اترپردیش میں نئے اتحاد کی آہٹ

Oct 31, 2016 10:04 AM IST | Updated on: Oct 31, 2016 10:04 AM IST

اس وقت سب کی نگاہیں اتر پردیش پر لگی ہوئی ہیں۔ سیاست دانوں کی بھی، صحافیوں کی بھی اور عوام کی بھی۔ آئندہ سال کے اوائل میں وہاں ملکی سیاست کے نقطہ نظر سے انتہائی اہم اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ لیکن اس سے عین قبل ریاست کی حکمراں جماعت سماجوادی پارٹی سرپھٹول کے دور سے گزر رہی ہے۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ تقسیم ہو جائے گی۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ایک گروپ کی قیادت سماجوادی پارٹی کے بانی ملائم سنگھ یادو یا شیوپال یادو کریں گے اور دوسرے گروپ کی قیادت وزیر اعلی اکھلیش سنگھ کے ہاتھوں میں جائے گی۔ ایک بوڑھی قیادت ہے تو دوسری جواں سال ہے۔ ملائم کا ستارہ اب مائل بہ غروب ہے جبکہ اکھلیش کا ستارہ فی الحال چمک رہا ہے۔ کم از کم یہ تو کہا ہی جا سکتا ہے کہ الیکشن تک چمکتا رہے گا۔ دس پندرہ دنوں میں پارٹی کے اندر جو اٹھا پٹخ ہوئی ہے اور جو گروپ بندی عمل میں آئی ہے اس نے بھی پارٹی کو بوڑھی اور جوان قیادت میں تقسیم کیا ہے۔ جوان خون اکھلیش کے ارد گرد جمع ہو رہا ہے اور معمر افراد ملائم اور شیو پال کے حلقے میں دکھائی دے رہے ہیں۔ پارٹی میں شیو پال کو پہلے بھی اچھی نظروں سے نہیں دیکھا جا رہا تھا اور اب بھی ایک بہت بڑا طبقہ انھیں پسند نہیں کرتا۔ باہر کے لوگ بھی ان کو بہت زیادہ پسند نہیں کرتے۔ حکومت کے کام کاج میں بھی وہ روڑے اٹکاتے رہے ہیں جس کا اشارہ وزیر اعلی بار بار دے چکے ہیں۔ موجودہ خاندانی رسہ کشی میں اکھلیش کے تیور دیکھنے لائق ہیں۔ انھوں نے اس دوران اپنے عمل سے یہ جتانے کی کوشش کی کہ وہ بوڑھی قیادت کے آگے جھکنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ممکن ہے کہ ان کے اس تیور کو پروفیسر رام گوپال یادو ہوا دیتے رہے ہوں۔ یا کوئی اور طاقت ہو جو کھیل کھیل رہی ہو۔ لیکن کچھ بھی ہو وہ اب بھی اپنے موقف پر اٹل ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ اپنے سیاسی مستقبل کی خاطر اپنے والد کو بھی چھوڑنے کے لیے تیار ہیں۔ حالانکہ ابھی چند روز قبل یش بھارتی ایوار کی تقسیم کے تعلق سے لکھنؤ میں جو تقریب منعقد ہوئی تھی اس میں انھوں نے ملائم کا نام بار بار لیا لیکن کل ان کے ٹویٹر ہینڈل پر جو ویڈیو ڈالا گیا ہے اس میں ملائم کاکہیں دور دور تک ذکر نہیں ہے۔ اس میں وہ صبح کے ناشتے اور دن بھر کے کام کاج کے بعد شام کو اپنے بچوں کے ساتھ کرکٹ کھیلتے نظر آرہے ہیں اور آخر میں یہ جملہ سنائی دیتا ہے کہ اتر پردیش میرا پریوار ہے۔ لیکن اس پریوار میں گھر کے مکھیا کا کہیں دیدار نہیں ہوتا۔ اکھلیش ان کی بیوی اور ان کے بچے ہی دکھائی دیتے ہیں۔ اگر اس میں کوئی پیغام پنہاں ہے تو یہی ہے کہ اکھلیش نے اب تن تنہا چلنے کا من بنا لیا ہے۔ ان کے اس تیور کے پس پردہ کون سی حکمت عملی ہے ابھی اس کا اشارہ نہیں مل رہا ہے۔ ممکن ہے کہ اندرون خانہ کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی سے ان کی کوئی ڈیل ہوئی ہو جیسا کہ کانگریس کے ذرائع اشارہ دے رہے ہیں۔ لیکن ابھی شکل و صورت واضح نہیں ہے۔ لیکن اسی بیچ ایک ایسی خبر آئی ہے جو اکھلیش کو خوش کرنے کے لیے کافی ہے۔ خبر کے مطابق اس دوران اکھلیش کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ یادو برادری میں بھی اور مسلمانوں میں بھی۔ جبکہ ملائم اور شیو پال کی مقبولیت میں کمی واقع ہوئی ہے۔ خاص طور پر نوجوانوں کا طبقہ اکھلیش میں ایک قائد کے رنگ و روپ دیکھ رہا ہے۔ اور یوں بھی اب ملائم وغیرہ کا زمانہ لد گیا۔ اب نیا خون ہی جو کرے گا سو کرے گا۔

ان واقعات کے درمیان اتر پردیش میں بہار جیسا مہا گٹھ بندھن یا عظیم اتحاد بنانے کی آوازیں بھی اٹھنے لگی ہیں۔ اس تعلق سے شیوپال کی سرگرمیاں سرخی بنی ہیں۔ اجیت سنگھ اور کے سی تیاگی سے ان کی ملاقات اور کچھ دنوں قبل سونیا گاندھی سے شرد یادو کی ملاقات نے قیاس آرائیوں کو جنم دے دیا ہے۔ حالانکہ بہار الیکشن کے وقت وہ ملائم سنگھ ہی تھے جنھوں نے مہا گٹھ بندھن سے خود کو الگ کر لیا تھا اور ان کی کوشش اس کو ناکام بنانے کی تھی۔ لیکن اب انہی کا گروپ اتر پردیش میں وہی کہانی دوہرانے کی کوشش میں مصروف ہے۔ شیوپال اور کے سی تیاگی کی ملاقات کے دوران پرکاش کشور کی موجودگی نے قیاس آرائیوں کا ایک نیا دروازہ کھولا ہے۔ اس سے یہ مطلب نکالا جا رہا ہے کہ کانگریس بھی اس مہا گٹھ بندھن کے لیے سنجیدہ ہے اور اس میں شامل ہونے کے لیے تیار ہے۔ بہار میں تو وہ گٹھ بندھن میں شامل ہی تھی۔ اجیت سنگھ سے بھی شیو پال نے ملاقات کی ہے اور تمام لوہیا وادیوں، چرن سنگھ وادیوں اور گاندھی وادیوں کو ایک پرچم تلے آنے کی آواز لگائی ہے۔ لیکن قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس کوشش میں اکھلیش شامل نہیں ہیں۔ ممکن ہے کہ اندر ہی اندر ان کی بات چیت چل رہی ہو لیکن ابھی اس محاذ کے تعلق سے ان کی طرف سے کوئی اشارہ موصول نہیں ہوا ہے۔ یعنی ابھی تک کی صورت حال کے مطابق اس عظیم محاذ میں وہ شامل نہیں ہیں۔ یو پی میں بہار جیسا محاذ تشکیل پا جائے گا یا نہیں اس کے بارے میں ابھی یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ لیکن اگر بہ فرض محال یہ مان لیا جائے کہ محاذ بن جاتا ہے تو بھی اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ یو پی میں بہار کی تاریخ اپنے آپ کو دوہرائے گی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ بہار میں دو بڑی جماعتیں آر جے ڈی اور جنتا دل یو نے اتحاد کیا تھا۔ یو پی بی جے پی مخالف دو بڑی جماعتیں سماجوادی اور بی ایس پی ہیں۔ بی ایس پی اس محاذ میں شامل ہونے کے لیے تیار نہیں ہوگی۔ وہ اگر کسی سے اتحاد کرے گی بھی تو مجلس اتحاد المسلمین سے۔ ادھر ایک جماعت پیس پارٹی بھی ہے۔ وہ بھی شائد محاذ میں شامل نہ ہو۔ اس نے اپنے اشتہاروں کے ذریعے بہت پہلے ہی پارٹی صدر ڈاکٹر محمد ایوب کو ریاست کا وزیر اعلی اعلان کر رکھا ہے۔ ڈاکٹر ایوب کی جو سیاست ہے اس میں محاذ سازی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ان کی اپنی سیاست ہے جو بہت سے لوگوں کے نزدیک مشکوک ہے۔ عوام کا ایک طبقہ ان کے ڈانڈے بی جے پی سے ملاتا ہے اور یہ الزام عائد کرتا ہے کہ انھوں نے اس سے اندرون خانہ ساز باز کر رکھی ہے۔ اس الزام میں کتنی صداقت ہے ہمیں نہیں معلوم۔ لیکن اب تک کی ان کی سیاست سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ وہ کسی محاذ میں یقین نہیں رکھتے۔ اس طرح اگر دیکھا جائے یو پی میں چہار رخی مقابلہ ہو گا۔ جس سے یقینی طور پر غیر بی جے پی ووٹوں میں تقسیم ہوگی۔ پیس پارٹی بھی کم از کم کچھ مسلم ووٹ تو حاصل کرے گی اور اسے جتنا زیادہ مسلم ووٹ ملے گا بی جے پی کو اتنا ہی فائدہ ہوگا۔ لیکن بہر حال اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اگر سماجوادی، کانگریس، آر ایل ڈی اور دوسری پارٹیاں ایک محاذ بنا لیتی ہیں تو وہ بی جے پی کو کچھ نہ کچھ ٹکر تو ضرور دے دیں گی۔ ہاں اگر یہ ناممکن بات ممکن ہو جائے کہ تمام غیر بی جے پی پارٹیاں ایک چھتری کے نیچے آجائیں تو ان کی طاقت میں بہت زیادہ اضافہ ہو جائے گا اور بی جے پی کو شکست فاش سے دوچار کرنا انتہائی آسان ہو جائے گا۔ لیکن یہ کام اتنا ہی مشکل ہے جتنا مشکل مینڈک تولنا ہے۔ ہاں اگر کوئی سیاسی معجزہ ہو جائے تو وہ بات الگ ہے۔ جہاں تک بی جے پی کا تعلق ہے تو وہ فی الحال سماجوادی پارٹی میں جاری سر پھٹول کا مزا لے رہی ہے۔ ایکادھ بیان ایسا آیا ہے کہ کہ اکھلیش اپنی اکثریت کھو چکے ہیں انھیں ایوان اپنی اکثریت ثابت کرنی چاہیے۔ لیکن مجموعی طور پر وہ خاموشی سے تماشہ دیکھ رہی ہے اور اسے دیکھنا بھی چاہیے۔ کیونکہ بہر حال اس کے دشمن آپس میں ہی لڑ رہے ہیں اور اگر اکھلیش اکیلے چلتے ہیں تو اس سے بھی بی جے پی کا ہی فائدہ ہوگا۔ بی جے پی کو یہ یقین ہے کہ یو پی میں اسے اتنی نشستیں مل جائیں گی کہ وہ حکومت بنا لے۔ ممکن ہے کہ اس میں کچھ کمی رہ جائے۔ اسی لیے اس کی جانب سے جذباتی ایشوز کو بھی ہوا دی جا رہی ہے تاکہ اگر پاسنگ کی ضرورت پڑے تو ادھر سے لے لیا جائے۔ اجودھیا میں رام مندر کی تعمیر یا رامائن میوزیم کی تعمیر کا معاملہ ہو یا رام سرکٹ بنانے کی بات ہو یا پھر یکساں سول کوڈ اور تین طلاقوں کا معاملہ ہو، بی جے پی نے جان بوجھ کر ان ایشوز کو اچھالا ہے تاکہ جو تھوڑی بہت کمی بیشی ہو وہ ادھر سے پوری کر لی جائے۔ بہر حال ابھی انتخابات کا اعلان نہیں ہوا ہے۔ اس کے اعلان کے ساتھ ہی کچھ اور بھی سرگرمیاں شروع ہو جائیں گی جو مزید نئے نئے امکانات کے دروازے وا کریں گی۔ دیکھیے اس بحر کی تہہ سے اچھلتا ہے کیا، گنبد نیلوفری رنگ بدلتا ہے کیا۔

اترپردیش میں نئے اتحاد کی آہٹ

نوٹ : مضمون نگار ایک معروف صحافی اور تجزیہ کار ہیں۔

sanjumdelhi@gmail.com

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز