یوپی کی اس سڑک پر خود اکھلیش اور ملائم کریں گےاستقبال ، کبھی تشریف تو لائیے

Apr 21, 2016 09:00 PM IST | Updated on: Apr 26, 2016 08:23 PM IST

سرخی دیکھ کر آپ کو ضرور لگا ہوگا کہ ایسا ہو ہی نہیں سکتا، میں بھی کہتا ہوں کہ ایسا ہو ہی نہیں سکتا ، لیکن دوستوں یہ 'پوسٹر والا سچ ہے۔ یہ سچ ہے یوپی میں ایٹہ-گنج ڈنڈوارا کی اس 29 کلومیٹر طویل سڑک کا، یوپی کی ترقی کا، اکھلیش کے ادھورے دعووں کا۔ دراصل کچھ دن پہلے میرا کسی کام کے سلسلے میں گنج ڈنڈوارا (جو نہیں جانتے ان کی معلومات کے لئے بتا دوں این ایچ دو ہائی وے پر کانپور کی طرف جاتے وقت ٹنڈلا آتا ہے۔ ٹنڈلا سے ایٹہ کی طرف راستہ جاتا ہے، یہاں سے ایک راستہ گنج ڈنڈوارا کی طرف جاتا ہے) جانا ہوا، میرے جاننے والوں نے پہلے ہی بتا دیا تھا راستہ خراب ہے۔ میں نے سوچا، تھوڑا بہت ہوگا ، لیکن جیسے جیسے میں اس سڑک پر آگے بڑھتا گیا ، میری حیرت اتنا ہی زیادہ اضافہ ہوتا گیا ۔

گزشتہ اتوار کو دن میں تقریبا 11 بجے میں اس سڑک سے گزرا۔ دیکھتا ہوں کہ سڑک گڑھوں میں گم ہوتی جا رہی ہے۔ جیسے جیسے میں آگے بڑھا، سڑک پوری طرح ٹوٹی ہوئی اور گڑھوں سے بھری نظر آنے لگی۔ ہچکولوں کے درمیان مجھے اکھلیش کا مسکراتا چہرہ، سماجوادیوں کی ٹوپی، لال بتی لگی ان کی گاڑی اور ٹی وی پر آج کل ان کے ترقی کے دعوے رہ رہ کر یاد آنے لگے۔

یوپی کی اس سڑک پر خود اکھلیش اور ملائم کریں گےاستقبال ، کبھی تشریف تو لائیے

IMG_20160410_111009

جوں جوں میں آگے بڑھتا جاتا، میری حیرت بھی بڑھتی جاتی ۔ اس لئے نہیں کہ مجھے اکھلیش سے کوئی ذاتی عداوت ہے ، بلکہ اس وجہ سے بہت سارے یوپی والوں کی طرح میں بھی ان سے ترقی کی امید کرتا ہوں، مگر یہ کیا، وہی ڈھاک کے تین پات۔

IMG_20160410_111722

پورے اترپردیش میں سماجوادی پرچم نظر آتے ہیں ، لیکن ترقی کے سفر میں اب بھی یہ کافی پیچھے ہے۔ قومی سطح پر یوپی کی بحث یہاں ہو رہے جرائم اور اعظم خان کی بیان بازیوں کی وجہ سے زیادہ ہوتی رہی ہے نہ کہ یہاں کی ترقی کی وجہ سے۔ تو پھر کیوں یہ نعرہ لگ رہا ہے کہ اكھلیش سركارپھرایک بار ... ایسا کیا کر دیا بھیا آپ نے۔

IMG_111524

یہ علاقہ سماجوادیوں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ ایٹہ - کاس گنج دونوں میں مجموعی طور پر 7 سیٹیں ہیں، جن میں 7 میں سے 6 پر ایس پی قابض ہے ۔ اور تو اور ایس پی حکومت کے دمدار وزیر شیو پال سنگھ کے پاس ایٹہ ضلع کی ترقی کی بھی ذمہ داری ہے۔ جب سماج وادی اپنے علاقے میں ہی ترقی نہیں کر سکتے ، تو پھر وہ دوسری جگہ کس طرح ترقی کریں گے۔ امید تھی کہ اکھلیش کے آنے کے بعد حالات بہتر ہوں گے ، لیکن ہوئے نہیں ۔

IMG_20160410_135041

بی جے پی والے بھی اس علاقہ کی بدحالی کے الزام سے اپنا پلہ نہیں جھاڑ سکتے۔ یہاں سے کلیان سنگھ کے بیٹے راجویر سنگھ ممبر پارلیمنٹ ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ ترقی تو چھوڑیئے ، ان کا تو دیدار ہی نایاب هے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ راستے سے گزرتے وقت وہاں سے گزرتے لوگوں کے بے بس چہرے نظر آئے۔ وہیں میں نے یہ بھی دیکھا کہ گڑھوں کے ہچکولوں سے خراب ہوئی ایک موٹر سائیکل کو دو لڑکے بڑی مایوسی کے ساتھ آگے کھینچے لے جا رہے تھے۔ ان سے بھی ایک بار پوچھا جائے کہ کیا انہیں ترقی ملی۔

IMG_20160410_111800

جب میں کچھ اور آگے بڑھا ، تو دیکھتا ہوں کہ خود 'اکھلیش میرے استقبال کے لئے تیار ہیں۔ ہاں بالکل، وہ نہ سہی ، ان کا بورڈ تو لگا ہی ہوا تھا .... خوش آمدید .... اب بتائیے کہ اکھلیش نے گڑھوں بھری سڑک سے گزرنے میں ہوئی تکلیف پر لوگوں سے چٹکی لینے کے لئے یہ بورڈ لگوا رکھے ہیںکیا۔ جب آپ سڑک جیسی بنیادی چیز بھی لوگوں کو فراہم نہیں کراسکتے ، تو پھر دوبارہ آنے کا دم کس منہ سے بھرتے ہیں ۔

دلچسپ بات یہ کہ اس کے بعد خود نیتا جی کا بورڈ نظر آیا ۔ پھر وہی بات ، خوش آمدید۔ کتنا عجیب ہے لوگ اتنی تکلیف دہ صورتحال میں سفر کرتے ہیں اور ہمارے لیڈر وہاں اپنے پارٹی ورکروں سے بورڈ لگواکر خوش ہوتے رہتے ہیں۔

IMG_20160410_112801

جو نہیں جانتے ہیں ، ان کی معلومات کے لئے بتا دوں کہ اس سڑک کا یہ حال گزشتہ ایک دہائی سے ہے۔ تو جو ان سے پہلے آئے ، انہوں نے بھی کچھ خاص نہیں کیا۔ بس عجیب یہ ہے کہ جو بیٹھے ہیں ، وہ بھی ویسے ہی ہیں۔

یہاں کے لوگ کتنے بدقسمت ہیں کہ ان کے لیڈران کے بورڈ ہر 8-10 کلومیٹر پر نظر آ جاتے ہیں، مگر نظر نہیں آتی ہے ، تو صرف ترقی ، جس کا وعدہ نیتا جی نے کیا تھا 5 سال پہلے۔ اس سڑک پر قدرت کے نظارے دیکھ کر آپ حیران هوجائیں گے ، لیکن ترقی دیکھ کر آپ رو پڑیں گے۔

IMG_20160410_134334

جاتے جاتے اس ٹوٹکے کی بھی بات کر لیتے ہیں ، جو ملائم سے جڑا ہے۔ یہاں یہ کہا جاتا ہے کہ جب جب ملائم سنگھ ایٹہ سے اپنے انتخابی مشن کا آغاز کرتے ہیں وہ اقتدار میں آتے ہیں ۔ جب بھی انہوں نے ایٹہ سے شروع نہیں کیا، وہ اقتدار سے کوسوں دور رہ گئے ۔ معلوم نہیں ٹوٹکے والی یہ بات کتنی دمدار ہے ، لیکن اتنا تو طے ہے کہ ترقی کا ٹوٹکا یہاں ضرور نہیں پہنچا ہے۔

نوٹ : بلاگر آئی بی این خبر ڈاٹ کام کے ایڈیٹر ہیں۔ 

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز