سیاست میں اخلاقی پستی کا عدیم المثال مظاہرہ

Aug 07, 2017 11:11 PM IST | Updated on: Aug 07, 2017 11:11 PM IST

ایک زمانہ تھا جب ہندوستان میں اقدار مرکوز سیاست کا رواج تھا۔ قدروں اور اصولوں کا بول بالا تھا۔ صاف ستھری سیاست کو پسند کیا جاتا تھا اور ذاتی مفادات کو ان قدروں پر قربان کر دیا جاتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ عوام میں سیاست دانوں کو احترام کی نظروں سے دیکھا جاتا تھا اور ان سے یہ توقع کی جاتی تھی کہ وہ بے اصولی سیاست کو ہاتھ نہیں لگائیں گے اور عوام کو ان پر جو اعتماد اور بھروسہ ہے اسے ٹوٹنے نہیں دیں گے۔ وہ سیاست دانوں کی کوئی اور نسل تھی۔ اس نے جنگ آزادی کا دور دیکھا تھا اور آزادی ملنے کے بعد ہندوستان کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانے کا خواب دیکھا تھا۔ ان کے اس خواب میں سچائی کا رنگ تھا اور ان میں ایمانداری و دیانتداری کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ ۱۹۵۶ کے اس واقعہ کی مثال اب بھی پیش کی جاتی ہے جب ایک ریل حادثہ کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اس وقت کے وزیر ریل لال بہادر شاستری نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ لیکن وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ ہندوستانی سیاست نے اپنی صورت بدلی، اپنا چولہ بدلا، اپنا کردار بدلا اور اپنے اہداف بھی بدل دیے۔ رفتہ رفتہ اخلاقیات اور سیاسی ایمانداری کو عہد رفتہ کی کوئی چیز تصور کرتے ہوئے خیرباد کہہ دیا گیا۔ پھر تو مفاد پرستی ہی سیاست کا مرکز و محور ٹھہری۔ اقتدار کے لیے کردار کو قربان کر دینا عام بات ہو گئی۔ کرسی کی خاطر اصولوں کا جنازہ نکالنا ایک ہنر بن گیا۔

آج کی سیاست میں قدروں اور اصولوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ ایماندار شخص کی دستار اچھلتی ہے اور بد اطوار کے سر پر کامیابی کا تاج رکھا جاتا ہے۔ سیاسی جوڑ توڑ میں ماہر شخص کو سب سے بڑا سیاست داں سمجھا جاتا ہے۔ دھوکہ دہی میں ید طولیٰ رکھنے والا ہی چانکیہ مانا جاتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ آج سے پہلے سیاسی موقع پرستی کی مثالیں نہیں تھیں۔ لیکن آج جس طرح بے حیائی و بے غیرتی کے ساتھ وفاداریاں تبدیل کی جا رہی ہیں اور جس طرح دولت و طاقت کے بل بوتے پر اور سرکاری مشینری کا استعمال کرکے وفاداریاں خریدی اور بیچی جا رہی ہیں کم از کم اتنی پستی تو پہلے نہیں آئی تھی۔ اگر چہ وہ واقعہ اب بھی لوگوں کے ذہنوں میں ہوگا جب ہریانہ کے جنتا پارٹی کے وزیر اعلی بھجن لال نے ۱۹۸۰ میں تمام ۴۰ ممبران اسمبلی کے ساتھ دل بدلی کی تھی اور پوری پارٹی ہی کو کانگریس میں ضم کرکے اپنی حکومت بچا لی تھی۔ اس کے بعد بھجن لال کو دل بدلووں کا بادشاہ کہا جانے لگا تھا۔ اسی طرح ۱۹۹۳ میں اس وقت کے وزیر اعظم نرسمہا راؤ نے عدم اعتماد کی تحریک کے دوران جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے ممبران پارلیمنٹ کو حوالہ کے پیسے سے خرید کر اپنی حکومت گرنے سے بچائی تھی۔ لیکن اس قسم کے واقعات شاذ ونادر ہوتے تھے۔ سیاست میں انھیں باوقار اور مسلمہ مقام حاصل نہیں تھا۔ لیکن آج جبکہ سیاست دانوں کا کردار بدل گیا ہے تو عوامی مزاج بھی تبدیل ہو گیا ہے۔ اب اگر کوئی بے اصولی سیاست کا سہارا لے کر اپنی وفاداری تبدیل کرتا ہے تو نہ تو کسی سیاست داں کو برا لگتا ہے اور نہ ہی عوام کو۔ کوئی اکا دکا لیڈر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کر دے تو وہ الگ بات ہے۔ مجموعی طور پر اب یہی کامیاب سیاست داں کی خوبی بن گئی ہے کہ وہ کس طرح دوسری پارٹیوں کے لوگوں کو توڑ کر اپنا حلقہ وسیع کرتا ہے اور اپنے مفادات کی حفاظت کرتا ہے۔

سیاست میں اخلاقی پستی کا عدیم المثال مظاہرہ

پارلیمنٹ: فائل فوٹو

آج اس نوعیت کی سیاست کو رواج دینے کا سہرا بلا شبہ وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی صدر امت شاہ کے سر جاتا ہے۔ نریندر مودی نے ۲۰۱۴ کے پارلیمانی انتخابات کے دوران ’کانگریس مکت‘ بھارت کا نعرہ دیا تھا۔ امت شاہ نے اسے دو قدم آگے بڑھا کر ’اپوزیشن مکت‘ بھارت کے نعرے میں تبدیل کر دیا ہے۔ ان دونوں رہنماؤں کی اقتدار کی بھوک اور پورے ملک پر کیسریا پرچم لہرانے کی خواہش نے اپوزیشن کو اپنا وجود بچائے رکھنے کی جدوجہد کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ دونوں اس مہم میں مصروف ہیں کہ کس طرح ملک کی تمام ریاستوں میں اپنی حکومت قائم کی جائے اور ہندوستان کے نقشے کو بھگوا رنگ میں رنگ دیا جائے۔ ان کو اس بات کا احساس ہے کہ ابھی حالات ان کے حق میں ہیں، ہوا ان کے موافق ہے۔ لہٰذا کشتی اقتدار کو ساحل تک پہنچا کر دم لیا جائے۔ گزشتہ دنوں جب پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو شاندار کامیابی حاصل ہوئی تو اس کے حوصلوں کو مزید پر لگ گئے۔ اس نے ان ریاستوں میں بھی اپنی حکومت قائم کرنے کی ٹھان لی جن میں اسے اکثریت تو نہیں ملی اور معلق اسمبلی وجود میں آئی تھی۔ لہٰذا بی جے پی کے منیجروں نے آستینیں چڑھا لیں اور بالآخر گوا اور منی پور میں بھی چھوٹی پارٹی ہونے کے باوجود اپنی حکومت بنا لی۔ اس مہم میں بی جے پی لیڈروں کے تیور اس قدر جارحانہ تھے کہ دونوں ریاستوں میں بڑی پارٹی ہونے کے باوجود کانگریس حوصلہ ہار گئی اور ساحل پر کھڑے ہو کر اپنی حکومتوں کے غرقاب ہونے کا تماشہ دیکھتی رہی۔ ان کامیابیوں سے قطع نظر بی جے پی کو ایک ایسی شکست بھی ملی تھی جو تیر نیم کش کی مانند اس کے دل و جگر میں خلش پیدا کرتی رہی۔ بالآخر اس تیر نیم کش کو نکالنے کا بھی وقت آگیا اور بہار نے بی جے پی کے خیمے میں بہار کا موسم لا دیا۔ حالانکہ ابھی بیس ماہ قبل ہی عظیم اتحاد کے ہاتھوں بی جے پی کی کشتی غرقاب ہوئی تھی۔ لیکن اس کے باوجود اس نے حوصلہ نہیں ہارا۔ اس نے اسی سیاست داں کو اپنا آلہ کار بناکر جس کے ہاتھوں شکست کھائی تھی، اپنے اقتدار کی سیج سجا لی۔ ہندوستانی سیاست کے بھی عجیب رنگ ہیں۔ مخالفین کے دامن پر اگر بدعنوانیوں اور جرائم کے داغ ہیں تو وہ برے ہیں لیکن اگر اپنے حامیوں کے دامن داغدار ہیں تو وہ معیوب نہیں ہیں، وہ داغ اچھے ہیں۔ عظیم اتحاد کو توڑنے کے لیے تیجسوی یادو کی مبینہ بدعنوانیوں کا سہارا لیا گیا۔ لیکن یہ رنگ بھی دیکھیے کہ نتیش کابینہ کے ۷۶ فیصد وزرا کے خلاف جرائم کے مقدمات ہونے کے باوجود وہ سب دودھ کے دھلے ہیں، ان کی سیاست انتہائی شفاف ہے اور وہ سب بے حد پاکباز ہیں۔ لوگوں کو خریدنے کا سلسلہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ذرا اتر پردیش میں آئیے اور دیکھیے کہ کس طرح ملائم سنگھ کے قصیدے پڑھنے والوں نے راتوں رات اپنا چولہ بدلا ہے اور سماجوادی انگوچھا اتار کر بھگوا بانا پہن لیا ہے۔ یو پی میں تو ابھی شروعات ہے۔ ابھی وہاں زیادہ توڑ پھوڑ کی ضرورت نہیں ہے۔ اس لیے آگے چل کر اصل کھیل کھیلا جائے گا۔ راجیہ سبھا کے انتخابات کو بھی نظروں کے سامنے رکھیے۔ گجرات میں کانگریس کے ۶ ممبران اسمبلی کو توڑ لیا گیا۔ ان میں سے تین بی جے پی میں شامل ہو چکے ہیں اور ایک کو راجیہ سبھا کا امیدوار بنا دیا گیا ہے۔ کانگریس کا الزام ہے کہ اس کے ممبران کو پندرہ پندرہ کروڑ روپے کی پیشکش کی گئی ہے۔ لہٰذا اس نے ایک مرغی کی طرح اپنے چوزوں کو پروں میں چھپایا اور انھیں بنگلور کے قریب ایک ریسورٹ میں پہنچا دیا۔ لیکن شکاری وہاںتک جا دھمکے۔ ای ڈی کو ان کے پیچھے لگا دیا گیا اور ریسورٹ کے مالک کے یہاں جو کہ کرناٹک حکومت میں ایک وزیر ہیں، چھاپے ڈال دیے گئے۔ اس تمام مہم جوئی کا مقصد سونیا گاندھی کے سکریٹری احمد پٹیل کو راجیہ سبھا میں پہنچنے سے روکنا ہے۔ اگر احمد پٹیل راجیہ سبھا میں پہنچنے میں ناکام رہتے ہیں تو در اصل یہ سونیا گاندھی پر بہت بڑی چوٹ ہوگی۔ بی جے پی نے بظاہر احمد پٹیل کو نشانہ بنایا ہے لیکن اس کا نشانہ حقیقتاً سونیا گاندھی ہیں۔ ادھر گجرات میں سیلاب زدہ علاقوں کے دورے پر گئے راہل گاندھی کی کار پر حملہ کروایا گیا۔ راہل اگر کسی جگہ نہیں جاتے ہیں تو ان پر الزام لگایا جاتا ہے کہ انھیں عوام کے مسائل سے دلچسپی نہیں اور اگر جاتے ہیں تو انھیں ٹورسٹ اور فوٹو کھنچوانے والا کہا جاتا ہے۔ حکمراں جماعت نے اپوزیشن کو کسی نہ کسی مسئلے میں الجھائے رکھنے کی ایک حکمت عملی بنائی ہے تاکہ وہ اپنے سیاسی وجود کی لڑائی میں مصروف رہے، حکومت کی ناکامیوں کو سڑکوں تک لے جانے کی اسے فرصت ہی نہ ملے۔ ورنہ آج اتنے ایشوز ہیں کہ اگر اپوزیشن چاہے تو حکومت کو ناکوں چنے چبوا سکتا ہے۔ لیکن بی جے پی کے کارپرداز یہ نہیں چاہتے۔ اسی لیے وہ ہر قسم کا حربہ اختیار کر کے اپوزیشن کو کمزور کرنے میں مصروف ہیں۔ آخر ہندوستان کو اپوزیشن مکت بنانا ہے تو اسے الجھائے رکھنا ہوگا۔ خواہ سیاست میں اخلاقی پستی کا ریکارڈ ہی کیوں نہ بن جائے۔ بہر حال اگر ہندوستان اپوزیشن مکت ہو جاتا ہے تو اس کی ذمہ داری کسی نہ کسی طور اپوزیشن پر بھی عاید ہوگی۔

نوٹ : مضمون نگار ایک معروف صحافی اور سیاسی تجزیہ کار ہیں۔

sanjumdelhi@gmail.com

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز