اجیت کے ساتھ کون سا حساب بٹھانا چاہتے ہیں ملائم؟

Jun 01, 2016 04:45 PM IST | Updated on: Jun 01, 2016 04:45 PM IST

گزشتہ اتوار کو دوپہر کے قریب اچانک یوپی کی سیاسی زمین پر ایک نیا رنگ اڑا۔ قدآور لیڈر ملائم سے ملنے آر ایل ڈی کے اجیت سنگھ پہنچے۔ ملائم۔ اجیت کی یہ میل ملاقات ظاہری طور پر بھلے ہی رسمی نظر آتی ہو لیکن اس کے سیاسی معانی بہت زیادہ ہیں۔ سوال اٹھتا ہے کہ یوپی انتخابات کے لئے کمر کستے ملائم کو اجیت سے ملنے کی ضرورت کیوں پڑی؟ کیا وہ بی ایس پی کی ممکنہ سبقت کی کاٹ ڈھونڈ رہے ہیں یا اجیت کو بی جے پی کے پالے میں جانے سے پہلے ہی لپک لینا چاہتے ہیں؟

دراصل یوپی الیکشن جیتنے کے لئے بڑی جماعتوں کا چھوٹی پارٹیوں کو اپنے ساتھ لانا ایک سیاسی مجبوری ہے۔ ایسا نہ کرنے پر وہ جیتیں گے، اس کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔ حال میں بہار اور آسام کے انتخابات یہ بتا رہے ہیں کہ انتخابات سے پہلے یہ رجحان کارگر ثابت ہو سکتا ہے۔ بہار میں نتیش نے اپنے دو دہائیوں پرانے حریف لالو سے ہاتھ ملا کر بی جے پی کو چاروں خانے چت کر دیا وہیں بی جے پی نے آسام گن پریشد سے ہاتھ ملا کر آسام میں کانگریسی قلعہ کو مسمار کر دیا۔

اجیت کے ساتھ کون سا حساب بٹھانا چاہتے ہیں ملائم؟

اب یوپی کی باری ہے۔ یوپی میں كم وبیش بہار جیسا ہی سیاسی حساب کتاب ہے۔ لیکن کچھ چیزیں پتھر کی لکیر کی طرح صاف نظر آتی ہیں۔ وہ یہ کہ ایس پی اور بی ایس پی کبھی ساتھ نہیں آ سکتیں۔ ساتھ ہی اس بات کے بھی کوئی آثار نہیں ہیں کہ کانگریس ایس پی کے ساتھ کوئی سمجھوتہ کر لے۔ ایسا نہ ہونا ایس پی کے لئے انتہائی مصیبت بھرا ثابت ہو سکتا ہے۔ ایک تو حکومت مخالف لہراور دوسرا مسلم ووٹوں کا غیر مستحکم ہونا ایس پی سربراہ کو پریشان کر رہا ہے۔

اجیت کو ساتھ لا کر ملائم ایک نیا حساب بٹھانا چاہتے ہیں۔ وہ دراصل یادو۔ مسلم-جاٹ کا ایک اتحاد قائم کرنا چاہتے ہیں۔ ایسا کرتے ہوئے ملائم اپنے سے چھٹكتے ان مسلم ووٹروں کو یہ اعتماد بھی دلا سکتے ہیں کہ ان کے جیتنے کے آثار ہیں۔ یہاں بتاتے چلیں کہ اجیت یوپی میں واحد مضبوط جاٹ لیڈر ہیں اور جاٹ بیلٹ میں ان کا اچھا خاصا اثر ہے۔ یہ بات الگ ہے کہ گزشتہ لوک سبھا انتخابات میں نہ تو ان کا بیٹا متھرا سے اور نہ ہی وہ باغپت سے الیکشن جیت سکے۔

ووٹوں کے لحاظ سے مغربی پردیش کو جاٹ بیلٹ کہا جاتا ہے۔ اس میں متھرا، علی گڑھ، میرٹھ اور مظفرنگر آتے ہیں۔ جانکار ملائم کا یہ قدم بہت نپا تلا مان رہے ہیں۔ وجہ صاف ہے کہ ہریانہ کیس کی وجہ سے جاٹ بی جے پی سے بے حد خفا ہیں۔ ملائم دراصل اسی ناراضگی اور اجیت کی دوستی کو آگے چل کر سیٹوں میں تبدیل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ بتاتے چلیں کہ گزشتہ لوک سبھا انتخابات میں جاٹوں نے بی جے پی کو بھرپور حمایت دی تھی۔ لیکن اس بار حالات بدلے ہوئے ہیں۔ جاٹ برادری ہریانہ ریزرویشن کیس کو لے کر بی جے پی سے خفا نظر آ رہی ہے۔ دوسرا یہ کہ جاٹ یوپی حکومت میں اپنی حصہ داری چاہتے ہیں۔

اس درمیان یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ اس پوری بحث کا مرکزی نقطہ بنے اجیت سنگھ کو اس گٹھ جوڑ سے کیا ملنے والا ہے۔ ذرائع کے مطابق اجیت دراصل بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرنا چاہتے تھے لیکن وہاں ان کی دال نہیں گلی۔ بی جے پی کا ایک بڑا طبقہ ان سے اتحاد کے خلاف تھا۔ گزشتہ بار ان کے ساتھ گٹھ جوڑ کر خسارے میں رہی بی جے پی نے ان کے سامنے ایسی شرط رکھی جسے وہ قبول کرنے کو تیار نہیں تھے۔ دراصل بی جے پی چاہتی تھی کہ وہ اپنی پارٹی کو بی جے پی میں ضم کر دیں اور بدلے میں ایک راجیہ سبھا سیٹ اور مرکز میں وزیر کا عہدہ لے لیں۔ اجیت سنگھ کو یہ قبول نہیں تھا۔ لہذا وہ کوشش پروان نہیں چڑھ سکی۔

اسی درمیان ایس پی کے قدآور لیڈر شیوپال سنگھ ان سے ملنے ان کے گھر پہنچے۔ یہیں سے ایس پی کے ساتھ ان کے اتحاد کی بحثیں زور پکڑنے لگیں۔ اس کے بعد جب وہ ملائم سے ملنے پہنچے تو یہ طے ہو گیا کہ یہ دوستی انتخابات والی ہے۔ اس درمیان ایس پی کے رام گوپال کا بیان آیا جسے جانکار آر ایل ڈی پر دباؤ بنانے کی حکمت عملی کا ایک حصہ مان رہے ہیں۔ رام گوپال نے کہا تھا کہ اپنا اعتماد کھو چکے لوگوں سے ہاتھ ملانا ایس پی کے لئے سمجھداری بھرا نہیں ہوگا۔

ماہرین کی نظر میں اجیت سنگھ اپنی حالیہ صورت حال کو دیکھتے ہوئے بڑی پارٹیوں کے ساتھ زیادہ بڑی سودے بازی کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں لیکن وہ یہ پوری کوشش کریں گے کہ جیتنے کی پوزیشن میں ان کا بیٹا وزیر بنے اور ان کی پارٹی کی اسمبلی میں اچھی نشستیں آئیں تاکہ وہ انتخابات کے بعد جیتنے کی پوزیشن میں ایس پی پر زیادہ وزارتی عہدوں کے لئے دباو بنا سکیں۔ لیکن یہ دوستی ہوگی اور ہوگی تو کیا ٹکی رہے گی، ان سوالوں کے جواب ابھی مستقبل میں پتہ چلیں گے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز