پاکستانی پارلیمنٹ مین ایوان بالا کے ڈپٹی چیئرمین کے قافلے پر حملہ، 25 ہلاک، داعش نے لی ذمہ داری

May 12, 2017 07:11 PM IST | Updated on: May 12, 2017 07:12 PM IST

اسلام آباد: پاکستان کے تشدد زدہ صوبہ بلوچستان میں آج پاکستانی پارلیمنٹ کے ایوان بالا کے ڈپٹی چیئرمین کے قافلے کو نشانہ بنا کر کیے گئے حملے میں کم از کم 25 لوگوں کی موت اور کم از کم 35 لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ یہ دھماکہ کوئٹہ سے 50 کلومیٹر دور مستونگ شہر میں ہوا۔ ایک ٹی وی فوٹیج میں جائے حادثہ کے قریب شدید طورپر تباہ گاڑی کو دکھایا گیا ہے۔ پارلیمنٹ کے ایوان بالا کے نائب صدر عبد الغفور حیدری نے خبررساں ایجنسی رائٹر کو بتایا کہ دھماکے کے کچھ دیر بعد انہیں یقین ہوا کہ انہیں نشانہ بنایا گیا ہے اور دھماکے میں انہیں ہلکی چوٹیں آئی ہیں۔

انہوں نے ٹیلی فون پر بتایا کہ دھماکہ کے وقت ان کا قافلہ مستونگ کی طرف جا رہا تھا۔ بہت سارے لوگ اس واقعہ میں ہلاک ہوئے ہیں کیونکہ قافلے میں کافی لوگ شامل تھے۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر شیر احمد ستاکزئی نے کہا کہ مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 25 ہو گئی ہے اور اسپتال میں داخل دیگر دس زخمیوں کی حالت نازک بنی ہوئی ہے۔ مستونگ پولیس افسر غضنفر علی شاہ نے بتایا کہ قافلے پر شاید خود کش بم حملہ کیا گیا اور دھماکے میں کم از کم 25 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ابھی تک کسی بھی دہشت گرد تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری نہیں لی ہے۔

پاکستانی پارلیمنٹ مین ایوان بالا کے ڈپٹی چیئرمین کے قافلے پر حملہ، 25 ہلاک، داعش نے لی ذمہ داری

(Photo: Reuters/Naseer Ahmed)

قابل ذکر ہے کہ بلوچستان میں علیحدگی پسندوں نے مرکزی حکومت کے خلاف کئی دہائیوں سے مہم چھیڑ رکھا ہے۔ افغانستان اور ایران کی سرحدوں سے متصل بلوچستان صوبے میں طالبان اور دیگر اسلامی دہشت گرد گروہ بھی سرگرم ہیں۔

دریں اثنا اسلامک اسٹیٹ (داعش) نے دعوی کیا ہے کہ اس نے ڈپٹی چیئرمین کے قافلے پر خودکش بم دھماکہ کیا ہے۔ دہشت گرد گروپ کی اعماق نیوز ایجنسی نے بتایا کہ تنظیم کے ایک بمبار نے دھماکہ خیز وردی پہن کر یہ حملہ کیا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز