کابل میں مظاہرین پر پولیس نے کی فائرنگ، چار افراد ہلاک

Jun 03, 2017 01:36 PM IST | Updated on: Jun 03, 2017 01:36 PM IST

کابل۔  اس ہفتہ ہوئے تباہ کن ٹرک بم دھماکہ کے بعد افغان حکومت کے استعفی کا مطالبہ کرنے والے لوگوں کی فساد شکن پولیس کے ساتھ ٹکراؤ کے نتیجہ میں کم از کم چار جانیں ضائع ہوگئی ہیں۔ کل کے احتجاج سے صدر اشرف غنی کی کمزور اور بٹی ہوئی حکومت پر مزید دباؤ پڑا ہے جو حالیہ مہینوں میں سینکڑوں لوگوں کی ہلاکت کا سبب بننے والے سلسلہ وار حملوں کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔ بدھ کے روز رمضان کے آغاز میں ہونے والا یہ بم حملہ 2001 میں طالبان کے خلاف امریکی کارروائی کے بعد سے افغان راجدھانی میں ہونے والا بدترین حملہ ہے۔  صبح سویرے ایک ہزار کے قریب احتجاج کرنے والے ہلاک ہونے والوں کی تصاویر اٹھاکر دھماکہ کے مقام پر جمع ہوگئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حملہ کے لئے غنی اور چیف ایکزیکٹیو عبداللہ عبداللہ ذمہ دار ہیں۔

عورتوں نے بھی بڑی تعداد میں احتجاج میں حصہ لیا۔ ان میں شامل نیلوفر نیلگوں نے کہا ’’بین الاقوامی برادری کو ان پر دباؤ ڈال کر استعفی دینے پر مجبور کرنا چاہئے‘‘۔ وہ ملک کی قیادت کرنے کے لائق نہیں ہیں ۔ واضح رہے کہ اس حملہ میں 80 سے زیادہ افراد ہلاک اور 460 زخمی ہوئے تھے۔ مظاہرین نے جو تختیاں اٹھا رکھی تھیں ان پر ’غنی عبداللہ استعفی دو‘ لکھا ہوا تھا۔ غنی اور دیگر لیڈروں کی تصویروں کو ’’کراس‘‘ بناکر کاٹا گیا تھا۔ فساد شکن پولیس نے مظاہرین کو صدارتی محل تک جانے سے روکنے کے لئے پانی کی بوچھار اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔ پولیس ان کے سروں کے اوپر سے گولیاں چلا رہی تھی۔ کئی مظاہرین پتھر پھینک رہے تھے۔ شہر کے اطالوی ایمرجنسی ہسپتال کا کہنا ہے کہ کم از کم چار افراد ہلاک اور 15 زخمی ہوگئے ہیں ۔ کفن میں لپٹی کئی لاشوں کو مظاہرین اٹھائے ہوئے تھے۔

کابل میں مظاہرین پر پولیس نے کی فائرنگ، چار افراد ہلاک

فائل فوٹو

غنی کے دفتر سے جاری بیان میں بدھ کے حملہ کی مذمت کی گئی ہے اور مظاہرین سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ موقع پر ستوں کو اپنی تحریک سے فائدہ اٹھانے نہ دیں جو اپنے مفاد کے لئے وہاں شورش پھیلا رہے ہیں۔ پہلے سے سیاسی کشیدہ ماحول میں اس تشدد نے یہ بات اجاگر کردی ہے کہ حکومت کے لوگوں میں ہی کس طرح لوگ نسلی اور سیاسی طور پر بٹے ہوئےہیں اور کتنی ناراضگی ہے۔ عبداللہ نے ٹی وی پر لوگوں سے صبر و تحمل برتنے کی اپیل کی جس سے پتہ چلتا ہے کہ اس تشدد اور سیاستی استحکام پر اس کے اثرات کے اندیشہ سے افغانستان کے بین الاقوامی شریک کس قدر فکر مند ہوگئے ہیں۔ ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے بھی سلامتی دستوں کی کارروائی کی مذمت کی جنہوں نے عام لوگوں کی جانوں کی ذرا بھی پرواہ نہیں کی۔ اگر چند لوگوں نے پتھرا ؤ بھی کیا تھا تو یہ ان کو مارنے کا جواز نہیں بنتا۔

حکومت پر نکتہ چینی کے ساتھ ہی مظاہرین یہ مطالبہ بھی کررہے ہیں کہ حقانی نیٹ ورک کے قیدیوں کو سزائے موت دی جائے کیونکہ حملہ کے لئے اس تنظیم کو ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے۔

طالبان کا اس وقت 40 فی صد ملک پر قبضہ ہے ۔ اس ہفتہ کے حملے سے قبل ہی سال کے ابتدائی تین سال کے دوران 715 عام شہری ہلاک ہوچکے تھے، جبکہ 2016 میں 3500 مار ے گئے تھے۔ یہ عام شہریوں کے لئے سب سے زیادہ جان لیوا سال تھا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز