسری تصویر بالاسور سے آئی، بیوہ خاتون ٹرین سے کچل جاتی ہے، لاش کو پوسٹ مارٹم کے لئے لے جانا ہے، پولیس والے دو کو تیار کرتے ہیں، لاش کو گٹھری بنانے کی کوشش کی جاتی ہے، اس کے لئے ہپ کی ہڈی توڑنا ضروری ہے، پھر ہپ کیا ، کمر کی ہڈی بھی توڑدی جاتی ہے، اس گٹھری بنی لاش کو بانس سے لٹکایا جاتا ہے، پھر سفر شروع ہوتا ہے۔

لاشوں کی دونوں کہانیاں دو الگ الگ کیمروں میں قید ہوتی ہیں ۔ شاید کالا ہانڈی کی وجہ سے دانا مانجھی ہٹ خبر بنتی ہے، سوشل میڈیا پر انسانیت کو کوسا جاتا ہے، بالاسور والی ویڈیو تھوڑا کم شیئر ہوتی ہے، شاید ڈھونے والا اس کا شوہر یا رشتہ دار نہیں ہے، اس وجہ سے جذباتیت کی کمی پائی جاتی ہے، بیوہ تھی، گھر والے بھی کہیں نظر نہیں آئے، بچے تو تھے نہیں۔

لیکن مانجھی کی بیوی کی لاش اور بیوہ کی لاش کیا ایک ہی صورت حال بیان نہیں کرتی؟ خیر کم یا زیادہ، تعزیت اور جذباتیت کا انکشاف ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا آنسوؤں کے سیلاب میں بہنے لگتا ہے۔ مگر کہیں یہ تعزیت نامے لکھے جانے تک ہی تو محدود نہیں رہ گئے ؟ خبرنويس سب سے پہلے پریشان ہوتے ہیں، وجوہات ہیں، ان تک فوٹیج سب سے پہلے پہنچتی ہے اور پھر کی بورڈ پر انگلیاں بھی پہلے چلتی ہیں، پھر خبر وائرل ہو جاتی ہے، تب باقی سب مذمت کرنے میں لگ جاتے ہیں اور پھر ایک سر میں توبہ کی شروعات ہوتی ہے۔

لیکن وہ دونوں کیمرہ مین کون تھے، صحافی ہی ہوں گے۔ ان کی تعزیت کہاں گئی، کندھے پر لاش کے ساتھ چلتا ہوا دانا مانجھی، ساتھ میں سسكتي ہوئی بیٹی ، 60 کلو میٹر کے راستہ میں دانا تھکتا بھی ہے ، لاش نیچے رکھتا بھی ہے، آرام بھی کرتا ہے اور پھر آگے بڑھتا ہے۔ پل پل کیمرے میں قید ہوتا ہے، یہی بیوہ کی لاش کے ساتھ بھی ہوتا ہے، دونوں صحافی کسی کو بلاتے نہیں، کوستے نہیں۔ دانا کے معاملے میں بائٹ لیتے ہیں ، بیوہ کی لاش کو خاموشی سے فلماتے ہیں، پیشہ ورانہ صحافت میں مہارت رکھتا ہے، دفاع میں تو کہیں گے نہ، ان کا کام جو تھا وہ شدت سے کر رہے تھے۔

ہم ادھر سوشل میڈیا پر معاشرے کو کوس رہے تھے، لاش کے آس پاس گزرنے والے کو کوس رہے تھے، کسی نے مدد نہیں کی، یہ سوال پوچھ رہے تھے۔ شاید اس لیے کہ خود سے سوال پوچھنا بھول چکے ہیں، جو ہماری نظر میں مددگار ثابت ہو سکتا تھا ، وہ بھی کسی کام سے بڑھا چلا جا رہا تھا، اس کی کیا غلطی تھی؟ آپ کو لگ رہا ہوگا میں بے رحمی کی سرحد میں داخل کر رہا ہوں، سر اٹھایئے، آپ بھی اسی چوکھٹ کے آس پاس تو نہیں ہیں، لکھنے کے دوران ہی نئی خبر آ گئی ہے۔ دو معصوم بچیاں 11 دن سے گھر میں بند تھیں، بن کھائے پیئے ، جب نکالا گیا ، تو جسم پر چینٹیاں رینگ رہی تھیں، ممی پاپا بند کر کےکسی کام سے چلے گئے تھے۔

ری کمنڈیڈ اسٹوریز