یوپی میں سیکولرجماعتوں کومتحد ہونے کی ضرورت

Jan 01, 2017 06:59 PM IST | Updated on: Jan 01, 2017 06:59 PM IST

سالِ نوکے شانداراستقبال کے لیے پوری دنیامیں رنگارنگی پروگرام شروع ہوچکے ہیں ،حکومتیں اورشہری اپنے مستقبل کے لائح عمل تیارکرنے اور آئندہ دنوں میں بہتری کے لیے پرعزم ہیں۔گزشتہ سال 8 نومبرکی شام میں ملکی وزیراعظم کے قومی خطاب نے بڑے نوٹوں کی پابندی کے بعد مزیداحتساب کاموقع دیاکہ ہرباعزت شہری ہفتوں قطارمیں لگ کراپنے نوٹ تبدیل کیے ،اورحکومتی سطح پربینک سے محدودرقم کی نکاسی نے لوگوں کوگن گن کرخرچ کرنے کابہترین درس دیا۔نوٹ بندی کے سبب پورے ملک کی جوحالت رہی اوراب بھی برقرارہے وہ کسی سے مخفی نہیں،لیکن دوسری جانب ان دنوںجوموضوع ؛میڈیاکے منظرنامہ پرگردش کررہاہے وہ ہے یوپی الیکشن اوریادوخاندان کاسیاسی دنگل ۔ یوپی میں برسراقتدارسماجوادی پارٹی میں موجودآپسی رنجش اس حدتک پہونچ چکی ہے کہ وہ پردے کے پیچھے صلح نہیں ہوسکااورمیڈیامیں جگہ پانے میں کامیاب ہوگیا۔مسلسل کئی دنوں سے ٹکٹوں کی تقسیم کولے کرباپ بیٹے میں سیاسی دنگل جاری ہے جس کے چلتے 30 دسمبرکو سپاسپریموملائم سنگھ یادونے یوپی کے وزیراعلی اکھلیش یادواورپروفیسررام گوپال یادوکوپارٹی مخالف سرگرمی کاالزام لگارکر 6 سال کے لیے پارٹی سے معطل کردیا۔ تاہم دوسری ہی دن اعظم خاں کی مفاہمت سے گلے شکوے دورہوئے اور معطلی منسوخ ہوئی۔

سالِ جدیدکے پہلے دن پھروہی میدان،وہی پہلوان پورے عسکری قوت کے ساتھ برسرپیکارہیں،چچابھتیجے میں دراڑاب بھی قائم ہے۔خبروں کے مطابق سماج وادی پارٹی میں جاری خانہ جنگی مزید شدت اختیار کرچکی ہے۔ اکھلیش یادو اور رام گوپال یادو نے اتوارکوعلی الصباح پارٹی کا قومی اجلاس منعقد کیا جس میں اکھلیش یادوکو قومی صدر بنایاگیاساتھ ہی پارٹی کے اترپردیش یونٹ کے صدر شیو پال یادو کو عہدے سے ہٹا دیا گیا اور امرسنگھ کو باہر کاراستہ دکھانے کی تجویزپاس کی گئی، جس کواکھلیش حامیوں نے متفقہ طورپرتسلیم کیا۔وہیں دوسری طرف ملائم سنگھ نے یادو اتوارکی صبح ایک خط جاری کیااور اجلاس کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اس میں پاس کی گئی قراردادوں کو مسترد کردیاعلاوہ ازیں رام گوپال یادوکودوبارہ چھ سال کے معطل کرنے کااعلان کیا۔ملائم سنگھ نے قومی اجلاس میں شرکت کرنے والے پارٹی کارکنان کو سخت انتباہ دیاہے اس کے باوجودحالات مزیدابترہوتے جارہے ہیں ۔یوپی کی سیاست میں شایدایساپہلی بارہورہاہے کہ انتخاب سے عین قبل برسراقتدارمیں اتنااختلاف رہاہو۔خاندانی ڈراماکے پیچھے یوپی کے سیکولررائے دہندگان اورملک کی سب سے بڑی ریاست کی عزت داؤں پرلگی ہوئی ہے۔ سیاست میں باپ بیٹاچہ معنی داردتاہم 2012 میں ہوئے اسمبلی انتخاب کے بعدہندوستانی سیاست میں اپنی مخصوص شبیہ سے معروف ملائم سنگھ یادونے اپنے جواں خون سپوت اکھلیش یادوکویوپی کازکام کارسونپ کریوتھ پوزیشن کومستحکم کیاتھا۔اکھلیش یادونے یوپی کی ترقی کوجہاںمہمیزدی وہیں مختلف مواقع پرلاء اینڈآڈرکامسئلہ بھی رہا۔یوپی میں جوکچھ ہورہاہے بعیدازقیاس نہیں کہ اس سے بھگوادھاریوں کے ہاتھوں میں یوپی کی کنجی چلی جائے۔ ویسے یوپی میں دوہی پارٹیاں مستحکم ہیں جس میں مایاوتی قابل ذکرہیں۔سماجوادی دنگل میں بہوجن سماج پارٹی کومنگل منانے کاایک حسین موقع ہے تاہم اس پارٹی کاواضح منشورابھی تک رائے دہندگان کے سامنے پیش نہیں کیاجاسکاہے،ویسے مایاوتی اپنے مخصوص سیاست کی وجہ سے پہچانی جاتی ہیں جس میں ہمیشہ دلتوں اورمسلموںکی ترقی کی دہائی دیتی نظرآتی ہیں۔بسپاکانعرہ ’انسانی حقوق،سماجی مساوات،سیکولزم کااستحکام،سماجی انصاف اورذاتی توقیرہے۔بایں ہمہ انہوں نے اپنی دوراقتدارمیں ذات برادری پرخاصادھیان دیتی رہی ہیں،اب جبکہ الیکشن قریب ہے مسلمانوں سیاسی مہرابنانے میں یکسرجٹ چکی ہیں ،یوپی میں سیکولررائے دہندگان کے طورپرپہچانی جانے والی دونوں پارٹیاں سیاسی بساط پرکافی مضبوط توہیں لیکن آنے والے الیکشن میں کون فاتح اورکون مفتوح ہوتاہے قابل دیدہوگا۔

یوپی میں سیکولرجماعتوں کومتحد ہونے کی ضرورت

سماج وادی پارٹی میں جاری خانہ جنگی کے پس پردہ کیاحکمت عملی ہے اس کااندازہ لگاناقبل ازوقت ہوگالیکن سیاسی مبصرین اورتجزیہ نگاروں کے مطابق ملائم سنگھ یادویوپی کی زمام کاراپنے اس خانہ خرابی کے سبب کہیںنا کہیں تشتری میں سجاکربھگواجماعت کوسونپنے کاعمل انجام دے رہے ہیں۔ملائم سنگھ یادو ہندوستانی سیاست میں ایک غیرقابل اعتبارشخصیت سمجھے جاتے ہیں جنہوں نے کئی بارسیکولراتحادیوںسے دغاکیاہے۔ گزشتہ سال بہارالیکشن میں عظیم اتحادکاعظیم حصہ بنے لیکن عین الیکشن انہوں نے اپناپاؤں کھینچ کرسیکولرجماعتوںکوزک پہونچانے کی کوشش کی لیکن رائے دہندگان نے فرقہ پرستی کی کریہہ بوکوسونگتے ہوئے مخالفین کودھول چٹاکرتاریخ رقم کی۔اب جبکہ یوپی الیکشن بالکل سرپرچادرتان چکاہے ملائم سنگھ سیاسی ورطہ میں پھنساکرسیکولررائے دہندگان کواضطراب میں مبتلاکئے ہوئے ہیں ،خاندانی تنازع جب گھرکی چہاردیواری سے چوراہے اورنکڑپرپہنچ جاتاہے تواس میں مخالفین اورخودگھریلوپھٹکروں کی چال شامل ہوتی ہے۔ آپ کوبتادیں کہ یوپی میں 2012 کے بعدجب سے اکھلیش حکومت قائم ہوئی مختلف فسادات ہوئے جس میں مظفرنگرفساد،لوجہاد،محمداخلاق کاقتل اسی طرح ڈی ایس پی ضیاء الحق کاقتل علاوہ ازیں متعددفرقہ وارانہ تنازعات جس کی جواب دہی حکومت پرلازم ہے شایدیوپی حکومت جواب دینے کے موڈمیں نہیں ہے ،اس لیے بعیدنہیںکہ ملائم سنگھ ان تمام مسئلوں سے پہلوتہی اختیارکرنے کے فراق میں خاندانی تنازع کوروزبروزہوادے رہے ہوں۔باوجودسپاکے منشورشامل مسلمانوںکوحکومت میں ریزرویشن دینے کا وعدہ کی تکمیل تونہیں ہوئی البتہ اکھلیش یادونے دیگرکئی جہات کولے کر یوپی میں ترقیاتی کام انجام دیئے ہیں تاہم اصل مسئلہ سے عوامی توجہ نہیں ہٹایاجاسکتا۔ اب جب کہ رائے دہندگان کے سامنے اپناوعدہ خلافی یاپھرترقیاتی امورکے انجام دہی کے تئیںکچاچھٹاپیش کرنے کاموقع ہے یوپی میں برسراقتدارآنکھ مچولی کھیل رہی ہے۔

اس تنازع کے پس پردہ ملائم سنگھ شایدحکومت کے حق میںہمدردی بٹورنے کے کوشش کررہے ہیں اسی لیے ۳۰؍دسمبرکو اکھلیش یادوکوپارٹی سے معطل کردیااورجب اندازہ ہوگیاکہ پورے یوپی میں سیاسی اضطراب قائم ہوگیاہے مزیدیہ ہے تقریبا۱۹۰؍ارکان اسمبلی اکھلیش یادوکے ساتھ ہیں اپناڈرامائی فیصلہ واپس لے لیااورپھردوسراطریقہ آزمانے میں لگ گئے۔یوپی کے حالات کودیکھ کریہ کہاجاسکتاہے کہ کہیں ناکہیں بی جے پی کی حکمت عملی غیرمعمولی طورپرکامیاب ہورہی ہے،ورنہ کل تک حالات یہ تھے کہ سپااوربسپاکے علاوہ تیسرے کی بات کرنافضول محسوس ہورہاتھا،جہاں تک کانگریس کی بات ہے وہ ابھی تک اپنی انانیت پرقائم ہے اس لیے ۲۷؍سال بعدکانگریس پارٹی کی یوپی گھرواپسی جوئے سیرلانے کے مترادف ہے۔آپ کوبتادیں یوپی میںجاری کشمکش سے مخالف جماعتوںکابھرپورفائدہ ہورہاہے تاہم ابھی وقت ہے کہ سیکولرسیاسی جماعتیں اپنامنصوبہ اورپلان عوام کے سامنے رکھتے ہوئے رائے دہندگان کواعتماد میںلینے کی کوشش کریں ،یہ وقت سیاسی چپکلش کوبھلاکرمتحدہونے کاہے ورنہ بھگوائی مرکزکی طرح یوپی کے بھی کلیدبردارہوسکتے ہیں۔نوٹ بندی کی مارسب سے زیادہ غریب، کسان اوردلت جھیل رہے ہیں اس لیے سیکولرجماعتوںکومرکزی حکومت کے تئیں شہریوں کے موجودہ غصے کابھرپورفائدہ اٹھانے کاوقت ہے۔ ویسے یوپی میں کسی ایک پارٹی کاتنہااکثریت کے ساتھ اقتدارمیں آنامشکل ہے اسی لیے موقع کی نزاکت کوسمجھتے ہوئے سیکولرووٹرکااعتمادبحال کریں اوروقت رہتے موقع کافائدہ اٹھائیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز