بنگلہ دیش میں خالدہ ضیاء کے فوٹو گرافر سمیت 27 کو عمر قید

May 11, 2017 02:20 PM IST | Updated on: May 11, 2017 02:20 PM IST

ڈھاکہ۔  بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاء کے ایک نجی فوٹو گرافر نورالدين احمد سمیت 27 لوگوں کو 1990 کے پر تشدد احتجاج کے دوران ایک نوجوان کے قتل کے معاملے میں عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ سرکاری وکیل سید شمس الحق نے کہا، ’’تیز رفتارٹریبونل نے نورالدين احمد سمیت تمام 27 ملزمان کو بنگلہ دیش تعزیرات کے آرٹیکل 149 کے تحت مجرم پایا اور انہیں عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔‘‘ جن 27 لوگوں کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے وہ سب کے سب دائیں بازو 'فریڈم پارٹی' کے رکن تھے۔ جب متعلقہ واقعہ پیش آیا تھا تب احمد فریڈم پارٹی کے احتجاجی پروگرام کا احاطہ کر رہے تھے۔ احتجاج کے دوران گولیاں چلی تھیں اور ایک شخص کی موت ہو گئی تھی۔

اس دوران احمد کے وکیل ثنااللہ میاں نے کہا کہ ان کے موکل فریڈم پارٹی کےرکن کبھی نہیں تھے اور واقعہ کے وقت وہ سرکاری طور پر فوٹوگرافی کر رہے تھے۔مسٹر مياں نے کہا، ’’احمد کو اس لیے قصوروار ٹھہرایا گیا ہے کیونکہ وہ سابق وزیر اعظم اور بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (بی این پی) کی لیڈر خالدہ ضیاء کے فوٹو گرافر ہیں۔‘‘ دفاعی وکیل نے کہا کہ احمد 1991 سے ہی سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاء کے ذاتی فوٹو گرافر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ احمد سیاسی انتقام کا شکار ہوئےہیں اوروہ اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے۔

بنگلہ دیش میں خالدہ ضیاء کے فوٹو گرافر سمیت 27 کو عمر قید

علامتی تصویر

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز