میانمار : راخین میں صورتحال سنگین ، ہزاروں افراد گھر بار چھوڑنے پر مجبور ، اقوام متحدہ نے واپس بلایا عملہ

Aug 28, 2017 06:54 PM IST | Updated on: Aug 28, 2017 06:54 PM IST

کوکس بازار (بنگلہ دیش): میانمار کے شمال مغربی صوبہ راخین میں گزشتہ پانچ برسوں میں سخت ترین لڑآئی چھڑ گئی ہے، جہاں گزشتہ جمعہ سے اب تک 104 افراد ہلاک ہوئے ہيں اور ہزاروں خوفزدہ شہریوں کو لڑائی سے فرار ہونے پر مجبور ہونا پڑا ہے، جبکہ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی امدادی ایجنسیوں کو اپنا عملہ واپس بلانا پڑا ہے۔ راخین میں روہنگیا باغی گروپوں نے جمعہ کے روز 30 پولس پوسٹوں اور ایک فوجی کیمپ پر حملے کئے تھے، جس کے بعد وسیع پیمانے پر پرتشدد جھڑپیں شروع ہوگئی ہيں، جس سے خوفزدہ شہریوں کو علاقے سے فرار ہونا پڑر ہا ہے۔ گزشتہ سال اکتوبر سے میانمار کے شمال مغربی صوبہ راخین میں فوج کی وحشیانہ کارروائی کے بعد سے کشیدگی بنی ہوئي ہے، جس میں گزشتہ جمعہ کے حملے کے بعد اچانک اضافہ ہوگیا۔

بدھسٹوں کی اکثریت والے ملک میانمار کے شمال مغربی صوبہ راخین میں گیارہ لاکھ روہنگیائی مسلمانوں کے مسئلے سے نمٹنا ملک کی نوبل امن انعام یافتہ لیڈر آنگ سان سوکی کے لئے سب سے بڑا چیلنج بن گیا ہے، جنہوں نے روہنگیا باغیوں کے حملے کی مذمت کی ہے اور سلامتی دستہ کی کارروائی کی ستائش کی ہے۔ مغربی ناقدین کی طرف سے انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے کہ وہ طویل عرصہ سے ظلم و تشدد کے شکار روہنگیائی مسلمانوں کے مسئلے پر کھل کر نہيں بول رہی ہیں اور وہ صرف فوج کے جوابی تشدد کا دفاع کررہی ہیں۔

میانمار : راخین میں صورتحال سنگین ، ہزاروں افراد گھر بار چھوڑنے پر مجبور ، اقوام متحدہ نے واپس بلایا عملہ

روہنگیا آبادی کے ہزار وں افراد کو جن میں بیشتر خواتین اور بچے ہيں، بنگلہ دیش اور میانمار کو الگ کرنے والی ندی کو پار کرتے ہوئے اور زمینی راستہ سے فرار ہوتے دیکھا گیا ہے، جو تشدد سے جان بچا کر بنگلہ دیش کی طرف بھاگنے کی کوشش کررہے ہيں۔ دوسری طرف بنگلہ دیش میں پہلے سے موجود روہنگیائی پناہ گزینوں نے کہا کہ بنگلہ دیشی پولس نے انہيں نئے پناہ گزینوں کو آنے میں مدد نہيں کرنے کی تنبیہ کی ہے، اگر کسی نے بھی نئے لوگوں کو آنے دیا تو اس کو گرفتار کرکے سرحد پار بھیج دیا جائے گا۔

پناہ گزینوں کے مطابق اس طرح کی وارننگ کے باوجود جمعہ سے اب تک سرحد پر تقریبا 2 ہزار لوگ بنگلہ دیش میں داخل ہوئے ہيں ۔ ہفتہ اور اتوار کو دونوں ملکوں کے درمیان غیر مقبوضہ علاقے میں درجنوں رہنگیا خواتین کو بے یارو مدد گار دیکھا گیا ہے، جب میانمار کی جانب سے شدید فائرنگ کی آوازیں سنی گئی تھیں۔

دریں اثناء، میانمار میں اقوام متحدہ اور دیگر عالمی امدادی ایجنسیو ں نے اپنے عملہ کو شورش زدہ علاقے سے واپس بلالیا ہے۔راخین صوبہ کے وزیر اعلی نئی پو نے بتایا کہ حکومت کی طرف سے بیرونی امدادی کارکنوں کو سکیورٹی فراہم کی گئی ہے، لیگن اس طرح کی پرتشدد صورتحال میں کسی مکمل سلامتی کی ضمانت نہيں دی جاسکتی ہے۔ ہماری طرف سے ہر ممکن سکیورٹی فراہم کی جائے گی ، لیکن اگر کوئي علاقے سے باہر نکل جانا چاہتے ہيں، تو ہم ان کی مدد کریں گے۔

باغیوں کے حملے کے پیش نظر شمالی راخین میں غیر مسلم آبادی والے گاؤں سے لوگوں کو خالی کرایا جارہا ہے، جہاں مقامی غیر مسلم آبادی کے لوگ اپنی حفاظت کے لئے خود کو تلواروں اور چاقوؤں سے مسلح کررہے ہيں، جنہيں گاؤں سے د وسرے بڑے شہروں کی طرف منتقل کیا جارہا ہے۔ باغیوں کی طرف سے ایک بیان میں حکومت کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا گیا ہے۔ آج جاری ہونے والے بیان میں روہنگیا گروپ نے کہا کہ وہ کسی طرح کے تشدد میں ملوث نہيں ہے ، بلکہ وہ روہنگیا آبادی کے حقوق کا دفاع کے لئے کارروائی کررہے ہيں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز