استنبول کے نائٹ کلبوں میں حملے کا ملزم گرفتار

استنبول۔ ترکی کے استنبول میں نئے سال کے موقع پر ایک نائٹ کلب میں حملے کے مشتبہ ملزم کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔

Jan 17, 2017 05:34 PM IST | Updated on: Jan 17, 2017 05:34 PM IST

استنبول۔  ترکی کے استنبول میں نئے سال کے موقع پر ایک نائٹ کلب میں حملے کے مشتبہ ملزم کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ حملے میں 39 افراد مارے گئے تھے۔ میڈیا رپورٹس میں آج یہ اطلاع دی گئی۔ حریت اخبار کی ویب سائٹ کے مطابق مشتبہ حملہ آورعبدالقادر ماشاریپوف کو استنبول کے ایسن یورت علاقے سے پکڑا گیا ہے۔گرفتاری کے وقت وہ اپنے چار سالہ بیٹے کے ساتھ تھا۔ تاہم ان رپورٹوں کی تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔ واضح رہے کہ گذشتہ ایک جنوری کو رائنا نائٹ کلب میں حملہ آور نے خودکار رائفل سے اندھا دھند گولیاں چلائیں، جس سے 39 افراد کی موت ہو گئی۔پولیس نے اس معاملے میں پہلے کئی لوگوں کو حراست میں لیا تھا۔ دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ نے حملے کی ذمہ داری لیتے ہوئے کہا تھا کہ شام میں سرگرم ترک فوج کی کارروائی کے انتقام میں اسے انجام دیا گیا ہے۔

رائنا کلب کے حملے میں مقامی باشندوں کے علاوہ اسرائیل، فرانس، بیلجیئم تیونس، لبنان، انڈیا، اردن اور سعودی عرب کے شہری ہلاک یا زخمی ہوئے تھے۔ 31 دسمبر اور یکم جنوری کی رات کو ایک حملہ آور ٹیکسی کے ذریعے کلب پہنچا اور گاڑی کی ڈکی سے لمبی نال والی بندوق نکال کر فائرنگ شروع کر دی۔ آبنائے باسفورس پر واقع رائنا استنبول کے مشہور ترین نائٹ کلبوں میں سے ایک تھا۔ یہاں دنیا کے مختلف حصوں سے سیاحوں کے علاوہ گلوکار، اداکار اور کھلاڑی آیا کرتے تھے۔ ذرائع کے مطابق اس گرفتاری سے ترک حکام کے سر سے بہت بھاری بوجھ اتر گیا ہو گا۔ تاہم ابھی ان کے لیے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ انٹیلی جنس کارروائیوں میں تیزی لاتے ہوئے دہشت گردی کی اس لہر پر بند باندھنے کی کوشش کریں جس نے ترکی کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ ترک میڈیا کے مطابق عبدالقادر نے وسطی ترکی کے شہر قونیہ میں ایک فلیٹ کرائے پر لیا تھا اور وہ وہاں ایک عورت، جس کے بارے میں خیال ہے کہ وہ ان کی بیوی ہے اور دو بچوں کے ساتھ رہتا تھا۔

استنبول کے نائٹ کلبوں میں حملے کا ملزم گرفتار

ترکی کے این ٹی وی نے کہا ہے کہ پولیس نے انھیں ایک قرغز دوست کے گھر سے گرفتار کیا۔ گھر میں موجود پانچ دیگر افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے، جِن میں تین خواتین شامل ہیں، جب کہ بچے کو سرکاری تحویل میں دے دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پولیس نے گذشتہ ہفتے مشتبہ شخص کا اتا پتا معلوم کر لیا تھا؛ لیکن اُس کے آنے جانے اور رابطوں پر نگاہ رکھنے کی غرض سے چھاپہ تاخیر سے مارا گیا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ پولیس منگل کی صبح ایک اخباری کانفرنس میں مزید تفصیل جاری کرے گی۔ مشریپوف کو پکڑنے کے لیے کئی دِنوں سے بڑی نفری کام کر رہی تھی، جب کہ ترک میڈیا نے گذشتہ ہفتے بتایا تھا کہ اصل مشتبہ شخص ایک ازبک شہری ہے۔ حملے کے بعد مشکوک افراد کی تلاشی کے دوران 40 سے زیادہ غیر ملکی شہریوں کو شاملِ تفتیش کیا گیا تھا۔

ترک میڈیا پر ایک تصویر گردش کر رہی ہے جس میں ایک شخص نے خون آلود قمیص پہن رکھی ہے اور اس کے منھ پر زخموں کے نشان ہیں۔ ترک اخبار حریت کے مطابق تفتیش سے قبل اس کا طبی معائنہ کروایا جائے گا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز