بنا ہے شہہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا!۔

Nov 23, 2016 05:28 PM IST | Updated on: Nov 23, 2016 05:34 PM IST

بنا ہے شہہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا!۔

فائل فوٹو

سبرامنیم سوامی مہاراشٹر میں ساورکر لیکچر سیریز میں ایک بار پھر اسلام کے خلاف زہر افشانی کرتے پائے گئے ۔وہ ایک وفادار اور سدھائے ہوئے سگِ اقتدار کی طرح  مودی حکومت کو  نوٹ بندی کے حالیہ  بلنڈر سے بچانے کی کوشش میں ملک کے عوام کو نوٹ بندی بنام ووٹ بندی کی طرف جاتا دیکھ کر بوکھلا گئے ہیں ۔عوام کو پھر سے ہندوتوا ۔رام مندر ۔مسلم دہشت گردی الا بلا کی طرف  ہانکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ اپنے ایک پرانے مضمون کی شدومد سے ترویج میں لگے ہیں جس میں انہوں نے  اسلامی دہشت گردی سے نمٹنے کے طریقے سجھائے ہیں۔ مختلف تجزیہ کار اس بات پر متفق ہیں کہ  اگرسبرامنیم سوامی  نے یہ کہا ہوتا کہ دہشت گردی کے خلاف تمام ہندوستانیوں کو متحد ہوکر لڑنا ہوگا تو بات سمجھ میں آتی  لیکن وہ دہشت گردی کے نام پر مسلمانوں کے خلاف ہندوؤں کو متحد کرنا چاہتے ہیں اور اس طرح ملک میں ہندو مسلم فساد کرانے کے درپے ہیں۔ اس سے ایک طرف وہ مسلمانوں کو دہشت گرد بنا کر پیش کرتے ہیں اور دوسری طرف ہندو دہشت  گردی کی پشت پناہی کرتے ہیں ۔ انہوں نے دارالحرب اور دارالامن کی بحث چھیڑ کر بھی مسلمانوں کے خلاف ماحول سازی کی کوشش کی تھی اور ایک وراٹ یا برہن ہندوستان کی وکالت کی  ۔ یعنی آر ایس ایس ہندوستان کو ہندو راشٹر بنانے کی جو مہم چلارہا ہے ، اس آگ میں گھی ڈالنے کا کام ان کو ہی ملا ہے۔

سبرامنیم سوامی ہندوؤں کو جو مشورہ دے رہے ہیں یا جس نام نہاد اسلامی دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے جو تجاویز پیش کررہے ہیں ذرا ان پر غور کیجئے ۔ان کے مطابق مسلمانوں سے اس وقت تک ووٹ دینے کا حق چھین لیا جائے جب تک کہ وہ ہندوستان کو ہندو راشٹر اور اپنے آبا وجد اد کو ہندو تسلیم نہیں کرتے، یونیفارم سول کوڈ لاگو کیا جائے،سنسکرت کی تعلیم اور وندے ماترم گانا لازمی قرار دیا جائے، ہندوستان کو ہندو راشٹرڈکلیر  کیا جائے، ہندوؤں کی تبدیلی مذہب کو غیر قانونی قرار دیا جائے، بنگلہ دیش سے جتنے ’’درانداز‘‘ یہاں آکر وہ رہے ہیں اتنے تناسب میں بنگلہ دیش کی زمین چھین لی جائے اور مدرسوں،مسجدوں اور چرچوں میں ہندوؤں کے خلاف جو تعلیم دی جاتی ہے اسکے جواب میں ہندو ذہینت پیدا کی جائے۔ کشمیر سے متعلق دفعہ 370ختم کردی جائے اور صرف ہندوؤں کے لیے پنن کشمیر بنایا جائے ، جوابی کارروائی کے طور پر گیا ن واپی مسجد سمیت تین سو مسجدوں کو منہدم کردیا جائے ، انہوں نے زور دے کر کہا ہے کہ اگر اس حکمت عملی کو اپنایا جائے تو ہم پانچ سال کے اندر دہشت گردی کے مسئلے پر قابو پاسکتے ہیں ۔ اس حوالے سے انہوں نے یہودیوں کی مثال دی ہے اور ان سے سبق سیکھنے کی تلقین کی ہےاور  شومئی قسمت ان کے ما سٹر ، اسرائیلی صدر ریوین ریو لین بھارت میں ہیں  اور سبرامنیم کی یہ لغویات اسی مشترکہ بیان کی توسیع ہیں جو مودی اور ریولین نے ملاقات کے بعد دیا تھا ۔اسرائیلی صدر نے مودی کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کو سراہا اور دہشتگردی کے خلاف متحد ہو کر ٹھوس اقدامات کی ضرورت پر اتفاق کیا اور یہ بات تو ملک میں کم ہی لوگ جانتے ہوں گے کہ واجپئی جی کی قیادت والی این ڈی اے سرکار میں وزیر داخلہ لال کرشن اڈوانی جی ہی بھارت کی وہ پہلی مہان آتما ہیں جنہوں نے دہشت گردی سے لڑنے کے لئے اسرائیل کو ملک کا استاد  مقرر کیا تھا اور 2001 میں پہلا  ہند ۔ اسرائیل معاہدہ کر کے موساد اور آئی بی کی مشترکہ ٹریننگ شروع کروائی تھی اور غور سے دیکھیں تو تب سے ہی بے قصور مسلم نوجوانوں کی  بے دریغ گرفتاری، پے در پے دہشت گردانہ واقعات میں اضافہ اور  مسلمانوں کےفرضی انکاونٹرز کی جھڑی  بھی لگی ہے۔

 اسرائیلی صدر کا دورہ ہندوستان اور اس حکومت کے ساتھ سیاسی و سفارتی تعلقات کو پچیس سال ہونے پر جشن کی تقریب کا منعقد کیا جانا،یہ سب بھارت کی خارجہ پالیسی اور فلسطین کی حمایت کی سابقہ پالیسیوں کا کھلا مذاق ہے۔مودی جی کو اسرائیل میں اگلے سال منعقد کی جانے والی تقریبات میں شرکت کی دعوت صدر نے دے دی ہے جسے قبول کرلیا گیا ہے  اور تو اور کچھ اور بڑی ہستیاں  جنہوں نے اپنی کتاب میں بابری مسجد کی شہادت کا ٹھیکرا نرسمہا راو کے سر پھوڑا تھا حال ہی میں یہ بھی قبول لیا کہ 1992 میں ان کی ہی کوششوں سے یہ ہزار سالہ تعلقات تجدید نو کے درد زہ سے گزر کر تولد ہوئےاور انکو  اس پر فخربھی ہے۔ لیکن میں تو یہ کہتی ہوں اس  اونٹ دہن سے کہ اپنے داماد سے پوچھے کہ دہشت گرد یا دہشت گردی، یہ لفظ سب سے پہلے کہاں استعمال ہوا؟ کیا اس لفظ کے ایجاد کی وجہ مسلمان بنے؟یقینا نہیں ۔ کیونکہ 1790ء میں فرانسیسی انقلاب کے دوران 1793ء اور 1794ء کو دہشت کا سال قرار دیا گیا تو دنیا میں پہلی بار دہشت گردی کا لفظ فرانسیسیوں نے استعمال کیا تھا اور وہاں کے سب سے معروف انگریزی روزنامہ ـ ٹائمز نے پہلی بار اپنے اخبار میں اس اصطلاح کا  استعمال کیا تھا۔ جبکہ نامی گرامی آکسفورڈ ڈکشنری میں لفظ ٹیررزم کے یہ معنی درج ہیں۔’  سیاسی مقاصد کے حصول یا کسی حکومت کو کسی کام پر مجبور کرنے کے لئے پُر تشدد افعال کے استعمال کو ٹیررزم کہا جاتا ہے۔ــ‘ یہ الگ بات ہےکہ اس اصطلاح کو بھی آج تک قبول عام حاصل نہیں ہو سکا اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اس لفظ کی کوئی متفق علیہ تعریف متعین کرنے کےلئے 170 گھنٹے سے  زیادہ بحث کئے جانے کے بعد بھی گذشتہ 130سال میں اس لفظ کی متفقہ تعریف  طے نہیں کی جا سکی۔

خیر فرانسیسی انقلاب کے ان سالوں میں میکس ملن راسپیری نے 5 لاکھ سے زائد افراد کو گرفتار کیا، جن میں سے چالیس ہزار کو قتل کیا گیا اور دو لاکھ سے زائد کو بھوکا رکھ کر مارا گیا تھا اس لئے ان سالوں کو دہشت کے سال قرار دیا گیا۔ یہ صرف ایک واقعہ نہیں ہے، اس جیسے مزید کئی واقعات ہیں جن کی طرف نہ تو ہمارا میڈیا دیکھتا ہے نہ ہی کسی کی توجہ جانے دی جاتی ہے۔ بھارت کا  میڈیا مسلمانوں کے حق میں سنگھیوں کا بیان کہ سارے مسلمان دہشت گرد نہیں لیکن سارے دہشت گرد مسلمان ہیں، دکھاتا پھرتا ہے۔ یہ جملہ بھی  کسی چھوٹے موٹے سنگھی نے نہیں بلکہ خود اڈوانی جی نے ہی 2001میں اسرائیل کے سفر سے واپسی کے بعد ارشاد فرمایا تھا۔ تو آئیےذراتاریخ کے ان واقعات کی طرف دیکھتے ہیں کہ اصل دہشت گرد کون ہیں۔   16جولائی 1946 کو کنگ ڈیوڈ ہوٹل میں کاروائی کی گئی جس میں 91 افراد قتل ہوئے جس میں 28 برطانوی، 41 عرب، 17 یہودی اور 5 دوسرے افراد شامل تھے۔ یہ حملہ  مناخم بگین کی سربراہی میں ہوا تھا جسے بعد میں برطانیہ کا دہشت گرد نمبر ون کہا گیا، بعد میں اسی دہشت گرد نمبر ایک کو امن کا نوبل انعام ملا اور یہی دہشت گرد نمبر ایک اسرائیل کا  وزیرِ اعظم بھی بنا۔ ہٹلر نے 60 لاکھ یہودیوں کو قتل کیا، فلسطینی مسلمانوں نے ان کو پناہ دی جس کا صلہ یہ ملا کہ یہودیوں نے فلسطینیوں کو ان کی اپنی سر زمین سے نکال باہر کیا اور اب جب وہی فلسطینی اپنا ہی گھر واپس مانگتے ہیں تو وہ دہشت گرد اور شدت پسند  قرار دئے جاتے ہیں۔

israel president

آج مسلمانوں پر خود کش حملوں کا  الزام  آتا ہے جبکہ سری لنکا کے تامل ٹائگرز نے  سب سے پہلے اس کا رواج عام کیا اور انہوں نے چھوٹے بچوں کو خود کش حملوں کے لئے استعمال کرنا شروع کیا تھا۔  1948 میں ناتھو رام گوڈسے نے بابائے قوم  مہاتما گاندھی کو گولی مار دی ۔آج اسکی پوجا  ہورہی ہے۔ اسکے نام کا مندر بن رہا ہے ۔ 1984 میں بھارتی سکیورٹی فورسز نے سکھوں کے گولڈن ٹیمپل میں کاروائی کی جس میں 100 سے زائد افراد کو قتل کیا گیا جس کے نتیجے میں بھارتی وزیرِ اعظم اندرا گاندھی کا قتل ہوا، یہاں ایک طرف ہندو تھے اور ایک طرف سکھ، بھارت میں سکھوں کی تنظیم  بھنڈراںوالہ ان کاروائیوں میں مشہور ہے۔ یُو ایل ایف اے  یعنی اُلفانامی تنظیم اتنی مشہور ہے کہ اس نے 1990ء سے 2006ء تک کامیابی سے 700   سے زائد حملے کئے اور ابھی حال ہی میں وہ پھر سے سرگرم ہو گئے ہیں جبکہ ہماری موجودہ حکومت  ان کو رام کرنے کے  دعوے اور وعدے کر کے آسام میں اقتدار میں آئی ہے  اور ایک بڑا جھانسہ بنگلہ دیشی مسلمانوں کو آسام سے باہر کر دیں گے کا بھی دے رکھا ہے۔ ہٹلر، ساٹھ لاکھ یہودیوں کا قاتل، وہ ایک عیسائی تھا، جوذف سٹالن نے 2 کروڑ افراد کو قتل کیا جن میں سے ڈیڑھ کروڑ کو بھوکا رکھ کر مارا مسلمان نہیں تھا، چینی مائو زے تنگ نے ڈیڑھ سے دو کروڑ افراد کا قتل کیا وہ بھی مسلمان نہیں تھا، اٹلی کے مسولینی نےچار لاکھ افراد کو قتل کیا، فرانسیسی انقلاب کے دوران دو لاکھ افراد کو قتل کیا گیا ، اشوکا،  نے ایک لاکھ بدھسٹوں کو قتل کیا وہ مسلمان نہیں تھا۔روس کو افغانستا ن سے باہر کرنے کے نام پر برطانیہ اور امریکی  افغانستا ن میں گھسے اور اسامہ کے نام پر لاکھوں افراد کو افغانستان میں قتل کیا گیا اور اب تک یہ سلسلہ جاری ہے، لیبیا، مصر، عراق میں کتنے بے گناہ افراد کا قتل کیا گیا۔ایک مفروضے کے تحت صدام حسین کے نام پرعراق میں مسلمانوں  کا قتل عام کیا گیا  پچھلے 6 سال سے نام نہاد  وار آن ٹیررازم  کے نام پر سیریا جنگ کا میدان بنا ہوا ہے  اور دیکھتے ہی دیکھتے 20لاکھ سے زائد مسلمانوں کو  امریکی ، اسرائیلی ، روسی، جرمنی اور فرانسیسی فوجوں نے داعش سے لڑنے کے مفروضے کے نام پر قتل کر دیا اور کارپیٹ بمباری جاری ہے ۔ اسکولوں اور ہسپتالوں کو چن چن کو اس بمباری کا نشانہ بنایا جاتا ہے

 تو  ۔۔۔۔ظل الہی  ۔۔۔ذرا کچھ لکھئے پڑھئے  اور دیکھئے کون ہے  اصل ٹیررسٹ ؟  اور اپنے مسلم داماد کی اندھی دشمنی میں دنیا بھر کے مسلمانوں  پر الزام تراشی سے باز آئیے۔

تسنیم کوثر حالات حاضرہ پر گہری نظر رکھنے والی ایک معروف کالم نویس ہیں۔

نوٹ: یہ مضمون نگار کی اپنی رائے ہے، اس سے پردیش 18 اردو کا اتفاق ضروری نہیں۔

ری کمنڈیڈ اسٹوریز