سعودی عرب : حالیہ چند دہائیوں کے دوران 100 ارب ڈالر سے زیادہ کی بدعنوانی کا اٹارنی جنرل کا دعوی

Nov 10, 2017 01:02 PM IST | Updated on: Nov 10, 2017 02:33 PM IST

ریاض: سعودی عرب کے اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ حالیہ چند عشروں میں کم از کم 100 ارب ڈالر کی رقم بدعنوانی کی نذر ہوئی ہے۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق اٹارنی جنرل شیخ سعود المجیب کا کہنا ہے کہ اب تک 208 افراد کو تفتیش کے لیے بلایا گیاہے ۔ تاہم ان میں سے سات کو موردِ الزام ٹھہرائے بغیر ہی چھوڑ دیا گیا ہے۔

ساتھ ہی ساتھ اٹارنی جنرل نے یہ بھی کہا ہے کہ ان لوگوں کی شناخت اور ان کے خلاف الزامات کے بارے میں دنیا بھر میں قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ مگر سعودی قانون کے تحت ان افراد کو مکمل طور پر قانونی حقوق کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ہم ان کی شناخت ظاہر نہیں کریں گے۔ اٹارنی جنرل نے یہ بھی دعوی کیا کہ بدعنوانی کے خلاف حالیہ کریک ڈاؤن سے مملکت میں کسی قسم کی معاشی سرگرمیاں متاثر نہیں ہوئی ہیں ، صرف مخصوص افرادکے بینک کھاتے منجمد کیے گئے ہیں۔

سعودی عرب : حالیہ چند دہائیوں کے دوران 100 ارب ڈالر سے زیادہ کی بدعنوانی کا اٹارنی جنرل کا دعوی

بتایا جاتا ہے کہ گرفتار لوگوں میں وزرا، سینئر شہزادے اور بڑے کاروباری افراد شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ان میں شہزادہ الولید بن طلال، شہزادہ مطعب بن عبداللہ اور ان کے بھائی شہزادہ ترکی بن عبداللہ بھی شامل ہیں ، جو ریاض صوبہ کے گورنر رہ چکے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ گذشتہ ہفتے سعودی عرب میں درجنوں شہزادوں، سرکاری عہدیداروں اور سرمایہ داروں کی گرفتاری کو سرکاری طور پر بدعنوانی کے خلاف کریک ڈاؤن سے منسلک کیا جا رہا ہے ، لیکن سعودی عرب کے حالات پر نظر رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ گرفتار شدگان کا خاندانی و کاروباری پس منظر ثابت کرتا ہے کہ ان میں سے بیشتر لوگ اپنے سیاسی نظریات اور خاندانی وابستگیوں کی وجہ سے گرفتار کیے گئے ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز