الزام تراشی ، ای وی ایم پرشکوک وشبہات اورغیرجمہوری طرزِ احتجاج نقصاندہ

Mar 24, 2017 03:06 PM IST | Updated on: Mar 24, 2017 03:10 PM IST

ملک کے پانچ ریاستوںمیں ہوئے انتخابات میں سب سے اہم یوپی انتخابا ت تھے جس پرسب کی نگاہیں مرکوزتھیں، سیاسی پنڈتوں اورتخمینہ کاروں کے مطابق بہرصورت یوپی کی کمان سیکولرجماعت کے تحت آنے کی قوی امید تھی۔تاہم 11 مارچ کوآئے یوپی کے نتائج نے تمام طلسم توڑدیئے،بادشاہ گریعنی مسلمانوں کے ووٹ مختلف پارٹیوں میں منقسم ہوکررائیگاں ہوگئے، سیکولرجماعتوں کوشکست فاش دیتے ہوئے بلااتحادغیرے این ڈی اے کرسی ٔ اقتدارپرقابض ہوگئی۔ یوپی کے نتیجہ نے سبھی کوچونکا دیا،خودبی جے پی کویوپی میں اتنی نشستوں کی توقع نہیں تھی ۔ بہرحال اکثریت سے بی جے پی حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی اورپچھلے کئی دہائیوں کے رکارڈ توڑدیئے۔بی جے پی کی حکمت عملی اورپالیسی سے سبھی واقف ہیں ،وہ خود برملااعلان کرتی ہے کہ مسلمانوں کے ووٹ کی اسے کوئی ضرورت نہیں ، لیکن اب جبکہ حکومت قائم ہوگئی ہے توسب کے ساتھ یکساں برتاؤ اورترقی اس کی ذمہ داری ہے۔ جمہوری ملک میں مختلف جماعتیں ہوتی ہیں جنہیں کبھی شکست توکبھی فتح حاصل ہوتی ہے تواب اس کایہ مطلب نہیں ہے کہ مخالف جماعت کے رائے دہندگان کے حقوق غیرمحفوظ ہوجائیں۔ جمہوریت میں رائے دہی کی آزادی بنیادی حق میں شامل ہے ،اس لیے نتائج کی صورت میں حکومت کسی بھی جماعت کی بنے تحفظ فراہم کرناذمہ داری میں شامل ہوجاتا ہے۔ ہندوستان کاآئین ہرشخص کوآزادی دیتاہے،آئین وقانون سے کوئی بالاترنہیں ہوسکتا ۔اب جبکہ یوپی میں بی جے پی کی حکومت قائم ہوگئی ہے مسلمانوں کاایک طبقہ خائف نظرآتاہے ، حالانکہ ایسانہیں ہوناچاہیے بلکہ اپنی روش پرچلتے رہناچاہیے۔کیااس سے پہلے ان جماعتوں کی حکومت قائم نہیں ہوچکی ہے،نام نہادسیکولرجماعتوں ہی سے مسلمانوں کا کونسا بھلا ہوا ہے۔ ہرایک کے اپنے مفاد ہیں ،اب تک سبھی جماعتیں مسلمانوں کوووٹ بینک کی صورت میں استعمال کرتی آئی ہیں ، لیکن اس بارکے الیکشن نے ان کے عزائم پرپانی پھیردیا۔ اس کراری شکست کے کئی سارے وجوہات سامنے آرہے ہیں ، جس پرسبھی لوگوں کوغوروفکرکرنے کی ضرورت ہے ۔ تاکہ مستقبل کے لیے مثبت لائح عمل تیارہوسکے اوراس جیسی نوبت پیش نہ آئے۔ نتائج کسی بھی جماعت کے حق میں آئیں ،ہمیںاخلاقی طورپر قبول کرناچاہیے اس لیے کہ اکثریت کی منشاوہی رہی ہے ،جس وجہ سے وہ منتخب ہوکرحکومت سازی میں کامیاب ہوئے۔ الزام تراشی،ای وی ایم پرشک وشبہے کااظہار اورغیرجمہوری طرزِاحتجاج نقصاندہ ثابت ہوسکتے ہیں۔

آج سوشل میڈیاکادورہے منٹوں میں کوئی بھی بات جنگل میں آگ کی طرح پھیل جاتی ہے،حکومت وایوان تک اپنی بات پہنچانے کا مؤثرذریعہ بھی ہے اورمصیبت زدہ وپریشان حال کے امدادکے تئیں لوگوں کوبیدارکرنے بہترین ذریعہ بھی لیکن دوسری طرف اس کے منفی اثرات بھی ہیں جوآج کل کچھ زیادہ ہی رائج ہوچکے ہیں۔حتی الامکان ایسے راستوںسے اجتناب کرنے کی ضرورت ہے جودقت طلب ہوں۔سوشل میڈیاپرسائبرماہرین کسی بھی افواہ کوعام کردیتے ہیں اوربھولی بھالی عوام ان کے جھانسے میں آجاتی ہے۔اشتعال انگیزی کرنے والے تعدادمیںبہت تھوڑے ہیں پھربھی ان کی کارستانی اجتماعی طورپرمضرت رساں ہے۔ ڈیجیٹلائزیشن کے اس دورمیں سوشل میڈیاکااستعمال ہرکوئی کررہاہے ،جس میں مثبت سوچ وفکراورمعاملہ فہمی انتہائی ضروری ہے، شیئرکی جانے والی بہت سی چیزوں کوبغیرنتائج کے پروادوسروں فارورڈکردی جاتیں ہیں حالانکہ ایسے فتنہ انگیزی توجہ طلب ہوتی ہے،جس پرقدغن لگاناانسانیت کے ناطے ذمہ داری میں شامل ہے لیکن کوئی اس جانب نظرالتفات کرے تب نا!مسلم نوجوان طبقہ سوشل سائٹس جیسے فیس بک اورواٹس پرمتنوع قسم کی بیان بازیاں ،مزحقہ خیزکارٹون پوسٹ کر رہے ہیں۔ انہیں باخبررہناچاہیے کہ ان سائٹس پرحکومت کی خصوصی نظرہے ،جوکہ آزادی ٔ اظہاررائے پرقدغن لگانے کی مذموم کوشش ہے۔ خبروں کے مطابق اس سلسلے میں یوپی کے مختلف اضلاع سے کئی مسلم نوجوانوں گرفتاربھی کیاجاچکاہے۔ نوجوانوںکو ہوش سے کام لیناچاہیے جذبات کے رومیں بہنے سے کوئی بھی مسئلہ حل نہیں ہوسکتا،اس طرح کے لوگ خود توپریشان ہوتے ہی ہیں والدین اورمعاشرہ وسماج کوبھی پریشانی میں ڈال دیتے ہیں۔وقت کی نزاکت پہچانیں اور کوئی بھی چیزبغیرتحقیق کے دوسروںتک نہ پہنچائیں۔اگرآپ کواپنی بات منوانی ہے جمہوری طرزاختیارکریں ،اشتعال انگیزی ،لڑائی جھگڑے سے مسائل مزیدپیچیدہ ہوں گے۔

الزام تراشی ، ای وی ایم پرشکوک وشبہات اورغیرجمہوری طرزِ احتجاج نقصاندہ

ہندوستان میں حالات سازگارنہیں ہیں ،یوپی میں مسلمانوں کاقافیہ تنگ کرنے کے تمام جتن کیے جارہے ہیں،ایک ہی وقت میں متعددمسائل میں الجھاکرتعلیم وترقی سے توجہ ہٹانے کی کوشش بڑی شدومدسے جاری ہے، تعلیم وتعلم سے وابستہ ملت کے افرادسے خصوصاً درخواست ہے کہ وہ اپنے میدان میں دلجمعی کے ساتھ لگے رہیں ان شاء اللہ ماحول ہمارے موافق ہوں گے،اللہ کارسازہے وہی کوئی حل نکالے گا۔ ساتھ ہی یہ یقین رکھئے کہ ہندوستان میں باضمیراورسیکولرغیرمسلم طبقہ ہمیشہ سے حق کوحق کہنے سے گریزنہیں کیا ہیں ،ملکی آئین وقانون پرمکمل اعتمادرکھیں ،عدلیہ ابھی زندہ ہے ۔گھبرانے کی قطعی ضرورت نہیں ہے۔مسلمانوں کواپنے صفوں میں اتحاد واتفاق پیداکرنے کی اشدضرورت ہے جوکہ ان کے درمیان عنقاء ہے ۔

نوٹ: مضمون نگار ابھرتے ہوئے ایک نوجوان صحافی ہیں ۔یہ مضمون نگار کی ذاتی رائے ہے، اس سے نیوز 18 اردو کا اتفاق ضروری نہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز