Live Results Assembly Elections 2018

بنگلہ دیش میں روہنگیا پناہ گزیں مشکل حالات میں: امریکی اہلکار

آبادی، پناہ گزین اور مہاجر امور کے نگراں معاون وزیر خارجہ سائمن هنشا نے ایک پریس کانفرنس میں کہا، ہم نے کیمپوں میں جو دیکھا وہ ساکت کر دینے والا تھا۔

Nov 08, 2017 01:59 PM IST | Updated on: Nov 08, 2017 01:59 PM IST

ڈھاکہ۔ امریکی اہلکار کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش میں روہنگیا پناہ گزین بڑی تعداد میں موجود ہیں اور میزبان ملک کا رخ فیاضانہ بھی ہے لیکن حالات کے پیش نظر ابھی اور کام کرنے کی ضرورت ہے۔ آبادی، پناہ گزین اور مہاجر امور کے نگراں معاون وزیر خارجہ سائمن هنشا نے ایک پریس کانفرنس میں کہا، ہم نے کیمپوں میں جو دیکھا وہ ساکت کر دینے والا تھا۔ مہاجرین خوفزدہ ہیں۔ هنشا کی قیادت میں ایک امریکی وفد 29 اکتوبر سے چار نومبر تک بنگلہ دیش کے دورے پر گیا تھا۔ یہ وفد کاکس مارکیٹ کے قریب واقع پناہ گزین کیمپوں میں بھی گیا تھا۔

معاون وزیر خارجہ نے کہا، مشکل حالات ہیں، لوگ پریشان ہیں۔ روتے ہوئے بہت سے مہاجرین نے ہمیں بتایا کہ ان کے سامنے ان کے گاؤں کو جلایا گیا، ان کے رشتہ داروں کو مار ڈالا گیا۔ انہوں نے کہا، یہ دیکھنا بہت مشکل تھا۔ کچھ لوگوں نے بتایا کہ ان پر وہاں سے فرار ہوتے وقت گولیاں چلائی گئیں۔

بنگلہ دیش میں روہنگیا پناہ گزیں مشکل حالات میں: امریکی اہلکار

روہنگیا پناہ گزیں: فائل فوٹو، رائٹرز۔

هنشا نے وضاحت کی کہ صدمے کے باوجود، بہت سے لوگوں نے اپنی سلامتی اور حقوق کی ضمانت حاصل کرنے کے بعد برما میں اپنے گھر واپس آنے کی خواہش ظاہر کی۔ میں ایک ماہر نہیں ہوں لیکن جو میں نے دیکھا وہ خوفناک تھا۔ میں نے زیادتیوں کے ثبوت دیکھے۔ امدادی کیمپوں میں ایسی صورت حال کے باوجود، هنشا نے بنگلہ دیش کی حکومت، وہاں کے لوگوں اور ان تنظیموں کی تعریف کی جو پناہ گزینوں کی مدد کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا، تاہم، اور بھی زیادہ کوششیں کئے جانے کی ضرورت ہے۔ میانمار کے رخائن صوبہ میں سیکورٹی فورسز کی زیادتی کی وجہ سے 600،000 لاکھ سے زائد روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش جانے کو مجبور ہو گئے۔ بنگلہ دیش نے میانمار پر الزام لگایا ہے کہ وہ روہنگیا کے لوگوں کو اسلامی دہشت گرد قرار دے کر وہاں سے انہیں کھدیڑ دینا چاہتا ہے۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز