آج کے سعودی عرب میں خواتین کر رہی ہیں قیادت

May 05, 2017 05:17 PM IST | Updated on: May 08, 2017 12:04 PM IST

اپنی تہذیب، روایات اور عقیدے پر ناز کرنے والا ملک سعودی عرب سماج میں خواتین کے گہرے کردار کو قدر وتحسین کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔حال ہی میں خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز السعود کی قیادت میں اور پہلے مرحوم خادم حرمین شریفین شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز السعود کی قیادت میں، سعودی عرب نے ایسی کئی پیش قدمیاں کیں ، جو خواتین کی عوامی زندگی میں شراکت کو وسعت دینے کا ماحول پیدا کرتی ہیں۔ آج ہم سعودی عرب میں جو تبدیلیاں دیکھ رہے ہیں، خواتین ان تبدیلیوں کی قیادت کر رہی ہیں، ہمارے وسیع ورک فورس میں شراکت کر رہی ہیں،کثیر القوام کارپوریشنز کی قیادت کر رہی ہیں اور تعلیم، صحت، مالیات اور دیگر سیکٹرز میں گراں قدر کامیابی سے ہمکنار ہو رہی ہیں۔ خواتین سعودی عربیہ کی کامیاب معیشت کی ترقی اور وسعت میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہیں اور کام کی فعال زندگی میں ان کی مضبوط شمولیت سعودی عرب حکومت کے وژن 2030 کا مرکزی حصہ ہیں۔

چند حالیہ رپورٹس کے مطابق خواتین اور مردوں کے مابین اشتراک نے ایک ایسے مضبوط معاشی بحث کو جنم دیا ہے ۔ جس سے ہماری کل گھریلو پیداوار ( جی ڈی پی ) کو 2025 تک 50 ملین امریکی ڈالر کا منافع ہو سکتا ہے۔ حکومت آئندہ برسوں میں ورک فورس میں خواتین کی شمولیت کو اس کے موجودہ تناسب 22 فیصد سے بڑھا کر30 فیصد تک کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ درحقیقت سعودی عرب کے مرکزی شعبہ برائے اعداد و شمار اور معلومات کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، سعودی عرب میں 2010 کے مقابلے میں خواتین کو ملازمت دئے جانے کی تعداد میں 48 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

آج کے سعودی عرب میں خواتین کر رہی ہیں قیادت

علامتی تصویر

خاص طور پر مالیاتی سیکٹر میں روزگار دینے کی شرح میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ فروری میں، سارہ الصحیمی سعودی اسٹاک ایکسچینج کی مسند صدارت پر فائز ہونے والی پہلی خاتون ہیں۔ بطور ایک قوت اپنی شناخت پیدا کرنے والی محترمہ الصحیمی گزشتہ برسوں میں سرمایہ کاری کے اداروں میں کئی اہم مناصب پر فائز رہی ہیں، اور اب انہوں نے بلاخر اسٹاک ایکسچینج کی ذمہ داری سنبھال لی ہے۔ ایک اور خاتون رانیا نشر کو سامبا فائنانشیل گروپ کی چیف ایکزکٹیو نامزد کیا گیا اور وہ سعودی عرب میں کسی بھی فہرست بند کمرشیل بینک کی پہلی سی ای او (چیف ایکزیکٹیو افسر ) ہیں۔

تعلیم کو سعودی عرب کی قومی پالیسی کے ایجنڈے میں مرکزی حیثیت حاصل ہے اور حکومت نے اکادمی کے میدانوں میں اپنے کریئر تلاش کرنے کی غرض سے ہمیشہ ہی خواتین کیلئے ایک حوصلہ افزا ماحول کی پیشکش کی ہے۔ ریاض میں واقع شہزادی نورا بنت عبدالرحمن یونیورسٹی خواتین کی دنیا کی سب سے بڑی یونیورسٹی ہے اور یہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ سعودی عرب خواتین کی تعلیم اور سربلندی کیلئے پابند عہد ہے۔ ہمیں اپنے ملک کی ان کامیاب خواتین پر فخر ہے ، جنہوں نے اپنے لئے عالمی سطح پر ایک مقام حاصل کر کے اپنے پیشہ ورانہ عزائم کو حاصل کرنے کی سمت زبردست پیش قدمیاں کی ہیں۔ میڈیسن کے موضوع کی معلمہ ڈاکٹر دلال محی الدین نمنقانی کسی یونیورسٹی کے ڈین کے عہدے پر فائز ہونے والی پہلی سعودی خاتون ہیں۔ وہ یونیورسٹی میں مرد و خواتین دونوں کے شعبوں کی نگرانی کرتی ہیں۔ اکادمی کے میدان کا ایک دوسرا اہم نام ہیں ڈاکٹر مونا المنجد، جنہوں ملک میں سعودی عرب کی صف اول کی ماہر سماجیات ہیں اور انہوں نے سماجی ترقی کی میدان کے ایسے کئی پروجیکٹس تیار کئے ہیں ، جن کیلئے انہیں 2005 میں امتیازی، غیر معمولی کو آرڈنیشن اور انفرادی پیداواری کیلئے یو این 21 ایوارڈ سے نوازا گیا۔ایسی دیگر کئی خواتین ہیں ، جنہوں نے تعلیم، تحقیق، ہیلتھ کیئر اور سائنس کے میدان میں اہم تعاون پیش کر کے بین الاقوامی خطابات حاصل کئے ہیں۔

ڈاکٹر حیات بنت سلیمان بن حسن سندی ایک ایسی سعودی سائنسداں اور ایک ایسا نام ہیں ، جن پر ہمیں فخر ہے۔ نیشنل جیوگرافک کی جانب سے 2011 کے ابھرتے ہوئے محقق کے طور پراور 2012 میں سائنس کی تعلیم کیلئے یونیسکو کے خیر سگالی کے سفارت کار کے طور پر ان کا تقرر کیا گیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ سیکریٹری جنرل کے سائنٹفک مشاورتی بورڈ کیلئے بھی اپنے فرائض انجام دئے ہیں۔ ان کی ایجادات میں، ڈاکٹر سندی نے ایک ایسا ڈائگناسٹک ٹول تیار کیا ہے جو پستان کے کینسر اور میگنیٹک ایکوسٹک ریزاننس سینسر( ایم اے آر ایس  کی ابتدائی تشخیص کیلئے استعمال ہوتا ہے۔

ڈاکٹر خاولا ایس الخرایا طبی تحقیق کے میدان کی ایک اور اہم نام ہیں۔ وہ ایک سعودی اونکولوجسٹ اور پیتھالوجی کی پروفیسر ہیں۔ ڈاکٹر الخرایا ایف او ایس ایم 1 جینیات کی شناخت کیلئے مشہور ہیں، جو انسانی جسم میں کینسر کے خلیوں کی تشکیل میں مدد دیتا ہے۔ وہ اپنے کینسر کی تحقیق کیلئے 2010 میں آرڈر آف عبدالعزیز السعود حاصل کرنے والی پہلی سعودی خاتون ہیں۔

ہمیں سعودی عرب میں یہ دیکھ کر بے انتہا خوشی ہوتی ہے کہ ہمارا ملک خواتین کیلئے تعلیم کا مزید نظم کرنے اور ان کے لئے مزید مواقع پیدا کرنے کی سمت غیر معمولی کامیابی حاصل کر رہا ہے۔ عالمی معاشی فورم کے ذریعے جاری کردہ گلوبل جینڈر گیپ رپورٹ 2014 کے اعداد و شمار کے مطابق اب سعودی عرب میں خواتین میں 91 فیصد کی زبردست خواندگی کی شرح ہے ۔ یہ ایک ایسا کارہائے نمایاں ہے ، جس کی دنیا کے کئی ممالک میں نظیر تک نہیں ملتی ۔ بنیادی طور پر، سعودی عرب کے کل گریجویٹس میں خواتین کا تناسب تقریبا 52 فیصد ہے۔ خواتین کی تعلیم پر حکومت کی توجہ کے دیگر کئی مثبت پہلو ہیں ۔ – اس کی وجہ سے شرح پیدائش اور شرح اموات میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے۔ ہیلتھ اور نیوٹریشن کے ٹیبلز بہتر ہوئے ہیں اور جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکاہے، اس سے عوامی زندگی میں خواتین کی شرکت میں اضافہ ہوا ہے۔ ہر سال سعودی عرب کی لاکھوں خواتین کو بیرون ممالک تعلیم حاصل کرنے کیلئے اسکالر شپ دی جاتی ہے۔ مجھے جن حالیہ کامیابیوں سے زبردست مسرت حاصل ہوئی ہے، ان میں سے ایک سمیّہ جبراتی کی کامیابی ہے ، جنہوں نے انگریزی روزنامہ سعودی گزٹ کی پہلی خاتون ایڈیٹر ان چیف کے طور پر اپنا عہدہ سنبھالا۔

یہاں اس بات کا ذکر کرنا بھی اہم ہے کہ 2013 میں سعودی عرب کیلئے اس وقت ایک اہم لمحہ آیا ، جب 30 خواتین 150 ممبران پر مشتمل مشاورتی ادارے شوری کونسل کا حصہ بنیں اور ایسا سعودی حکومت کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا۔ علاوہ ازیں 2015 کے امتیازی میونسپل انتخابات میں مکہ، جاف اور تبوک کے خطوں سے چار خواتین منتخب ہوئیں۔

ابھی حال ہی میں سعودی عرب میں شاہ فہد کلچرل سینٹر میں یوم خواتین کے جشن کا انعقاد کیا گیا۔ اسی دوران حکومت نے الجند ریا نامی قومی کلچرل فیسٹیول کا انعقاد کیا ،جس میں لوگوں نے تخلیقیت اور ہنر مندی کے ذریعے، جدیدیت سے مزین روایات اور تہذیب کی پیشکش کی۔ اس سال کے الجند ریا فیسٹیول نے اپنے پروگرام میں قوم کی تعمیر میں خواتین کے انتہائی اہم کردار اور قدر کی نمائش کیلئے بھی وقت مقرر کیا تھا۔

حکومت جینڈر امپاور منٹ اور ثقافتی ترقی کے میدان میں کئی کامیاب پیش قدمیوں کی قیادت کر رہی ہے۔ سماجی و معاشی ڈھانچے میں خواتین کی شراکت آج حکومت کی توجہ کا مرکز ہے اور کئی پیش قدمیوں کو – جن میں سے میں نے چند کو اوپر نمایاں کرنے کی کوشش کی ہے – خواتین کی شراکت داری اور ہمارے ملک میں زندگی کے ہر شعبے میں ان کی قائدانہ شمولیت کو فروغ دینے کی غرض سے استعمال کیا جا رہا ہے۔

نوٹ : مضمون نگار ہندوستان میں سعودی عرب کے سفیر ہیں ۔ مضمون نگار کی یہ رائے ذاتی ہے ، نیوز 18 اردو نہ تو اس کی حمایت کرتا ہے اور نہ ہی اس کی مخالفت ۔

ری کمنڈیڈ اسٹوریز