پاکستان میں خودکش حملہ ، 13 افراد ہلاک ، ایک درجن سے زائد زخمی

Jun 23, 2017 05:22 PM IST | Updated on: Jun 23, 2017 05:22 PM IST

کوئٹہ: صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بم دھماکے کے نتیجے میں 13 افراد جاں بحق اور ایک درجن سے زائد زخمی ہوگئے۔ رپورٹ کے مطابق بم دھماکا کوئٹہ کے انتہائی حساس علاقے گلستان روڈ پر قائم انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس احسن محبوب کے دفتر کے قریب ہوا۔ دھماکے کے نتیجے میں 13 افراد ہلاک ہوئے جن میں 7 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ واقعہ میں 16 افراد زخمی بھی ہوئے، ان زخمیوں میں 10 سالہ بچی بھی شامل ہے۔

واقعے کے بعد ریسکیو عملے نے موقع پر پہنچ کر زخمیوں کو علاج کے لیے کوئٹہ کے سول ہسپتال منتقل کیا، جبکہ سول ہسپتال کی سیکیورٹی سخت کردی گئی، جہاں کسی بھی غیر متعلقہ فرد کو جانے کی اجازت نہیں دی جارہی۔ دھماکے کے فوری بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کردیا اور کسی بھی غیر متعلقہ فرد کو جائے وقوعہ کے وریب جانے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔

پاکستان میں خودکش حملہ ، 13 افراد ہلاک ، ایک درجن سے زائد زخمی

پولیس نے دھماکے میں ہلاکتوں میں اضافے کا نقصان کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ متعدد زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے۔ انھوں نے بتایا کہ دھماکہ کوئٹہ انتہائی حساس علاقے میں کیا گیا ہے جہاں سیکیورٹی انتہائی سخت تھی جبکہ دھماکے کے مقام سے کچھ دور ہی ایک پولیس چوکی بھی موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلستان روڈ پر قائم آئی جی کے دفتر کے قریب ہونے والے دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی اور اس کے نتیجے میں قریبی عمارتوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔ دھماکے کے فوراً بعد بی ڈی ایس کے عملہ کو جائے وقوعہ پر طلب کیا گیا۔

ادھر ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) پولیس کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ نے جائے وقوعہ پر میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق دھماکا پولیس چوکی کے قریب ہوا ہے تاہم اس بات کی تفتیش کی جارہی ہے کہ دھماکے کی نوعیت کیا تھی۔ انھوں نے دھماکے میں ایک پولیس اہلکار کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ سول ہسپتال میں زخمیوں کو علاج معالجے کی سہولیات دی جارہی ہیں۔

دھماکے کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ڈی آئی جی کا کہنا تھا کہ پولیس تفیش کے بعد ہی اصل صورت حال سامنے آسکے گی۔ بتایا گیا کہ کچھ سال قبل بھی دہشت گردوں نے اس مقام کو نشانہ بنایا تھا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک ہوئے تھے، اس واقعے کے بعد اس چوک کا نام شہدا چوک رکھا گیا تھا، جسے آج ایک مرتبہ پھر دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا۔

خیال رہے کہ کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں میں دہشت گردوں کی جانب سے فورسز کا نشانہ بنائے جانے کا سلسلہ جاری ہے جس کے بارے میں صوبائی حکومت کا دعویٰ ہے کہ صوبے میں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں میں بھارت کی خفیہ ایجنسی ’را‘ اور افغانستان کی خفیہ ایجنسی ’این ڈی ایس‘ ملوث ہے، جو مقامی علیحدگی پسند اور شدت پسند تنظیموں کو مدد فراہم کررہی ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز