​ملت کی تعمیری ترقی ، طریقہ کار کیا ہو؟

Apr 19, 2017 11:20 PM IST | Updated on: Apr 19, 2017 11:20 PM IST

ملت اسلامیہ اب اپنی بقاء کے لیے آخری جنگ لڑ رہی ہے۔یوں توملت کا سواد اعظم مکمل طور پر لٹ چکا ہے۔لیکن اب بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو اس خام خیالی میں مبتلا ہیں کہ ’’حالات بدل جائیں گے‘‘،حالانکہ جس امت کے اندر صاحب علم کی ناقدری عام ہو چکی ہو،جہلا کی محفل میں علماء شرکت کرنے لگے ہوں ۔کم فہم اپنے آپ کو عقل کُل کا مالک سمجھنے لگا ہو،جہاں گھروں کے ڈرائنگ روم میں کتابوں کی جگہ ضروریات زندگی کے سامان نے لے لی ہو ایسی امت کی تعمیری ترقی کے راستے سوائے وحدہ لاشریک لہ کے کوئی اور سنوار نہیں سکتا۔

لیکن جس امت سے ہم وابستہ ہیں وہاں مایوسی کفر کے زمرے میں شمار ہوتی ہے لہذا ملت کی تعمیری ترقی کے ضمن میں سوچنا عین کار ثواب ہے۔ ایک طویل مدت کے بعد پھر شرک اپنے عروج پر ہے۔ہر جگہ مشرکین کا طوطی بول رہا ہے۔ وہ اس خام خیالی میں مبتلا ہیں کہ شیطان رجیم کامیاب ہو چکا ہے ۔حالانکہ انہیںاسی کے ساتھ تاریخ کے واقعات نے بھی پریشان کئے رکھا ہے کہ کہیں توحید کے علمبردار دوبارہ سر بلند نہ ہوجائیں۔یہی وجہ ہے کہ وہ نت نئے ہتھکنڈوں کا استعمال کر رہے ہیں اور امت مسلمہ کا رہا سہا دم خم نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔لہذا ایسی صورت میںتعمیری ترقی میں جن امور پر توجہ دینے کی خاص ضرورت ہے وہ یہ کہ ہم دنیا کو دار الاسباب سمجھیں اور عبادات کے ساتھ ساتھ معاملات پر بھی اپنی توجہ مرکوز کریں۔

​ملت کی تعمیری ترقی ، طریقہ کار کیا ہو؟

مدارس و مکاتب کے ساتھ مساجد میں عبادات پر جتنی گفتگو ہوتی ہے اگر ایک تہائی گفتگو معاملات پر بھی مرکوز کی جائے تو حالات میں یقیناً بہتری دیکھنے کو ملے گی۔اسی طرح ہم اپنے تعلیمی نظام میں انتظامی طور پر بھی ایسی تبدیلیاں لائیں جو کسی اندھے بہرے کو کسی ادارے کا سربراہ بنانے سے بازرکھ سکے۔عموماً دیکھا جا رہا ہے کہ نااہلوں کےہاتھوں تعلیمی نظام کی سربراہی دے دی جا رہی ہے اور وہ اس کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔ جس کے نتیجہ میں نئی نسل بہتر نتائج سے ہمکنار نہیں ہو رہی ہے۔

روایتی کے ساتھ تکنیکی تعلیم کی کمی نے مختلف فنون میں ہمیں پیچھے کر رکھا ہے لہذا جو دنیا ہمارے لیے بنائی گئی تھی ہم اس سے کنارہ کشی اختیار کئے ہوئے ہیں ۔تکنیکی تعلیم کی طرف نہ تو ہمارے احباب توجہ دے رہے ہیں نہ ہی اجتماعی طور پر اس سلسلےمیں کوئی کام ہو رہا ہےجبکہ موجودہ دور میں تکنیکی انقلاب نے بھی امت کو چاروں خانے چت کردیا ہے۔

اس وقت امت مسلمہ اجتماعی کاموں کے بالمقابل انفرادی کاموں پر زیادہ توجہ دے رہی ہے جبکہ اسلام دشمن عناصر اجتماعی طور پر ہر ہر میدان میںاسلام کے خلاف صف بستہ ہیں ۔لہذا امت کے اندر جب تک اجتماعی اقدام کا جذبہ پروان نہیں چڑھے گا اس وقت تک نہ تو وہ معیشت و تجارت میں کوئی کارنامہ انجام دے سکیں گے اور نہ ہی دنیا کے دوسرے معاملات میں بہتر کر سکیں گے۔لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر ہر کام میں ہم اجتماعی نظام کو فروغ دیں اور اجتماعی کاموں کی حوصلہ افزائی کریں۔

حدیث کے مفہوم کی روشنی میں یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ اگراسلام اجنبیت کے عالم میں پروان چڑھا ہے اوروہ اجنبیت کے عالم میں پہنچ جائے گاتو فی الحال ہم اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں لہذا ان امور پر ہم خاص توجہ دیں جس سے کہ ہم اس بشارت کا حقدار بن سکیں کہ ’’ان لوگوں کے لیے بشارت ہے جو میری سنتوں کا احیاء کریں گے‘‘۔لہذا احیائے سنت سے متعلق ایسے بے شمار کام ہیں جسے فوری طور پر کرنے کی ضرورت ہے۔

سماجی و معاشرتی طور پر برہمنی نظام کا عفریت ہندوستانی امت میں رچا بسا ہوا ہے ۔ہمارے صلحاء و علماء بھی سماجی بندھنوں کے ایسے شکارہیں کہ وہ برہمنی بندشوں سے خود کو آزاد نہیں کر اسکے ہیں یہی وجہ ہے کہ سماجی رابطے کی کڑی دن بہ دن ٹوٹتی جا رہی ہے۔اور یہی وجہ ہے کہ ہم مسلکوں کے ساتھ علاقائی ،خاندانی نظاموں میں اس حد تک جکڑتے جارہے ہیں کہ ہماری آنکھیں اپنے ہی لوگوں کی صلاحیتوں سے استفادہ کرنے سے قاصر نظر آرہی ہیں۔

ہمارے یہاں فروعی کاموں پر جس انہماک کے ساتھ توجہ دی جا رہی ہے اصولی کاموں سے اسی طرح پہلو تہی اختیار کیا جارہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جب معاملات و حالات بگڑتے ہیں تو ہم اندازہ کرنے میں ناکام رہتے ہیں کہ فوری طور پر کیا کیا جانا چاہئے اور مستقل کن چیزوں پر کاربند رہنا چاہئے۔لہذا عموماً وقتی کام ہی مستقلاً میں شمار ہونے لگتا ہے اور پائیدار کاموں کی طرف توجہ نہیں دی جاتی۔

’’دور کے ڈھول سہاون‘‘کی طرح ہم بھی اپنے درمیان میں موجود چیزوں کی قدر نہیں کر پاتے لیکن جب وہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجائے یا اپنی موت آپ مر جائے تو پھر نوحہ خوانی کرتے نظر آتے ہیں۔اس وقت جبکہ شیطان نے افواہوں کا بازار گرم کرنے،پروپگنڈہ ٹول کے ذریعہ اسلام کی شبیہ مسخ کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہےہم اپنے اداروں کے ذریعہ اس کا جواب دینے کی بجائے اس ماتم میں گرفتار ہیں کہ ہمارے پاس وہ قوت نہیں کہ ہم باطل کا مقابلہ کرسکیںلہذا جہاں ہم انفرادی طور پر احساس کمتری میں مبتلا ہیں وہیں اجتماعی طور پر بھی امت کو ڈیمولرائز کر رہے ہیں۔

لہذا ہونا تو یہ چاہئے کہ ہم ہر ہر معاملہ میں مثبت کردادر ادا کریں اور اجتماعی طور پر ٹھوس پلاننگ کریں۔لیکن المیہ یہ ہے کہ ہم اپنے اجتماعی ادروں کو بھی نشانہ بنانے میں نہیں چوک رہے ہیں یا وہ لوگ جو ہمارے اجتماعی اداروں پر گندی نگاہیں ڈال رہے ہیں ہم ان کی گندی نگاہوں پر بند لگانے میں بھی ناکام ثابت ہو رہے ہیں۔جب تک ہم اپنے معاملات میں اجتماعی پہلو کا سہا را نہیں لیں گے ملت کی مثبت تعمیری ترقی کی راہیں ویسے ہی مسدود رہیں گی جیسی ابھی تک دکھائی دے رہی ہیں ۔کاش کہ ہم ہوش کے ناخن لیں۔

نوٹ : مضمون نگار ممبئی میں مقیم صحافی ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز