افغانستان : صدر اشرف غنی کا حجاب کو لے کر متنازع بیان ، تاہم بعد میں خواتین سے مانگی معافی

Dec 04, 2017 04:52 PM IST | Updated on: Dec 04, 2017 04:52 PM IST

کابل: افغانستان کے صدر اشرف غنی نے حجاب کے بارے میں اپنے ایک متنازع بیان پر خواتین سے معذرت کی ہے۔ ہفتہ کو افغان صدر اشرف غنی نے بعض حکومتی اہلکاروں کے خود کو دولت اسلامیہ کہنے والی شدت پسند تنظیم سے تعلق کے بارے میں کیے جانے والے سوالات کے جواب میں کہا تھا کہ لوگ شواہد مہیا کریں یا عورتوں کی طرح حجاب پہن لیں۔اس پر لوگوں نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے اسے جنسی تعصب پر مبنی بیان قرار دیا تھا۔

اس کے بعد افغان صدر کہا ہے کہ وہ ان خواتین سے معذرت کرتے ہیں جنھیں یہ ناگوار لگا اور ان کے بیان کو غلط انداز میں پیش کیا گیا۔افغان صدارتی محل سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق’ صدر خواتین کے حقوق کے سرکردہ حمایتی ہیں اور جب سے افغانستان کے صدر کا عہدہ سنبھالا ہے اس وقت سے خواتین کی پوزیشن کو بحال اور مستحکم کرنے کے لیے منفرد اقدامات اٹھائے ہیں۔‘

افغانستان : صدر اشرف غنی کا حجاب کو لے کر متنازع بیان ، تاہم بعد میں خواتین سے مانگی معافی

افغانستان کے صدر اشرف غنی۔ فائل فوٹو

بیان کے مطابق’ صدر کی جانب سے چادر کے لفظ کے استعمال کو غلط مفہوم میں لیا گیا۔‘بی بی سی فارسی کے نامہ نگار سہراب سیرت کے مطابق افغان صدر کے روایتی اسکارف کے بارے میں بیان کے بعد شرکا کی جانب سے انھیں خوب داد موصول ہوئی تاہم ایک دن کے بعد ہی انھیں خواتین سے معذرت کرنا پڑی۔ بہت ساروں کے خیال میں صدر اپنے ناقدین کو کہنا چاہتے تھے کہ وہ خاتون بن جائیں اور اس طرح کمتری ظاہر کرنا چاہتے تھے۔

سول سوسائٹی نے سوشل میڈیا پر اس معاملے کو اٹھایا اور صدر سے اپنے بیان پر معافی کا مطالبہ کیا۔اس کے علاوہ بعض حکومتی اہلکاروں اور خواتین رکن پارلیمان نے بھی غصے کا اظہار کیا۔اس میں اہم پہلو یہ ہے کہ افغانستان میں اکثریت مسلمانوں کی ہے جہاں زیادہ تر خواتین حجاب پہنتی ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز