افغان وزیر دفاع اور آرمی چیف کا استعفی منظور

Apr 24, 2017 09:57 PM IST | Updated on: Apr 24, 2017 09:57 PM IST

کابل۔  افغانستان کے صدر جمہوریہ اشرف غنی نے شمالی شہر مزار شریف کے ایک فوجی اڈے پر طالبان حملے کے بعد وزیر دفاع اور فوج کے سربراہ کا استعفی آج منظور کر لیا۔

صدر کے دفتر نے یہ اطلا ع آج دی ہے۔ افغان صدر دفتر کے ذرائع کے مطابق افغانستان کے وزیرِ دفاع اور ملک کی برّی فوج کے سربراہ نے طالبان کے حملے میں درجنوں فوجیوں کی ہلاکت کے واقعے کے بعد استعفیٰ دے دیا ہے۔ واضح رہے کہ مزار شریف میں گزشتہ ہفتے ایک فوجی اڈے پر طالبان کے حملے میں 140 سے زائد فوجی ہلاک ہوگئے تھے ، جبکہ متعدد دیگر زخمی ہو گئے تھے۔ مزار شریف کے فوجی اڈے پر طالبان کے حملے میں ہلاکتوں کی حتمی تعداد اب بھی واضح نہیں ، بعض عینی شاہدین نے رائٹر کو بتایا ہے کہ انھوں نے 165 لاشیں گنی ہیں۔

افغان وزیر دفاع اور آرمی چیف کا استعفی منظور

افغان فوجی: تصویر، رائٹرز

یہ 2001 میں طالبان کو اقتدار سے الگ کیے جانے کے بعد سے ان کی جانب سے کیا جانے والا سب سے زيادہ ہلاکت خیز حملہ تھا۔ صدارتی محل نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ وزیر دفاع عبداللہ حبيبي اور فوج کے سربراہ قدم شاہ شہیم نے فوری طور پر استعفی دے د یئے ہیں اور صدر جمہوریہ نے ان کا استعفی قبول کر لیا ہے۔ مسٹر اشرف غنی کے ترجمان شاہ حسین مرتظوی نے رائٹر کو بتایا کہ جمعہ کو مزار شریف شہر میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی وجہ استعفی د یا گیا ہے۔ دریں اثناء، چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کے دفتر کے ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر اشرف غنی نے طارق شاہ بہرامی کو وزراتِ دفاع کا نگراں وزیر جبکہ شریف یفتلی کو نیا فوجی سربراہ تعینات کیا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز