پارلیمنٹ کی کارروائی ٹھپ ، ذمہ دار کون؟

Dec 11, 2016 08:50 PM IST | Updated on: Dec 11, 2016 08:57 PM IST

مرکزی حکومت نے گزشتہ آٹھ نومبر کو پانچ سو اور ایک ہزار کے نوٹوں پر پابندی کا فیصلہ آناً فاناً میں تو کر لیا، لیکن اس فیصلہ سے ملک اور اس کے عوام پر کیا سنگین اثرات مرتب ہوں گے، اس کی طرف اس کا دھیان نہیں گیا۔ اس فیصلہ سے قبل حکومت نے کوئی پیشگی تیاری اور متبادل انتظام نہیں کیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے مطابق، آج ملک کے عوام پچاس دن مکمل ہونے کے انتظار میں ہیں لیکن آج تیئس دن پورے ہونے کے باوجود حالات جیسے کے تیسے برقرار ہیں اور ان میں بہتری کی کوئی امید نظر نہیں آ رہی ہے۔ بینکوں اور اے ٹی ایم مشینوں کے باہر عوام کی نہ ختم ہونے والی لمبی لمبی قطاروں کے مدنظر ملک بھر میں افراتفری کی صورت حال ہے۔

نوٹ بندی کے معاملہ پر حکومت اور اپوزیشن دونوں ہی اپنے اپنے موقف پر اٹل ہیں اور پارلیمنٹ کی کارروائی ٹھپ کر رکھی ہے۔ یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے جب پارلیمنٹ میں کام کاج نہیں ہونے دیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل بھی کئی کئی بار پارلیمنٹ کے پورے اجلاس کو چلنے نہیں دیا گیا اور وہ حکومت وقت اور اپوزیشن پارٹیوں کے ہنگامہ کی نذر ہو گیا۔ آج حکومت میں جو لیڈران ہیں اور جو اپوزیشن کو اس کے فرض منصبی کی یاد دلا رہے ہیں ، وہ بھی جب اپوزیشن میں تھے تو مخالفت کا یہی طریقہ وہ بھی اختیار کرتے رہے۔ اسی طرح اپوزیشن کے وہ لیڈران جو اس سے قبل حکومت میں تھے وہ بھی ایوان کی کارروائی ٹھپ ہونے پر وہی زبان اور وہی دلیل استعمال کیا کرتے تھے جو اس وقت حکومت میں بیٹھے لیڈران کر رہے ہیں۔

پارلیمنٹ کی کارروائی ٹھپ ، ذمہ دار کون؟

کسی ملک کے مقام ومرتبہ اور اس کے وقار کا پتہ اس کی پارلیمنٹ سے چلتا ہے۔ پارلیمنٹ میں بحث کے دوران ملک وبیرون ملک کے لاکھوں لوگوں کی نگاہیں اس پر ٹکی رہتی ہیں۔ عوام کے منتخب کردہ نمائندے عوام کے مسائل، قومی سلامتی اور ملک کی ترقی کے لئے پالیسی سازی کے تئیں کس قدر حساس ہوتے ہیں، اس کا اندازہ پارلیمنٹ میں بحث کے دوران ہوتا ہے۔ لیکن جب پارلیمنٹ میں کسی مسئلہ پر بحث ہی نہ ہونے پائے، پارلیمنٹ کی پوری کارروائی ہنگامہ کی نذر ہو جائے تو اس سے نہ صرف یہ کہ پارلیمنٹ سیشن کے دوران ہونے والے لاکھوں کروڑوں روپئے کا ضیاع ہوتا ہے بلکہ اس سے ارکان پارلیمنٹ پر سے عوام کا اعتماد بھی ختم ہوتا جاتا ہے۔ اپوزیشن کا کام ہوتا ہے کہ وہ حکومت کی خامیوں پر نظر رکھے اور اس کی نشاندہی کرے، اس کے اچھے کاموں کی ستائش کرے۔ جبکہ حکومت کا کام یہ ہے کہ وہ خوش اسلوبی سے پارلیمنٹ کی کارروائی چلائے، اپنی ذمہ داری کا احساس کرے، کسی مسئلہ پر حزب اختلاف سے ٹکراو مول لینے کی بجائے باہمی گفت وشنید سے مسئلہ کا حل تلاش کرے، اپوزیشن کے ہر ایک مطالبہ کو سنجیدگی سے لے، اسے اپنی انا کا مسئلہ نہ بنائے۔

پارلیمنٹ کے اجلاس کا استعمال مثبت اور نتیجہ خیز بحث کے لئے ہوناچاہئے۔ قوانین بنانے کے لئے ہونا چاہئے۔ لیکن دیکھنے میں آیا ہے کہ گزشتہ چند برسوں سے پارلیمنٹ کی کارروائی ٹھپ کرنے ہی میں گزار دی جاتی ہے۔ ایک وقت تھا جب اپوزیشن کسی مسئلہ پر بحث کرانے کے لئے ضد کرتا تھا اور حکومت کو اس پر راضی کرنے کے لئے اپنے موقف پر بضد رہتا تھا۔ اس کے لئے وہ پارلیمنٹ کی کارروائی چلنے نہیں دیتا تھا۔ اس کا مقصد ہوتا تھا کہ میڈیا میں اس کی مخالفت کو جگہ ملے، اسکے ذریعہ وہ اپنی بات کو عوام تک پہنچا سکے اور اسے اس مقصد میں کامیابی بھی مل جاتی تھی۔

لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ پارلیمنٹ میں بحث کے تئیں جیسے ارکان پارلیمنٹ کی کوئی دلچسپی ہی نہیں رہی۔ یہی صورت حال پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی ہے۔ ارکان پارلیمنٹ کا کام ہے کہ وہ عوام کی پریشانیوں کو پارلیمنٹ میں اٹھائیں، لیکن ایسا لگ رہا ہے کہ ان کی دلچسپی اس میں نہیں ہے۔ ارکان پارلیمنٹ کی عدم دلچسپی کا مظاہرہ گزشتہ جمعہ کو اس وقت بھی دیکھنے کو ملا جب راجیہ سبھا میں کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے ایوان کی کارروائی دن بھر کے لئے ملتوی کرنا پڑی۔

اپوزیشن کا مطالبہ ہے کہ نوٹ بندی کے مد نظر اب تک سو سے زائد اموات ہوئی ہیں اور ملک بھر کے لوگ جس اذیت ناک پریشانی میں مبتلا ہیں، وزیر اعظم کی موجودگی میں اس معاملہ پر ایوان میں بحث کرائی جائے۔ وزیر اعظم اپوزیشن کی بحث کو سنیں اور پھر حکومت کی طرف سے اس کا جواب دیں۔ اپوزیشن کی دلیل ہے کہ چونکہ نوٹ بندی کا اعلان وزیر اعظم نے کیا ہے اور انہیں کے اس ایک فیصلہ کا عتاب ملک بھر کے عوام جھیل رہے ہیں، اس لئے وہی خود اس کا جواب دیں۔ لیکن نوٹ بندی کے اعلان کے بعد وزیر اعظم جاپان چلے گئے۔ وہاں سے واپسی کے کچھ دنوں بعد پارلیمنٹ میں تو آئے لیکن ایوان میں خاموش بیٹھ کر واپس چلے گئے۔

حیرت کی بات تو یہ ہے کہ وزیر اعظم ایک طرف تو ملک بھر میں نوٹ بندی کو لے کر خطاب کر رہے ہیں، اس کی وجوہات بیان کرتے ہیں، نت نئے قوانین بدلتے ہیں، لیکن پارلیمنٹ میں اپنی بات کہنے سے کتراتے ہیں۔ حد تو اس وقت ہو گئی جب گزشتہ روز گجرات میں وزیر اعظم نے اپنی تقریر میں یہاں تک کہہ دیا کہ اپوزیشن انہیں پارلیمنٹ میں بولنے ہی نہیں دے رہا ہے، اس لئے عوامی جلسوں میں وہ اس پر بول رہے ہیں۔ وزیر اعظم کا یہ بیان کس قدر افسوسناک اور مضحکہ خیز ہے، اسے ہر کوئی سمجھ سکتا ہے۔ میرے خیال میں ملک کے عوام نے ایسا وزیر اعظم کبھی نہیں دیکھا ہو گا جو پارلیمنٹ کے باہر تو خوب بڑی بڑی باتیں کرتا ہو لیکن پارلیمنٹ میں بولنے سے گریز کرتا ہو۔

اب پارلیمنٹ کے اجلاس کے گنے چنے دن ہی رہ گئے ہیں۔ اب بھی اگر حکومت نے آگے بڑھ کر پہل نہیں کی اور اپوزیشن کو اعتماد میں لینے کا حوصلہ نہیں دکھایا تو کوئی کام کاج ہوئے بغیر پارلیمنٹ مکمل طور پر واش آوٹ ہو جائے گا اور ظاہر ہے کہ اس کا نقصان حکومت اور عوام دونوں کو ہی اٹھانا پڑے گا۔

 

 

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز