یوپی انتخابات: سیکولر رائے دہندگان کمال دانش مندی کا ثبوت دیں

Feb 07, 2017 05:35 PM IST | Updated on: Feb 07, 2017 05:35 PM IST

یوپی کی سیاست اوروہاں ہونے والا الیکشن ہرخاص وعام کی زبان پرہے۔ ریاست میں حزب اقتدار سماجوادی پارٹی اورکانگریس کے اتحاد نے الیکشن کومزید دلچسپ بنادیا ہے۔ کانگریس اورسپااپنے نوجوان لیڈران راہل گاندھی اوراکھلیش یادوپرکافی اعتماد کیے ہوئے ہیں جس کے چلتے دونوں ہی میدان میں متحدہ طورپرایک کے بعدایک مسلسل ریلیاں اورروڈشوزکرکے اپنے دم پرووٹ جمع کرنے پرلگے ہوئے ہیں۔ اکھلیش یادواپنی پانچ سالہ کارکردگی اورترقی کے حوالہ سے ووٹ مانگ رہے ہیں ،توراہل گاندھی نوجوانوں اورکسانوں کواپنی جانب راغب کرنے کے لیے پوری دم خم لگارہے ہیں۔ متحدہ محاذ ’کام بولتاہے،اوریوپی کے دوہی پسند اکھلیش اورراہل کے سنگ ‘کا نعرے لے کرمیدان میں پوری طرح سرگرم ہے۔حالانکہ دیکھاجائے تویوپی میں ترقی توہوئی ہے تاہم لاء اینڈآرڈرہرہمیشہ سوالیہ نشان لگتارہا ہے۔اسی طرح بہوجن سماج پارٹی سپریمومایاوتی اپنے پارٹی اورکارکنان کولے کرکافی پرجوش نظرآرہی ہیں جس کے چلتے وہ کسی سیکولریاعلاقائی پارٹی سے اتحاد کرنے کی موڈمیں بالکل نہیں ہیں ۔اب جبکہ الیکشن سرپرہے اتحادممکن بھی نہیں ۔انہیں مخصوص طبقے کے ووٹ بینک پرمکمل اعتماد ہے اوریوپی میں دوبارہ واپسی کے لیے پرجو ش ہیں۔ دوسری طرف بی جے پی کی جانب سے یوپی میں کوئی مقبول عام لیڈرنہ ہونے کی صورت میں وزیراعظم نریندرمودی بذات خود پارٹی پرچارک کے طورپرمیدان میں ہیں۔ حالانکہ دیکھا جائے توپی ایم نریندرمودی پارلیمانی انتخابات کے بعد ملک کی جس ریاست میں بھی اسمبلی الیکشن ہوئے ہرجگہ اسٹارپرچارک کے روپ میں خود کوپیش کیا ہے جس کی واضح مثال گزشتہ سال دہلی، بہاراورحالیہ دنوں پنجاب کا الیکشن ہے۔

سیاسی پنڈتوں کے مطابق مودی جی میں قوت برقرارنہیں رہ گئی ہے کہ جس کے بل پرووٹ اکٹھاکرسکیں کیونکہ مسلسل ہورہے انتخابی اعلان کے سبب لوگوں میں ان کے تئیں اعتماد میں حد درجہ کمی آچکی ہے۔ چونکہ انتخابی جملہ بازی اورحقیقت بیانی میں کہیں ناکہیں لوگ دھوکہ کھاجارہے ہیں۔ نوٹ بندی نے غریبوں،کسانوں،کاروباری اورمزدورطبقہ افرادکی کمرتوڑکررکھ دی ہے، مرکزمیں حزب اقتدارکے تئیں لوگوں میں غم وغصہ اب بھی برقرارہے ،اسی طرح دیہی علاقوں میں حالات اب بھی ناگفتہ بہ ہیں ،لوگ گھنٹوں بینکوں کے قطارمیں لگے رہنے پرمجبورہیں۔ نوٹ بندی اوراس کے بعدپیش آمدہ حالات سے بہرصورت متحدہ محاذ اورسیکولرجماعتوں کوفائدہ حاصل ہونے کی قوی امید ہے ۔علاوہ ازیں مودی جی یوپی الیکشن میں جس طرح کی سیاسی بیان بازی دے رہے ہیں ایک باوقارعہدے کوزیب نہیں دیتاہے کہ اس طرح کی جملہ اوربیان بازی کے ذریعہ عوام کوگمراہ کریں۔ انہوں نے اب تک سیکڑوں نعرے لگائے جس میں کچھ توزبان زدعام بھی ہوئے لیکن زمینی حقیقت صفررہی ہے۔ اب جبکہ یوپی میں اسٹارپرچارک کے طورپرمیدان میں ہیں انہوں نے’ اسکیم‘ کی نئی اصطلاح پیش کرکے جہاں مد مقابل کونیچادکھانے کی کوشش کی ہے وہیں متحدہ محاذاوربسپا بھی دفاع میں آگئی ہیں جس سے بہرصورت ملک کے عظیم عہدے پرفائزشخص کا وقار مجروح ہورہا ہے،جوکہ قابل افسوس ہے۔اس طرح کی سطحی بیان بازی سے گریز کرنا از حد ضروری ہے۔

یوپی انتخابات: سیکولر رائے دہندگان کمال دانش مندی کا ثبوت دیں

سیاسی مبصرین کے مطابق اکھلیش یادواورراہل گاندھی کے لیے یوپی الیکشن انتہائی اہم ماناجارہا ہے کہ اگریہ دونوں لوگ اپنے بل پریوپی میں دوبارہ حکومت بنانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں توان کااگلا ہدف بھی آسان ہوسکتا ہے۔راہل گاندھی نے انتخابی ریلی کوخطاب کرتے ہوئے یوپی کے نوجوانوں میں روح پھونکنے کاکام کیا ہے۔ انہوں نے کانپورمیں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا’غریب نوجوانوں کومفت میں آئی آئی ٹی،آئی آئی ایم اورمیڈیکل امتحان میں تیاری کے لیے بہترین وسائل فراہم کریں گے، چھوٹے چھوٹے بزنس اورفیکٹریاں چلانے والوں کوکم شرح پرلون فراہم کریں گے۔انہوں نے کسانوں کے تئیں کہا کہ ہم متحد ہوکرکسانوں کی مدد کے لیے یوپی کوعالمی پیمانے کی فوڈ فیکٹری بنائیں گے‘۔اسی طرح مختلف نعروں اوراعلانات کے ذریعہ دونوں نوجوان لیڈران یکے بعد دیگرے کئی انتخابی پروگرام کررہے ہیں۔علاوہ ازیں اکھلیش یادونے نوجوانوں سے اپنی واپسی پراسمارٹ فون دینے کاوعدہ کیا ہے جس پرخودوزیراعلی اکھلیش یادوکے مطابق ایک کروڑسے زائد لوگ اب تک رجسٹریشن کرواچکے ہیں۔ سماجوادی پارٹی میں اتحاد کی وجہ سے مزیدطاقت آگئی ہے جس سے بھگواخیمے میں بے چینی یقینی ہے جس کے چلتے اس کے منہ پھٹ اوربدزبان لیڈروں کی زہرافشانیاں منظرعام پرآرہی ہیں۔ ترقی کے نام پرپارلیمانی الیکشن جیتنے والی مودی حکومت آخرکاراپنی عادت رفتہ پراترآئی ہے،ڈھائی سال سے زائد کاعرصہ گزرجانے کے بعدخال خال ترقی نظرآرہی ہے وہ بھی سیاسی گلیاروں اورمیڈیا ہاؤس تک۔ یوپی میں نئی حکمت عملی اورترقی کانام نہاد مکھوٹا بھسم ہونے کے دہانے پرہے اس لیے مذہبی اورعقیدتی استحصال کاسلسلہ شروع ہوگیا ہے۔خواتین کی ہمہ جہت ترقی کے نام پرمسلمانوں کے مذہبی قوانین میں دراندازی کی ناپاک کوشش کی جارہی ہے ،زعفرانی پارٹی کی طرف سے بیان آیا ہے کہ ’یوپی الیکشن کے بعدمرکزی حکومت تین طلاق پرپابندی کے ضمن میں بڑا فیصلہ کرے گی۔‘انہوں نے طلاق ثلاثہ کومذہبی برائی سے تعبیرکیا ہے‘ جس سے مرکزی حکومت کی نیت صاف ظاہرہورہی ہے کہ مسلمانوں کے تئیں اوریوپی الیکشن کے پیش نظرکس حدتک یہ پارٹی جاسکتی ہے۔

دراصل یوپی الیکشن سیکولرزم اورفاشسٹ وفاشزم کی لڑائی ہے ،اگریوپی میں زعفرانی پارٹی برسر اقتدار ہوتی ہے تواسے پورے ملک میں کھیل کھیلنے کاموقع مل جائے گا۔دانشوروں اورقلمکاروں کے ذریعہ قبل ازانتخاب اس بات کاخدشہ ظاہرکیاجاچکا ہے کہ یوپی انتخاب میں بھگواپارٹی تمام حدود پارکر سکتی ہے جوحرف بہ حرف صادق آرہاہے۔ جیسے جیسے انتخابات قریب آرہے ہیں بی جے پی اپنی روایتی ووٹوں کویکجاکرنے کے لیے اوچھی بیان بازی کررہی ہے۔ تاہم بارہا دھوکہ کھانے والے یوپی کے عوام اب باشعور ہوچکے ہیں،انہیں بہکانااب سیاسی جماعتوں کے بس میں نہیں ہے۔ ہرایک حالات پرنظررکھے ہوئے ہے۔ وقت ہے سیکولرطاقتوں کوسرجوڑکرحکمت عملی تیارکرنے کا۔ وقت ہے فاشسٹ ذہنیت کودھول چٹانے کا،وقت ہے سیکولرووٹ کوتقسیم سے بچانے کا، وقت ہے ہندومسلم اتحاد پرزوردینے کا تاکہ مذہبی عقائد کے خطوط پرانہیں تقسیم نہ کیاجاسکے۔ یہ وقت سیکولررائے دہندگان کے لیے سخت آزمائش کا ہے ،اس لیے انہیں سوچ سمجھ کرقدم اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ ان کا ووٹ رائیگاں نہ جائے اورملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقراررہے۔

مضمون نگار ابھرتے ہوئے ایک نوجوان صحافی ہیں ۔

نوٹ: یہ مضمون نگار کی ذاتی رائے ہے، اس سے نیوز 18 اردو کا اتفاق ضروری نہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز