مہنگائی اور عام آدمی

Aug 22, 2015 04:15 PM IST | Updated on: Feb 24, 2016 06:11 PM IST

ان دنوں ملک بھر میں آسمان چھوتی مہنگائی سے لوگ پریشان ہیں۔ دیگر اشیا کی بات تو چھوڑ ہی دیں، عوام کی بنیادی لازمی اشیا اس قدر مہنگی ہو گئی ہیں کہ اب تو ایسا لگ رہا ہے کہ مہنگائی کو کبھی موت آ ہی نہیں سکتی۔ سیاسی پارٹیاں انتخابات میں مہنگائی پر روک لگانے سے متعلق خواہ کتنے ہی دعوے کر لیں، مہنگائی بھلا کیسے رک سکتی ہے۔ عوام بالآخر حکومت کی عنایت کردہ مہنگائی کی مہربانی کے تحت ہی جینے پر مجبور ہوتے ہیں ، انہیں اس سے بچ نکلنے کا کوئی راستہ فی الحال تو نظر نہیں آتا ۔

مہنگائی کی اس افتاد سے کیا عام کیا خاص، ہر کوئی پریشان ہے۔ اگر آپ سبزیوں کے مارکیٹ میں جائیں تو آلو، ٹماٹر اور دیگر سبزیوں کی قیمتیں سن کر آپ حیرت میں پڑ جائیں گے۔ ہر ایک کے ریٹ میں بے تحاشہ اضافہ ہو گیا ہے اور اگر آپ پیاز کی قیمت معلوم کرنا چاہیں تو پیاز آپ کو رلائے بغیر نہیں چھوڑنے والی ہے۔ جی ہاں، یہ وہی پیاز ہے کہ جب اس نے لوگوں کو کچھ زیادہ ہی رلانا شروع کردیا تو حکمراں پارٹی کو اپنی حکومت سے دستبردار بھی ہونا پڑا۔ آج ایک بار پھر بعینہ وہی صورت حال ہے۔ پیاز ایک بار پھر لوگوں کو رلانے لگی ہے۔ لیکن کیا پھر اس سے  حکومت پر کوئی فرق پڑے گا ، نہیں، ایسا نہیں لگتا کیونکہ ابھی انتخابات تو بہت دور ہیں۔ ابھی پیاز کی آسمان چھوتی قیمت سے حکومت پر کوئی فرق تو پڑنے والا نہیں، اسی لئے تو پچھلے کئی دنوں سے دارالحکومت دہلی میں  سبزیوں کی قیمتیں اور خاص طور پر پیاز کی قیمت بڑھتی ہی جا رہی ہے اور اب تک حکومت نے اسے روکنے کے لئے کوئی موثر قدم نہیں اٹھایا ہے۔

پیاز ہندستان میں عام اور متوسط طبقہ کے کھانے کا ایک ہم حصہ ہے اورپیاز کو عام طور پر بیس سے تیس روپئے فی کلو کے حساب سے فروخت کیا جاتا ہے۔ لیکن پیاز کی حالیہ قیمت ستر روپئے سے لے کر اسی اور نوے روپئے تک پہنچ گئی ہے جس سے لوگ بہت زیادہ پریشان ہیں۔ پیاز کی خریداری اب عالم لوگوں کی دسترس سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ حکومت نے برآمدات پر قابو پانے کے لئے کچھ اقدامات تو کئے ہیں لیکن پیاز کی قیمت پر اب بھی کنٹرول نہیں کیا جا سکا ہے۔

اس سے پہلے اکتوبر دوہزار تیرہ میں بھی فی کلو پیاز کی قیمت سو روپئے تک پہنچ گئی تھی جس سے حکمراں کانگریس کو پیاز کی وجہ سے آنسو آ گئے تھے۔ سیاسی پارٹیوں اور بالخصوص حکمراں پارٹیوں کو یہ ضرور سمجھ لینا چاہئے کہ بھلے ہی دنیا بھر میں انتخابات کے لئے پیاز کا موضوع کوئی اہم موضوع نہ رہا ہو لیکن یہاں ہندستان کا معاملہ ذرا مختلف ہے۔ پیاز کی قیمتوں میں اضافہ سے اس سے پہلے بھی انتخابات کا منظرنامہ بدل چکا ہے۔ انیس سو اٹھانوے میں اس وقت کی حکمراں بی جے پی کو دلی کے اسمبلی انتخابات میں زبردست نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ اس وقت پیاز کی قیمتوں میں ہوئے زبردست اضافہ کے لئے حکومت کو ہی ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔

گزشتہ کچھ دنوں سے پیاز کی قیمت ایسے بڑھ رہی ہے جیسے اسٹاک ایکسچینج میں روزانہ اضافہ ہو رہا ہے۔ پیاز سمیت دیگرلازمی اشیا اب عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں اور افسوسناک بات تو یہ ہے کہ حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ مہنگائی اور عام آدمی کا اب جنموں کا رشتہ ہو گیا ہے۔ کم از کم اس جنم میں تو مہنگائی ختم والی نہیں۔ لہذا اب اس پر بہت زیادہ ماتھا پچھی کرنے اور بار بار پریشان ہونے سے بہتر تو یہی ہے کہ آئیے اب اس پر سمجھوتہ ہی کر لیا جائے۔

ری کمنڈیڈ اسٹوریز