مصر: اعلی استغاثہ کے قتل میں ملوث 31 فراد کے لئے فوجداری عدالت نے تجویز کی سزائے موت

Jun 17, 2017 10:49 PM IST | Updated on: Jun 17, 2017 10:49 PM IST

قاہرہ :  قاہرہ کی فوجداری عدالت نے 2018 میں مصر کے اعلی استغاثہ کے قتل میں ملوث ہونے کے مجرم 31 افراد کے لئے سزائے موت تجویز کی۔ حالیہ برسوں میں وہ جنگجووں کے ہاتھوں ہلاک ہونے والی سب سے سینئر سرکاری افسر تھے۔  عدالت کی اعلی مذہبی اتھارٹی مفتی اعظم کو اپنی سفارشات پیش کرنے کے بعد 22 جولائی کو فیصلہ کی تاریخ طے کی ہے۔

سرکاری استغاثہ ہشام برکات کو قاہرہ میں ان کے قافلے پر کاربم حملہ کرکے ہلاک کردیا گیا تھا اس کارروائی کے لئے مصری حکومت نے اخوان المسلمین اور غزہ کے حماس جنگجوں کو موردالزام ٹہرایا تھا حالانکہ دونوں تنظیمیں اس سے انکار کرتی ہیں ۔ وزارت داخلہ نے پچھلے سال ایک ویڈیو جاری کیاتھا جس میں کئی نوجوانوں کو یہ اعتراف کرتے دکھایا گیا تھا کہ وہ حماس سے تربیت لینے غزہ گئے تھے گو بعد میں چند ایک نے عدالت میں الزامات سے انکار کردیاتھا۔

مصر: اعلی استغاثہ کے قتل میں ملوث 31 فراد کے لئے فوجداری عدالت نے تجویز کی سزائے موت

علامتی تصویر

مصر کو سینائی میں دولت اسلامیہ کی بغاوت کا سامنا ہے جہاں سیکڑوں فوجی اور پولیس والے مارے جاچکے ہیں۔ یہ تنظیم مصر میں مسلسل حملے کرکے عیسائیوں کو نشانہ بنارہی ہے وہ چرچوں میں بم دھماکے اور فائرنگ کر رہے ہیں دسمبر سے اب تک سو لوگوں کو ہلاک کرچکی ہے۔

جب 2013 میں سابق فوجی سربراہ سے صدر بنے صدر عبدالفتح السیسی نے اخوان کے رہنما صدر محمد مرسی کو اقتدار سے بے دخل کیاتھا تب سے اب تک کسی جنگجو حملہ میں مارے جانے والے وہ اعلیٰ ترین سرکاری افسر ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز